Sunday, 21 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Rah e Haq Ke Shaheedon Ki Dastan (1)

Rah e Haq Ke Shaheedon Ki Dastan (1)

راہ حق کے شہیدوں کی داستاں (1)

تاریخ کے اوراق میں بے شمار جنگیں، فتوحات، سلطنتیں اور بادشاہ گزرے ہیں کسی نے تلوار کے زور پر زمینیں فتح کیں کسی نے خزانے لوٹے، کسی نے محلات تعمیر کیے اور کسی نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے انسانوں کے ضمیر خرید لیے مگر وقت کا سب سے بے رحم قاضی یعنی تاریخ آخرکار یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کون فاتح تھا اور کون شکست خوردہ۔ یہی وجہ ہے کہ جن تختوں پر کبھی دنیا جھکتی تھی آج ان کے آثار بھی مٹ چکے ہیں لیکن کربلا کی تپتی ریت پر بہنے والا خون آج بھی کروڑوں انسانوں کے ضمیر کو زندہ کرتا ہے۔

یہ عجیب داستان ہے کہ یہاں تلواریں ایک طرف تھیں اور حق دوسری طرف لشکر ایک طرف تھا اور کردار دوسری طرف اقتدار ایک طرف تھا اور صداقت دوسری طرف بظاہر فتح یزید کے لشکر کی ہوئی۔ مگر تاریخ نے اس کے نام کو ظلم جبر اور استبداد کی علامت بنا دیا جبکہ امام حسینؑ اور ان کے جان نثار شہداء کو عزت، آزادی، وفا اور حق کی دائمی علامت قرار دیا۔ یہی کربلا کا وہ معجزہ ہے جسے نہ وقت مٹا سکا نہ سلطنتیں دبا سکیں اور نہ ہی طاقت کی چمک اس کے نور کو مدھم کر سکی۔

کربلا صرف ایک معرکہ نہیں تھا بلکہ انسانی ضمیر کا سب سے بڑا امتحان تھا یہ چند گھنٹوں کی جنگ نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ایک پیغام تھا، جو ہر اس انسان سے مخاطب ہے جس کے سامنے کبھی حق اور باطل میں سے کسی ایک کا انتخاب آ کھڑا ہو اس میدان میں صرف بہتر جانثاروں نے اپنی جانیں قربان نہیں کیں بلکہ حق نے ہمیشہ کے لیے باطل سے اپنا راستہ جدا کر لیا یہاں ہر شہید ایک کردار ہے ہر قربانی ایک درس ہے ہر قطرۂ خون ایک اعلان ہے اور ہر لاش انسانیت کے نام ایک وصیت ہے کہ ظلم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اگر حق پر کھڑے ہونے والے زندہ ہوں تو باطل کبھی تاریخ کا فاتح نہیں بن سکتا۔

یہ سلسلہ صرف شہادتوں کا تذکرہ نہیں بلکہ ان نفوسِ قدسیہ کی زندگی کردار، وفاداری، ایثار، صبر اور مقصد کا آئینہ ہے جنہوں نے امام حسینؑ کے ساتھ رہ کر دنیا کو یہ سکھایا کہ حق کی راہ میں قربانی دی جاتی ہے سودا نہیں کیا جاتا یہ ان لوگوں کا قصہ ہے جنہوں نے اپنی گردنیں کٹوا دیں مگر ضمیر نہ بیچا، جنہوں نے پیاس برداشت کر لی مگر ظلم کے سامنے ہاتھ نہ پھیلایا اور جنہوں نے اپنی جان دے کر رہتی دنیا تک انسان کو عزت کے ساتھ جینے کا سلیقہ سکھا دیا۔

قصۂ راہِ حق دراصل انہی شہیدانِ کربلا کی لازوال داستان ہے ایک ایسی داستان جو صرف پڑھی نہیں جاتی بلکہ انسان کے باطن میں اتر کر اس سے ایک سوال کرتی ہے اگر تم اس قافلے کے زمانے میں ہوتے تو کس صف میں کھڑے ہوتے کربلا کی داستان صرف دسویں محرم کی چند ساعتوں کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسے سفر کا عنوان ہے جو مدینہ کی گلیوں سے شروع ہوا اور کربلا کی تپتی ریت پر انسانیت کے ابدی منشور میں تبدیل ہوگیا اگر ہم صرف عاشور کے دن کو دیکھیں گے تو قربانی نظر آئے گی لیکن اگر مدینہ سے کربلا تک کے پورے سفر کو سمجھیں گے تو معلوم ہوگا کہ امام حسینؑ نے تلوار اٹھانے سے پہلے صبر حکمت دلیل اور امن کے تمام راستے اختیار کیے تھے۔

سن 60 ہجری میں یزید اقتدار پر قابض ہوا اس کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ رسولِ اکرم ﷺ کے نواسے حضرت امام حسینؑ، اس کے ہاتھ پر بیعت کریں تاکہ اس کی حکومت کو مذہبی جواز مل جائے۔ یزید جانتا تھا کہ اگر امام حسینؑ جھک گئے انکے ہاتھ بیعت کی تو پھر حق اور باطل کے درمیان کوئی لکیر باقی نہیں رہے گی۔ مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ کو حکم ملا کہ امام حسینؑ سے فوراً بیعت لی جائے اور اگر وہ انکار کریں تو سخت اقدام کیا جائے رات کے وقت امام حسینؑ کو گورنر کے محل میں بلایا گیا وہاں مروان بن حکم بھی موجود تھا جس نے مشورہ دیا کہ اگر حسینؑ بیعت نہ کریں تو انہیں قتل کر دیا جائے امام حسینؑ نے نہایت وقار اور استقامت سے فرمایا کہ بیعت جیسا معاملہ چھپ کر نہیں ہو سکتا اور پھر وہ تاریخی مؤقف اختیار کیا جس کی گونج آج بھی آزادی کے متوالوں کے دلوں میں سنائی دیتی ہے کہ

مجھ جیسا شخص یزید جیسے شخص کی بیعت نہیں کر سکتا

یہ انکار کسی ذاتی دشمنی کا اظہار نہیں تھا بلکہ ایک اصولی اعلان تھا کہ ظلم، جبر، بدعنوانی اور دین کو اقتدار کی غلامی میں دینے والے نظام کو قبول نہیں کیا جا سکتا امام حسینؑ جانتے تھے کہ اگر وہ مدینہ میں رہتے تو رسول اللہ ﷺ کے شہر میں خونریزی کا خطرہ پیدا ہو جاتا انہوں نے مدینہ کو جنگ کا میدان بنانے کے بجائے خاموشی سے ہجرت کا راستہ اختیار کیا روانگی سے پہلے آپؑ نے اپنے نانا رسولِ اکرم ﷺ کے روضۂ اقدس پر حاضری دی دعا کی اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ مدینہ کو الوداع کہا یہ لمحہ تاریخ کے سب سے دردناک لمحات میں شمار ہوتا ہے کیونکہ نواسۂ رسولﷺ اپنے ہی نانا کے شہر سے ظلم کے ہاتھوں ہجرت پر مجبور ہو رہا تھا۔

امام حسینؑ نے مکہ مکرمہ کا رخ کیا مکہ امن کا شہر تھا جہاں مختلف علاقوں سے آنے والے مسلمان موجود تھے وہاں آپؑ نے کسی بغاوت یا لشکر کشی کا اعلان نہیں کیا بلکہ لوگوں کو دین کی اصل روح، عدل اور اصلاح کی دعوت دی۔ اسی دوران کوفہ سے ہزاروں خطوط اور سیکڑوں قاصد آئے ان سب کا پیغام ایک ہی تھا اے فرزندِ رسولﷺ! ہمارے پاس آئیے ہم آپؑ کو اپنا امام اور رہنما مانتے ہیں امام حسینؑ نے جلد بازی کے بجائے پہلے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؑ کو کوفہ بھیجا تاکہ وہاں کے حالات کا جائزہ لیا جا سکے ابتدا میں ہزاروں لوگوں نے مسلم بن عقیلؑ کے ہاتھ پر بیعت کی لیکن جب یزید نے عبید اللہ بن زیاد کو کوفہ کا گورنر بنا کر بھیجا تو اس نے دھمکی لالچ اور ظلم کے ذریعے لوگوں کو منتشر کر دیا نتیجتاً حضرت مسلم بن عقیلؑ تنہا رہ گئے اور شہید کر دیے گئے۔

ادھر مکہ میں امام حسینؑ کو اطلاع ملی کہ یزید نے انہیں حرمِ کعبہ کے اندر بھی قتل کرنے کی سازش تیار کر لی ہے۔ امام حسینؑ نے خانۂ کعبہ کی حرمت کو ہر قیمت پر محفوظ رکھنے کے لیے حج کو عمرے میں تبدیل کیا اور مکہ سے روانہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت تھا کہ آپؑ اپنی جان کی قربانی تو دے سکتے تھے مگر اللہ کے گھر کی بے حرمتی برداشت نہیں کر سکتے تھے یہیں سے مدینہ سے شروع ہونے والا سفر ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا جہاں منزل اقتدار نہیں بلکہ حق کی بقا دین کی حفاظت اور انسانیت کی رہنمائی تھی۔

جاری ہے۔۔

Check Also

Rah e Haq Ke Shaheedon Ki Dastan (1)

By Shair Khan