Islamabad Se Dhaka, Barf Pighalne Lagi
اسلام آباد سے ڈھاکا، برف پگھلنے لگی

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی سول سروسز روابط کی بحالی ایک اہم اور معنی خیز موڑ ہے، جسے محض ایک سرکاری سرگرمی یا رسمی سفارتی پیش رفت قرار دینا شاید اس کی اصل اہمیت کو کم کر دینا ہوگا۔ پچپن برس بعد دونوں ممالک کے درمیان سول اسٹیبلشمنٹ میں ادارہ جاتی تعاون کا آغاز دراصل ایک نئے باب کی نوید ہے۔ ایسا باب جس میں تلخ ماضی کی بازگشت تو موجود ہے مگر مستقبل کی امیدیں اس سے کہیں زیادہ توانا دکھائی دیتی ہیں۔
لاہور میں سول سروسز اکیڈمی کے والٹن کیمپس میں بنگلہ دیشی اعلیٰ سطحی وفد کی شرکت اور"پاکستان-بنگلہ دیش نالج کوریڈور"کی بنیاد رکھے جانے کو معمولی پیش رفت نہیں کہا جا سکتا۔ بنگلہ دیش سول سروس کے ایڈیشنل سیکریٹریز، جوائنٹ سیکریٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام پر مشتمل وفد کی موجودگی اس حقیقت کی علامت ہے کہ دونوں ریاستیں محض رسمی بیانات سے آگے بڑھ کر ادارہ جاتی روابط کو استوار کرنا چاہتی ہیں۔ افتتاحی تقریب کے بعد اخلاقی فیصلہ سازی اور اقدار پر مبنی گورننس جیسے موضوعات پر علمی نشستوں میں شرکت اس امر کا ثبوت ہے کہ جدید ریاستی نظم و نسق میں مشترکہ چیلنجز نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی بنیاد فراہم کی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے کی سیاست تیزی سے نئی کروٹیں لے رہی ہے۔ کرکٹ روابط کی بحالی، تجارتی امکانات میں اضافہ، حکومتی وفود کا تبادلہ اور دونوں ممالک کے اعلیٰ حکومتی نمائندوں کے درمیان رابطوں میں گرمجوشی اس بات کا عندیہ دے رہی ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش اپنے تعلقات کو ازسرنو متعین کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے اس تبدیلی کو ممکن بنایا؟
اس سوال کا جواب بڑی حد تک بنگلہ دیش کی بدلتی ہوئی سیاسی فضا میں پوشیدہ ہے۔ گزشتہ برسوں میں بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات سرد مہری بلکہ بعض اوقات تلخی کا شکار رہے۔ خصوصاً سابق وزیر اعظم حسینہ واجد کے دور میں پاکستان مخالف بیانیہ بارہا نمایاں دکھائی دیتا تھا، جس نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو متاثر کیا۔ تاہم کسی بھی ریاست کی خارجہ پالیسی محض جذبات کے تابع نہیں رہتی۔ وقت، ضرورت اور قومی مفادات بالآخر نئی ترجیحات متعین کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا بنگلہ دیش زیادہ عملی، متوازن اور خطے میں نئے شراکتی امکانات کی تلاش میں دکھائی دیتا ہے۔
تاہم یہ سمجھ لینا بھی سادہ لوحی ہوگی کہ نصف صدی سے زائد عرصہ تلخی پر محیط فاصلے چند ملاقاتوں یا چند معاہدوں سے مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تاریخ کی ایک طویل اور پیچیدہ داستان موجود ہے۔ 1971ء کے سانحے نے دونوں قوموں کے اجتماعی حافظے پر گہرے نقوش چھوڑے۔ مشرقی پاکستان کی عوام کے سیاسی، معاشی اور آئینی حقوق سے متعلق شکایات، اقتدار کی کشمکش اوراس وقت کی اشرافیہ و سیاسی نااہلی نے بالآخر ایک ایسے المیے کو جنم دیا جس نے ایک ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ یہ حقائق تاریخ کا حصہ ہیں اور ان سے صرفِ نظر کرنا کسی بھی سنجیدہ تجزیے کے لیے مناسب نہیں۔ لیکن قومیں اگر صرف ماضی کے زخموں میں الجھی رہیں تو مستقبل ہمیشہ ان سے روٹھ جاتا ہے۔
یورپ کی تاریخ اس کی واضح مثال ہے، جہاں خونریز جنگوں کے بعد دشمن ریاستیں تعاون کی علامت بن گئیں۔ سوال یہ نہیں کہ ماضی کیا تھا؟ سوال یہ ہے کہ مستقبل کیا ہو سکتا ہے؟ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات کی موجودہ بحالی اسی امید کا دوسرا نام ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ دونوں ممالک کے عوامی جذبات میں ہمیشہ ایک غیر محسوس قربت موجود رہی ہے۔ ثقافتی مماثلت، مذہبی وابستگی، زبانوں کے فرق کے باوجود سماجی قدروں میں اشتراک اور ایک مشترکہ تاریخی پس منظر وہ عناصر ہیں جو عوامی سطح پر فاصلے کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کرکٹ میدانوں میں دونوں ٹیمیں آمنے سامنے آتی ہیں یا تجارتی روابط کی بات ہوتی ہے تو ایک فطری دلچسپی محسوس کی جاتی ہے۔
بلاشبہ خطے کی بڑی طاقتیں اس بدلتی ہوئی صورت حال کو اپنے اپنے زاویہ نظر سے دیکھ رہی ہوں گی۔ جنوبی ایشیا میں سفارتی توازن ہمیشہ حساس رہا ہے اور ہر نئی قربت کسی نہ کسی نئی صف بندی کو جنم دیتی ہے۔ تاہم پاکستان اور بنگلہ دیش کے لیے اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا دونوں ممالک اپنے تعلقات کو ماضی کی تلخیوں کی بجائے مستقبل کے امکانات کی بنیاد پر استوار کر سکتے ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو سول سروسز تعاون، تجارتی روابط، تعلیمی اشتراک اور ثقافتی تبادلے محض ابتدا ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک سیاسی نعروں سے بلند ہو کر ادارہ جاتی استحکام اور عوامی مفاد کو ترجیح دیں۔ تعلقات کی اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب نوجوان نسل ماضی کے تنازعات کو جانتے ہوئے بھی نفرت کا بوجھ اٹھانے کی بجائے باہمی احترام، مکالمے اور تعاون کا راستہ اختیار کرے۔ دعا ہے کہ دونوں برادر مسلم ممالک تلخیوں کے بوجھ کو کم کرتے ہوئے اعتماد، ترقی اور باہمی احترام کے ایک ایسے سفر کا آغاز کریں جو آنے والی نسلوں کے لیے امن اور استحکام کی ضمانت بن سکے۔

