Saturday, 16 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Kitab Tehzebon Ki Maa: Marquez Ki Kahaniyan (23)

Kitab Tehzebon Ki Maa: Marquez Ki Kahaniyan (23)

کتاب تہذیبوں کی ماں: مارکیز کی کہانیاں (23)

یہ ایک عجیب اور دل نشیں تجربہ ہے کہ جب آپ گابریئل گارسیا مارکیز کو پڑھنے بیٹھتے ہیں تو اپنے گردوپیش کی دنیا دھندلا جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت کی رفتار سست پڑ گئی ہو اور حقیقت کی زمین قدموں تلے سے سرک رہی ہو۔ مارکیز کی کہانیاں محض کہانیاں نہیں، وہ مکڑی کے جال کی طرح قاری کو اپنے حصار میں لے لیتی ہیں اور پھر اس گرفت سے نکلنا آسان نہیں رہتا۔ ہر سطر ایک نئی کشش رکھتی ہے، ہر منظر ایک نئے جہان کا در وا کرتا ہے اور ہر کردار اپنے اندر ایک مکمل کائنات سموئے ہوتا ہے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اس کی کہانی کا اختتام دراصل ایک نئی ابتدا کا دروازہ ہوتا ہے۔ کہانی ختم ہونے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی بلکہ قاری کے ذہن میں مسلسل گونجتی رہتی ہے اور وہ بار بار اسی دنیا میں لوٹنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

مارکیز کو پڑھنا دراصل ایک ایسے جہان میں داخل ہونا ہے جہاں حقیقت اور خواب کی سرحدیں مٹ جاتی ہیں۔ اس کی تخلیقی دنیا ایک طلسم کدہ ہے جہاں ہر چیز ممکن ہے، جہاں موت زندگی کے ساتھ ہم آغوش ہے اور زندگی خوابوں کے تعاقب میں سرگرداں۔ یہ وہ دنیا ہے جہاں وقت جامد بھی ہے اور رواں بھی، جہاں ماضی، حال اور مستقبل ایک ہی لمحے میں سمٹ آتے ہیں۔ قاری اس دنیا میں ایک نووارد کی طرح داخل ہوتا ہے، مگر جلد ہی اس کا اسیر ہو جاتا ہے۔ اس کی کہانیوں میں حسن، غم، محبت اور فریب اس طرح گندھے ہوتے ہیں کہ قاری ان جذبات کو محض پڑھتا نہیں بلکہ جیتا ہے۔ یہی وہ جادو ہے جس نے مارکیز کو دنیا بھر میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔

ابتدائی دور میں فرانز کافکا کی شہرہ آفاق تخلیق میٹا مارفوسس سے متاثر ہو کر مارکیز نے اپنی پہلی کہانی "تیسری دستبرداری" میں ایک زندہ موت کا ایسا احوال بیان کیا جو قاری کو چونکا دیتا ہے۔ اس کہانی میں وجودی کرب اور بے چینی کی جھلک نمایاں ہے، جو بعد ازاں اس کے اسلوب کا ایک اہم حصہ بن جاتی ہے۔ مگر شاید خود مارکیز نے بھی یہ نہ سوچا ہوگا کہ ایک دن وہ دنیا بھر کے قارئین کے دلوں پر اس طرح حکمرانی کرے گا۔ اس کی تحریریں نہ صرف پڑھی جائیں گی بلکہ بار بار پڑھی جائیں گی اور ہر بار ایک نئی معنویت کے ساتھ سامنے آئیں گی۔ وہ صرف کہانی نہیں لکھتا بلکہ ایک پوری بستی آباد کرتا ہے، جہاں وہ خود خالق ہے اور اس کے کردار اس کی تخلیقی کائنات کے باسی۔ وہ کردار ہنستے ہیں، روتے ہیں، مرتے ہیں اور پھر زندہ ہو جاتے ہیں اور قاری اس تمام عمل کا خاموش مگر گہرا شریک بن جاتا ہے۔

بیسویں صدی میں مارکیز نے اپنی انوکھی کہانیوں اور شہرہ آفاق ناولوں کے ذریعے عالمی سطح پر بے پناہ محبت اور مقبولیت حاصل کی۔ اس کے اثرات اردو ادب پر بھی نمایاں طور پر مرتب ہوئے۔ اردو زبان میں اسے متعارف کرانے اور اس کی تخلیقات کو منتقل کرنے میں اجمل کمال، عمر میمن، افضال احمد سید، ڈاکٹر آصف فرخی، راشد مفتی، ڈاکٹر خالد سعید، عطا صدیقی، فاروق حسن، ڈاکٹر انعام ندیم، نیر عباس زیدی، سید سعید نقوی، زینت حسام، ارشد وحید، قربان چنا، منور آکاش اور نعیم کلاسرا جیسے اہم نام شامل ہیں۔ ان مترجمین نے نہ صرف مارکیز کو اردو قاری تک پہنچایا بلکہ اس کی تخلیقی روح کو بھی بڑی حد تک برقرار رکھا، جو ایک مشکل اور نازک کام ہے۔

حالیہ دنوں میں ڈاکٹر ندیم جاوید نے مارکیز کی "ساری کہانیاں" کو ایک جامع مجموعے کی صورت میں پیش کرکے اردو ادب کے خزانے میں ایک گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ اس مجموعے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں مارکیز کی تمام کہانیاں یکجا کر دی گئی ہیں اور انہیں زمانی ترتیب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، جس سے قاری کو اس کے تخلیقی سفر کو مرحلہ وار سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ مزید برآں بچوں کے لیے لکھی گئی کہانیوں کی شمولیت اس مجموعے کو مزید متنوع اور دلکش بناتی ہے۔ اس ترتیب سے پڑھنے پر یہ واضح ہوتا ہے کہ کس طرح ابتدائی کہانیوں میں کافکائی اثرات غالب ہیں، درمیانی دور میں جادوئی حقیقت نگاری کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں اور آخری کہانیوں میں وقت، یادداشت اور تقدیر جیسے موضوعات اپنی گہرائی کے ساتھ ابھرتے ہیں۔

یہ مجموعہ محض کہانیوں کا ذخیرہ نہیں بلکہ ایک تخلیقی ارتقا کی داستان ہے، جس میں قاری مارکیز کے ذہن کی اس پراسرار بھٹی کو دیکھ سکتا ہے جہاں سے تنہائی کے سو سال جیسا شاہکار جنم لیتا ہے۔ ڈاکٹر انعام ندیم کے سادہ، رواں اور تخلیقی ترجمے نے ان کہانیوں کو اردو میں اس خوبی سے منتقل کیا ہے کہ قاری نہ صرف انہیں سمجھتا ہے بلکہ ان کے جادو میں بھی گرفتار ہو جاتا ہے۔ یہ کہانیاں خواب اور حقیقت کے سنگم پر کھڑی ہیں، جہاں سیاست، محبت، تنہائی اور یادیں ایک جادوئی آہنگ کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہیں۔ بلاشبہ، یہ مجموعہ اردو قارئین کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے اور اس کے ذریعے مارکیز کی تخلیقی دنیا ایک بار پھر پوری آب و تاب کے ساتھ ہمارے سامنے آ کھڑی ہوئی ہے، ہمیں دعوت دیتی ہوئی کہ آئیں، اس طلسماتی دنیا میں قدم رکھیں اور خود کو اس کے سحر میں کھو دیں۔

Check Also

Safar e Hijaz o Arab Se Aik Iqtibas

By Ali Akbar Natiq