Rah e Haq Ke Shaheedon Ki Dastan (2)
راہ حق کے شہیدوں کی داستاں (2)

مکہ سے روانگی کے بعد امام حسینؑ کا قافلہ عراق کی سمت رواں تھا راستے میں مختلف قبائل اور مسافروں سے ملاقاتیں ہوئیں بعض نے خیر خواہی کے جذبے سے عرض کیا کہ کوفہ کے لوگوں پر اعتماد نہ کیجیے ان کی وفاداریاں بدل جاتی ہیں مگر امام حسینؑ کا سفر کسی حکومت کے حصول کے لیے نہیں تھا کہ راستے کی سیاسی خبریں ان کے فیصلے بدل دیتیں آپؑ ایک اصول کی حفاظت کے لیے نکلے تھے اور اصول حالات کے تابع نہیں ہوتے راستے میں مقامِ زرود اور پھر ثعلبیہ کے قریب امام حسینؑ کو نہایت دردناک خبر ملی کہ آپؑ کے سفیر حضرت مسلم بن عقیلؑ اور ان کے وفادار ساتھی حضرت ہانی بن عروہؓ کو کوفہ میں شہید کر دیا گیا ہے۔ یہ خبر قافلے پر بجلی بن کر گری جن لوگوں نے ہزاروں خطوط لکھ کر امام حسینؑ کو بلایا تھا انہی میں سے اکثر خوف لالچ یا جبر کے باعث پیچھے ہٹ چکے تھے۔
امام حسینؑ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ حالات بدل چکے ہیں جو شخص واپس جانا چاہے وہ بلا جھجھک واپس جا سکتا ہے آپؑ نے کسی کو اپنے ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کیا کچھ لوگ واپس چلے گئے مگر اہلِ بیتؑ اور وہ وفادار اصحاب جو حق کے لیے نکلے تھے وہ جانتے تھے کہ اب یہ سفر دنیاوی کامیابی کا نہیں بلکہ ابدی عزت کا سفر ہے۔ اسی دوران یزیدی لشکرکے ایک سپہ سالار حر بن یزید ریاحی ایک ہزار سواروں کے ساتھ امام حسینؑ کے سامنے آ کھڑے ہوئے انہیں حکم تھا کہ امام حسینؑ کو نہ مدینہ واپس جانے دیا جائے اور نہ کوفہ پہنچنے دیا جائے۔ شدید گرمی تھی حر کے لشکرکے پاس پانی ختم ہو چکا تھا اس موقع پر امام حسینؑ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ دشمن کے سپاہیوں اور ان کے گھوڑوں تک کو پانی پلایا جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں کو چند روز بعد امام حسینؑ کے بچوں پر پانی بند کرنے کا حکم دیا گیا انہیں سب سے پہلے پانی بھی امام حسینؑ نے ہی پلایا تھا یہی حسینی کردار تھا جو دشمنی میں بھی انسانیت کو فراموش نہیں کرتا۔
حر نے امام حسینؑ سے عرض کیا کہ وہ آپؑ کو کوفہ نہیں جانے دے گا امام حسینؑ نے فرمایا کہ اگر کوفہ والے اپنے وعدے سے پھر گئے ہیں تو میں واپس چلا جاتا ہوں لیکن یہ اجازت بھی نہ دی گئی یوں قافلے کو ایک ایسے راستے پر چلایا گیا جہاں نہ واپسی تھی اور نہ آزادی آخرکار 2 محرم 61 ہجری کو یہ قافلہ دریائے فرات کے قریب ایک بے آب و گیاہ میدان میں پہنچا۔ امام حسینؑ نے اس سرزمین کا نام دریافت کیا بتایا گیا اس جگہ کا نام کربلا ہے آپؑ نے فرمایا کہ یہی وہ جگہ ہے جس کی خبر میرے نانا رسول اللہ ﷺ نے دی تھی پھر آپؑ نے وہیں قیام کا فیصلہ فرمایا یہ میدان بظاہر ایک ویران صحرا تھا لیکن چند ہی دنوں میں یہی زمین رہتی دنیا تک آزادی، عزت اور حق کی علامت بن گئی۔
کربلا پہنچنے کے بعد امام حسینؑ نے اس زمین کے مالک کے بارے میں دریافت فرمایا متعدد تاریخی روایات کے مطابق یہ زمین بنو اسد قبیلے کے چند افراد کی ملکیت تھی۔ بہت سی روایات میں مذکور ہے کہ امام حسینؑ نے اس زمین کو خرید لیا تاکہ آپؑ اور آپ کے ساتھی کسی کی ملکیت میں بلا اجازت نہ ٹھہریں۔ اسلام میں دوسرے کی زمین پر اس کی اجازت کے بغیر تصرف کو پسند نہیں کیا جاتا اور امام حسینؑ نے اپنے عمل سے اس اصول کی عملی مثال قائم کی زمین کی قیمت کتنی تھی اس بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں۔
بعض روایات میں قیمت ساٹھ ہزار (60,000) درہم بیان ہوئی ہے۔ بعض میں انیس ہزار (19,000) درہم یا اس سے مختلف اعداد بھی ملتے ہیں۔ تاہم ان اعداد پر تمام مؤرخین کا اتفاق نہیں ہے مگر کثرت روایت ساٹھ ہزار ملتی ہے۔
خریداری کی شرائط
روایات کے مطابق امام حسینؑ نے زمین خریدتے وقت چند اہم شرائط رکھی تھیں۔۔
اوّل: اس مقام پر آنے والے زائرین اور محبانِ اہلِ بیتؑ کی رہنمائی کی جائے تاکہ وہ شہداء کی قبور تک پہنچ سکیں۔
دوم: زائرین کی تین دن تک مہمان نوازی کی جائے انہیں پانی، خوراک اور حسبِ استطاعت آرام کی سہولت فراہم کی جائے۔
سوم: اس سرزمین کو اہلِ بیتؑ کی یادگار اور زیارت گاہ کے طور پر محفوظ رکھا جائے تاکہ آنے والی نسلیں اس قربانی کو فراموش نہ کریں۔
یہ شرائط صرف ایک زمین کے سودے کی شرائط نہیں تھیں بلکہ درحقیقت امام حسینؑ مستقبل کی تاریخ لکھ رہے تھے آپؑ جانتے تھے کہ ایک دن یہی ویران صحرا انسانیت کے ضمیر کا مرکز بن جائے گا اور کسی بھی تحریک کا مرکز ٹھرے گا بعض تاریخی روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ امام حسینؑ نے زمین خریدنے کے بعد اسے بنو اسد ہی کو واپس ہبہ یا منتقل کر دیا، اس شرط کے ساتھ کہ وہ زائرین کی خدمت اور رہنمائی کرتے رہیں۔
اسی لیے بعد میں یہی قبیلہ یعنی بنو اسد، واقعۂ عاشورا کے بعد امام حسینؑ اور دیگر شہداء کی تدفین کی سعادت حاصل کرنے والوں میں شامل ہوا تاہم یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ زمین کی واپسی یا ہبہ کرنے کی روایت تمام قدیم تاریخی مصادر میں یکساں مضبوط سند کے ساتھ موجود نہیں ہے اسے متعدد بعد کے مقتل اور تاریخی مصادر نے نقل کیا ہے جبکہ بعض ابتدائی مؤرخین نے اس کی صراحت نہیں کی۔
اس واقعے سے ایک عظیم اخلاقی سبق ملتا ہے امام حسینؑ اس زمین پر چند دن کے مہمان تھے وہ جانتے تھے کہ چند ہی دن بعد وہ اور ان کے ساتھی شہید ہو جائیں گے مگر اس کے باوجود انہوں نے کسی کی ملکیت میں بلا اجازت قیام کو مناسب نہ سمجھا یہ کردار ہمیں سکھاتا ہے کہ اسلام میں مقصد کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو دوسروں کے حقوق کا احترام اس سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ کربلا کی زمین صرف خریدی نہیں گئی تھی بلکہ اس پر عدل، امانت، احترامِ ملکیت اور آنے والی نسلوں کے لیے حق کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھنے کی بنیاد بھی رکھی گئی تھی شاید یہی وجہ ہے کہ آج چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود کربلا صرف ایک مقام نہیں بلکہ انسانی ضمیر کی سب سے بڑی درسگاہ بن چکی ہے۔
کربلا میں خیمے نصب ہوئے ادھر یزید کی طرف سے لشکر مسلسل بڑھتا گیا ہزاروں مسلح سپاہیوں نے چند درجن جانثاروں کو گھیر لیا طاقت کا توازن یکسر مختلف تھا مگر امام حسینؑ کی نگاہ تعداد پر نہیں بلکہ سچائی پر تھی 7 محرم کو عبید اللہ بن زیاد کے حکم پر دریائے فرات کا پانی امام حسینؑ کے خیموں پر بند کر دیا گیا پیاس نے بچوں، عورتوں اور بزرگوں کو بے چین کر دیا معصوم بچے پانی مانگتے تھے مگر جواب میں نیزے اور تلواریں تھیں اس کے باوجود امام حسینؑ نے جنگ میں پہل نہیں کی اور آخری لمحے تک صلح، انصاف اور حق کی بات کرتے رہے 9 محرم کو دشمن نے جنگ کی تیاری مکمل کر لی امام حسینؑ نے ایک رات کی مہلت مانگی تاکہ اپنے رب کی عبادت، دعا، تلاوتِ قرآن اور استغفار کر سکیں یہ رات تاریخ میں شبِ عاشور کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔
اسی رات امام حسینؑ نے اپنے تمام ساتھیوں کو جمع فرمایا چراغ گل کر دیا اور ارشاد فرمایا کہ دشمن صرف میرا دشمن ہے مجھے مارنا چاہتا ہے تم میں سے جو جانا چاہے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر چلا جائے میں اپنی بیعت تم سب سے اٹھاتا ہوں مجھے تم سے کسی قسم کا کا کوئی گلہ نہیں اور نہ میں آپ سے ناراض ہونگا اسلئے جو جانا چاہتا ہے آرام سے چلا جائے روشنی گل کرنے کا مقصد تھا کہ کوئی جاتے ہوئے شرمندگی محسوس نہ کرے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر آرام سے چلا جائے مگر وفاداری کی وہ مثال قائم ہوئی جس کی نظیر تاریخ میں کم ملتی ہے حضرت عباسؑ، حضرت علی اکبرؑ، حضرت قاسمؑ، حبیب ابن مظاہرؓ، مسلم بن عوسجہؓ، زہیر بن قینؓ اور دیگر جانثاروں نے ایک زبان ہو کر عرض کیا اے فرزندِ رسولﷺ! کیا ہم آپؑ کو تنہا چھوڑ دیں خدا کی قسم! اگر ہمیں ستر مرتبہ بھی قتل کرکے زندہ کیا جائے تو بھی ہم آپؑ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔
شبِ عاشور عبادت، وفا، صبر اور یقین کی رات تھی جبکہ دوسری طرف دشمن کے خیموں میں جنگ کی تیاریاں تھیں صبح ایک ایسی طلوع ہونے والی تھی جو رہتی دنیا تک حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کن لکیر کھینچ دے گی۔
جاری ہے۔۔

