Mujhe Kyun Nikala
مجھے کیوں نکالا

سیاست میں بعض جملے صرف الفاظ نہیں ہوتے وہ اپنے بولنے والے کا تعارف نامہ بن جاتے ہیں کچھ لوگ پوری زندگی کتابیں لکھتے ہیں مگر ایک جملہ ان کی شخصیت کا خلاصہ بن جاتا ہے۔ ہمارے سیاسی منظرنامے میں مجھے کیوں نکالا بھی ایسا ہی ایک جملہ ہے جو برسوں گزرنے کے باوجود اپنے خالق کا تعاقب کر رہا ہے۔ یہ سوال پہلی بار جب عوام کے سامنے آیا تو اسے ایک سیاسی مظلومیت کی داستان بنا کر پیش کیا گیا یوں محسوس کرایا گیا جیسے کسی بے گناہ شخص کے ساتھ ظلم ہوا ہو جیسے کسی مسیحا کو قوم سے چھین لیا گیا ہو لیکن وقت بڑا بے رحم منصف ہوتا ہے وہ جذبات کی عدالت میں نہیں حقائق کی عدالت میں فیصلے سناتا ہے۔ سوال یہ نہیں تھا کہ مجھے کیوں نکالا؟ سوال یہ تھا کہ جس شخص نے دہائیوں تک اقتدار کے ایوانوں میں وقت گزارا جسے بار بار حکومت ملی جس کے خاندان نے نسلوں تک اقتدار کے مزے لوٹے وہ آج بھی قوم کو اپنی کارکردگی کے بجائے اپنی مظلومیت کیوں بیچ رہا ہے؟
کل ہی گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں بھی یہی پرانا قصہ دہرایا گیا دس منٹ کی تقریر میں ترقی روزگار، تعلیم صحت اور عوامی مسائل سے زیادہ جگہ مجھے کیوں نکالا؟ نے لے لی اس بے تعقل کے پاس اسکے علاوہ کہنے کو کچھ نہ تھا۔ حیرت اس بات پر ہوئی کہ ایک ایسا خطہ جو خود آئینی حقوق سے محروم ہے جہاں نوجوان روزگار کے لیے دربدر ہیں جہاں وسائل کی ملکیت کے سوالات دہائیوں سے جواب مانگ رہے ہیں وہاں بھی سیاست کا محور ذاتی شکوے کو بنایا گیا۔ تقریر میں عوام سے گلہ کیا گیا کہ جب مجھے نکالا گیا تو آپ نے آواز کیوں بلند نہیں کی؟ یہ سوال سنتے ہی ذہن میں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے جب آپ خود علاج اور بیماری کے نام پر ملک سے باہر جانے میں عافیت محسوس کر رہے تھے جب آپ نے لندن کی فضاؤں کو وطن کی فضاؤں پر ترجیح دی جب آپ خود اپنے قدموں سے روانہ ہوئے مرضی سے بھاگتے ہیں تو پھر عوام پر یہ ذمہ داری کیسے عائد ہوگئی کہ وہ آپ کو روکنے کے لیے سڑکوں پر نکل آتے انکو کیا ضرورت پڑی کہ وہ آپکے میدان میں آئیں۔
عوام کی اپنی زندگیاں ہوتی ہیں اپنے دکھ ہوتے ہیں اپنے مسائل ہوتے ہیں وہ کسی ایک سیاست دان کی ذات کے محافظ نہیں ہوتے ان کا کام یہ نہیں کہ وہ ہر بار اقتدار سے محروم ہونے والے لیڈر کے لیے ماتم کدہ سجائیں۔
سیاست دان اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ عوام ان کے گرد گھومتی ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کامیاب سیاست دان وہ ہوتا ہے جو عوام کے گرد گھومے ان کے مسائل سنے ان کے زخموں پر مرہم رکھے لیکن جب سیاست دان اپنی ذات کو قوم سے بڑا سمجھنے لگے تو پھر تقریروں میں ملک کم اور میں زیادہ نظر آنے لگتا ہے۔
گلگت بلتستان کے لوگوں کو شاید یہ سوال زیادہ پریشان کرتا ہے کہ ہمیں کیوں محروم رکھا گیا۔ ہمیں آئینی شناخت کیوں نہیں ملی ہمارے وسائل پر دوسروں کا اختیار کیوں ہے ہمارے نوجوان بے روزگار کیوں ہیں ہماری آواز ایوانوں میں کمزور کیوں ہے لیکن افسوس یہاں بھی ایک قومی مسئلے کو ذاتی شکوے نے نگل لیا۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا بھر کی جمہوریتوں میں سیاست دان اپنی کامیابیوں کا حساب دیتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے کیا کیا۔ ہمارے ہاں سیاست دان اپنی ناکامیوں کا حساب مانگتے ہیں وہ پوچھتے ہیں کہ مجھے کیوں ہٹایا گیا مجھے کیوں روکا گیا۔ مجھے کیوں نہیں جتایا گیا گویا ساری سیاست عوامی خدمت نہیں بلکہ ذاتی اقتدار کے گرد گھومتی ہے۔
پرانی کہاوت ہے عقل نہ ہوئے تو موجاں ہی موجاں، عقل ہوئے تو سوچاں ہی سوچاں۔ یہ کہاوت بعض اوقات ایسی شخصیات پر پوری اترتی ہے جو ہر واقعے میں سازش دیکھتی ہیں مگر اپنے کردار کا جائزہ لینے کے لیے تیار نہیں ہوتیں جو ہر شکست کا الزام دوسروں پر ڈال دیتی ہیں مگر کبھی آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے سوال نہیں کرتیں اپنی گریبان میں نہیں جاگتی۔
سیاست میں وقت سب سے بڑا استاد ہوتا ہے جو اس سے سبق سیکھ لے وہ رہنما بن جاتا ہے اور جو نہ سیکھے وہ ایک ہی جملے کا قیدی بن جاتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ برسوں گزر جانے کے باوجود کچھ لوگ آج بھی اسی سوال کے گرد چکر کاٹ رہے ہیں مجھے کیوں نکالا؟
جبکہ قوم ایک مختلف سوال کا جواب چاہتی ہے آپ کو بار بار موقع ملا پھر آپ نے قوم کو کیا دیا؟ اب یہاں مجھے کیوں نکالا کا جواب یہ بنتا ہے تمہیں تمہاری بری حرکتوں بددیانتی چوری کی وجہ سے نکالا جھوٹ بولنے پر نکالا۔۔

