Islami Libade Mein Kalay Dhanday
اسلامی لبادے میں کالے دھندے

معاشرہ اُس وقت سب سے زیادہ خطرناک موڑ پر پہنچ جاتا ہے جب دھوکہ صرف بازاروں میں نہیں بلکہ مذہب کے نام پر بکنے لگے جب سفید لباس، لمبی داڑھی، مذہبی القابات اور روحانی گفتگو لوگوں کے اعتماد کو لوٹنے کا ذریعہ بن جائیں تو پھر نقصان صرف مالی نہیں رہتا بلکہ پوری قوم کا اخلاقی ڈھانچہ ٹوٹنے لگتا ہے۔
آج ہمارے اردگرد یہی المیہ شدت سے دکھائی دیتا ہےکل تک جو شخص بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتا تھا دولت کی نمائش کرتا تھا، لوگوں میں پیسے بانٹتا تھا اور خود کو ایک مذہبی و سماجی شخصیت کے طور پر پیش کرتا تھا آج اسی کے گرد سوالات کا ایک طوفان کھڑا ہے۔ بظاہر سخاوت اور روحانیت کے پردے کے پیچھے ایک ایسا نظام چل رہا تھا جس میں لوگوں کو پیسہ ڈبل ہونے کے خواب دکھائے گئے سادہ لوح عوام کو لالچ اعتماد اور مذہبی تاثر کے ذریعے ایسے جال میں پھنسایا گیا جہاں ان کی عمر بھر کی جمع پونجی لمحوں میں غائب ہوگئی۔
یہ صرف ایک مالی فراڈ نہیں ہوتا یہ غریب آدمی کی امید کا قتل ہوتا ہے۔ وہ مزدور جس نے برسوں کی کمائی جمع کی وہ ماں جس نے بچوں کے مستقبل کے لیے زیور بیچا وہ نوجوان جس نے روزگار کے خواب دیکھے جب ان سب کا سرمایہ ڈوبتا ہے تو صرف بینک بیلنس ختم نہیں ہوتا بلکہ انسان اندر سے ٹوٹ جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ایسے واقعات کے بعد کئی لوگ ذہنی دباؤ، بے یقینی اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ جب معاملہ کھلنے لگا تو بیرونِ ملک فرار ہونے کی کوشش بھی کی گئی مگر حالات نے ساتھ نہ دیا اب جب احتساب کی گرفت مضبوط ہوئی اور سوالات ہر طرف سے اٹھنے لگے تو ایک مرتبہ پھر مذہب اور جذبات کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ جمعہ جیسے مقدس دن کو احتجاج اور ذاتی حمایت کے لیے استعمال کرنا دراصل عوامی جذبات کو اپنی ڈھال بنانے کی کوشش محسوس ہوتی ہے مسجد، منبر اور جمعہ کسی ایک فرد کی ذات کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ حق اصلاح اور انصاف کے لیے ہوتے ہیں
ایک عالمِ دین سے لوگ کردار کی بلندی، دیانت اور خوفِ خدا کی توقع رکھتے ہیں مگر جب مذہبی حیثیت رکھنے والا شخص خود الزامات کے گھیرے میں ہو اور پھر اپنی ذات کے دفاع کے لیے مذہب کو استعمال کرے تو یہ صرف ایک فرد کا بحران نہیں رہتا بلکہ پورے مذہبی اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج لوگ مذہبی چہروں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں کیونکہ بہت سے افراد نے اسلام کو کردار نہیں بلکہ کاروبار بنا لیا ہے۔
آج بازاروں سے زیادہ مذہبی لبادوں میں ڈاکو گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پرانے ڈاکو راستے روک کر لوٹتے تھے، جبکہ نئے ڈاکو اعتماد، عقیدت اور مذہبی الفاظ کے ذریعے دل جیت کر لوٹتے ہیں ان کے ہاتھ میں تسبیح ہوتی ہے مگر نظریں عوام کی جیبوں پر ہوتی ہیں۔ زبان پر اسلام ہوتا ہے مگر کردار میں اسلام کا عکس دکھائی نہیں دیتا یہی ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا سانحہ ہے کہ مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے مگر اسلامی کردار کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ عبادات بڑھ رہی ہیں مگر دیانت کم ہو رہی ہے مسجدیں آباد ہیں مگر انصاف و اخلاق ویران ہیں لوگ مذہب کے نعرے تو بلند کرتے ہیں مگر سچ امانت اور انسانیت جیسے بنیادی اصول زندگی سے غائب ہوتے جا رہے ہیں۔
کچورا کے عوام اور پورے معاشرے کو اب جذبات سے زیادہ شعور کی ضرورت ہے کسی بھی شخصیت کو قانون، احتساب اور سوالات سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے اگر کسی نے عوام کا سرمایہ لوٹا ہے تو اسے قانون کے مطابق جوابدہ ہونا ہوگا۔ ہجوم، نعرے اور جذبات وقتی شور تو پیدا کر سکتے ہیں مگر سچ کو ہمیشہ کے لیے دفن نہیں کر سکتے۔ قومیں اُس وقت زندہ ہوتی ہیں جب وہ شخصیت پرستی چھوڑ کر اصولوں کے ساتھ کھڑی ہوں ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جب مذہب کو کاروبار بنا لیا جائے تو پھر اعتماد مرتا ہے معاشرہ ٹوٹتا ہے اور سچ تنہا رہ جاتا ہے۔
کسی بھی معاشرے کی بقا اس کے اجتماعی شعور، انصاف اور سچ بولنے کی روایت سے جڑی ہوتی ہے جب قومیں شخصیات کے گرد گھومنے لگیں اور اجتماعی مفادات کو چند افراد کی خواہشات پر قربان کر دیں تو وہاں مسائل جنم نہیں لیتے بلکہ مستقل بیماری بن جاتے ہیں۔ کچورا میں گزشتہ دو برسوں کے دوران جو ماحول پیدا کیا گیا وہ اسی بیماری کی ایک جھلک محسوس ہوتا ہے۔ عوامی مسائل نوجوانوں کی بے روزگاری، بنیادی سہولیات، تعلیم صحت اور علاقائی ترقی جیسے معاملات پس منظر میں چلے گئے جبکہ ایک مخصوص شخصیت کی تشہیر کو ہر پلیٹ فارم پر ترجیح دی گئی جب وہ شخص طاقت اور اثر و رسوخ کے عروج پر تھا تو تعریفوں کے دریا بہائے گئے جذباتی نعرے لگائے گئے اور مخالفت کرنے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی گئی۔ مگر آج جب سوالات اٹھ رہے ہیں احتساب کی بات ہو رہی ہے اور لوگوں کے سامنے حقائق آنا شروع ہوئے ہیں تو پھر اسی ہجوم کو متحرک کیا جا رہا ہے تاکہ ایک فرد کو بچایا جا سکے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جمعہ جیسے مقدس دن کو بھی ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جمعہ مسلمانوں کے اتحاد، اصلاح، شعور اخوت اور حق گوئی کا دن ہے مسجد منبرِ حق ہوتی ہے کسی فرد واحد کی تشہیر یا دفاع کا اسٹیج نہیں جامع مسجد کسی ایک خاندان ایک گروہ یا ایک گاؤں کی جاگیر نہیں ہوتی بلکہ پورے علاقے کے مسلمانوں کی اجتماعی امانت ہوتی ہے اگر اس مقدس مقام کو شخصیت پرستی، جذباتی نعروں اور ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ نہ صرف مذہبی اقدار کی توہین ہے بلکہ عوامی شعور کے ساتھ بھی ایک سنگین مذاق ہے۔
کچورا کے عوام کو اب یہ سوال خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا ان کی سیاست صرف نعروں کے گرد گھومتی رہے گی کیا ہر بار جذبات کو استعمال کرکے اصل مسائل سے توجہ ہٹا دی جائے گی کیا مسجد اور مذہب کو ہر مرتبہ کسی مخصوص شخصیت کے دفاع کے لیے استعمال کیا جاتا رہے گا۔ ایک باشعور معاشرہ وہی ہوتا ہے جو شخصیات سے زیادہ اصولوں کو اہمیت دیتا ہے اگر کسی شخص پر مالی بے ضابطگیوں، دھندوں یا عوامی استحصال کے الزامات موجود ہیں تو ان معاملات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔
ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اگر کسی نے غریب عوام کا سرمایہ لوٹا ہے یا غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے تو بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور متاثرہ لوگوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔ احتساب کا عمل نعروں یا ہجوم کے ذریعے نہیں رکتا کیونکہ سچ وقتی شور سے دب تو سکتا ہے مگر ختم نہیں ہوتا۔
کچورا کے لوگوں کو اب جذباتی وابستگیوں سے نکل کر اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا قومیں نعروں سے نہیں شعور سے بدلتی ہیں۔ مسجد اگر اتحاد کی علامت ہے تو اسے تقسیم کا ذریعہ نہ بنایا جائے عوام اگر واقعی اپنے بچوں کا بہتر مستقبل چاہتے ہیں تو انہیں شخصیت پرستی سے اوپر اٹھ کر حقائق انصاف اور اجتماعی مفاد کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔

