Saturday, 16 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ali Akbar Natiq
  4. Safar e Hijaz o Arab Se Aik Iqtibas

Safar e Hijaz o Arab Se Aik Iqtibas

سفرِ حجاز و عرب سے ایک اقتباس

مکہ سے مدینہ کے رستے میں منڈی لگتی تھی۔ اِس جگہ بعد میں ترکوں نے ریلوے اسٹیشن قائم کر دیا تھا۔ ابھی اُس کی عمارت کا کھنڈر یہاں موجود ہے۔ مَیں پہلی بار جب حجاز گیا تب اِس جگہ کو دیکھا تھا۔ یہ اچھا خاصا بڑا بازار تھا۔ جس میں بیریوں کے بہت سے درخت بھی تھے۔ اِن میں سے اب ایک آدھا موجود ہے۔ یہاں سے ایک رستہ جدہ کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا مدینہ کی طرف، تیسرا مکہ کی جانب اور چوتھا راستہ شام کو نکلتا ہے۔ یہاں پر ہی ایک بازار لگتا تھا جسے سو ق البنط کہتے تھے۔ یہ ایک چوراہا بن جاتا ہے جہاں سے شام، مکہ، مدینہ اور جدہ کی راہیں جدا ہو جاتی ہیں۔

ایک بار ہاشم اپنے تجارتی سلسلے میں یہاں سے گزرے اور بازار بنط میں پہنچے۔ قرب و جوار سے لوگ جمع ہو کر خرید و فروخت کر رہےتھے۔ اُنھوں نے دیکھا ایک معتبر اور خوبصورت خاتون بازار میں سب سے نمایاں طور خریدو فروخت میں مصروف ہے۔ اُس کے سر پر عمامہ بندھا ہے اور گلے میں سونے کی بھاری پتریوں کا ہار ہے۔ وہ بازار کے ایک مقام بلند پر مقیم تھی اور لوگوں کو اپنی اشیائے ضروری کی خرید و فروخت کے لئے حکم کرتی تھی۔ اُس کی آواز رعب دار تھی جس کے ذریعے اپنے ملازموں کو اشیا کی فروخت کے احکامات دے رہی تھی۔ بازار میں آئے ہوئے اکثر لوگ اُس وجیہہ خاتون کی طرف سے خرید و فروخت کر رہے تھے۔ اِس کے باوجود اُس کے چہرے پر نسوانی حُسن کا پرتو تھا مگر کاروبار کے معاملات میں اُس کے احکامات مَردوں کی طرح تھے۔ ہاشم بھی اُس کی طرف متوجہ ہوئے۔ اپنے کاروباری معاملات کو بھول کر دیر تک اُسے دیکھتے رہے۔ بڑی دقت نظری سے اُس کی حرکات و سکنات کا جائزہ لینے کے بعد لوگوں سے اُس کی نسبت پوچھا کہ یہ خاتون کون ہے، اِس کا نام کیا ہے؟ کس قبیلہ سے تعلق رکھتی ہے اور یہ بھی کہ بیوہ ہے یا صاحبِ شوہر ہے؟

لوگوں نے ہاشم کو بتایا کہ خاتون کا نام سلمیٰ بنتِ عمرو ہے۔ قبیلہ بنی خزرج سے تعلق رکھتی ہے اور آزادہے۔ کسی کے نکاح میں نہیں ہے۔ اِس کے قبیلے کی شاخ نجار ہے۔

اِس کا نکاح ایک شخص سے ہوا تھا جس کا نام اجنجہ بن جلاح تھا۔ اُس شخص سے اِس کے دو بیٹے ہوئے۔ اُن کے نام عمر اور معبد تھے۔ ابنِ جلاح سے خاتون کی شادی قائم نہیں رہ سکی۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ دونوں کی شخصیت اور وقار میں بہت فرق تھا۔ ابنِ جلاح کی طرف سے اِس خاتون کی کفالت اور عز و شرف میں کوتاہی تھی لہذا سلمیٰ نے اُس سے طلاق لے لی۔ اب یہ اپنے ذاتی شرافت و نجابت کے سبب کسی مرد سے اس وقت تک نکاح کرنا نہیں چاہتی جب تک وہ مرد اِس کا ہم کفو نہ ہو اور اِس امر کا اقرار نہ کر لے کہ نکاح کے بعد طلاق کا اختیار سلمیٰ کو ہوگا تاکہ اگر وہ اپنے خاوند کو مزاج کے ناموافق پائیں تو اس سے جدائی اختیار کر لیں۔

یہ سن کر ہاشم بازار کی سرائے میں آ بیٹھے اور سلمیٰ کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا۔ سلمیٰ کو جب معلوم ہوا کہ اُس کے لیے نکاح کا پیغام ایسے شخص نے بھیجا ہے جو اِس وقت عربوں میں سب سے زیادہ معزز اور شرافت و کرامت میں سب سے بلند ہے تو وہ ہاشم کے سامنے آئیں اور اُن سے نکاح کی بابت خود مکالمہ کیا اور اپنی شرائط سامنے رکھیں۔ ہاشم نے سلمیٰ کی شرائط کو قبول کر لیا۔ چنانچہ سلمیٰ اور ہاشم کا نکاح اِسی بازارِ نبط کی ایک سرائے میں پڑھا گیا، جس کے صیغے خود ہاشم نے پڑھے۔ ہاشم نے اِس عقدِ سلمیٰ کے ولیمہ کی بڑی تیاری کی۔ کئی اونٹ ذبح کیے اور کھانا پکوایا۔ جتنے لوگ کاروانِ قریش میں اس وقت اُن کے ساتھ تھے سب کی دعوت کی اور کھانا کھلایا۔ یہ کم و بیش چالیس آدمی تھے۔ اِن میں بنی عبد مناف، بنی مخزوم اور بنی سہم کے قبیلے والے بھی موجود تھے۔ سلمیٰ کی طرف سے خزرج کے قبیلے والے بھی بلائے گئے۔ شادی کے بعد ہاشم نے سلمیٰ کے ساتھ وہیں چھ ماہ تک قیام کیا۔ اُنھی دنوں کے بیچ سلمیٰ کےبطن میں عبدالمطلب کا حمل رہ گیا۔

اِس کے بعد ہاشم اپنے اصحاب کے ساتھ شام کی طرف روانہ ہوئے اور سلمیٰ سے کہا وہ واپسی پر اُسے مکہ لے کر جائیں گے لیکن قدرت کے فیصلے کچھ اور تھے۔ جب ہاشم شام کے شہر غزہ میں پہنچے تو وہاں بیمار ہو گئے۔ اِن کی علالت کی وجہ سے قافلہ والوں نے کچھ عرصہ تک وہیں قیام کیا مگر ہاشم روبصحت نہیں ہوئے اور بالاخر وہیں غزہ میں وفات پائی۔ قافلہ والوں نے غزہ ہی میں اُن کو دفن کر دیا اور واپسی پر سلمیٰ کو ہاشم کی وفات کی اطلاع دے دی لہذا سلمیٰ کبھی مکہ نہ آ سکی۔ اِسی دوران 480ء میں مدینہ منور ہ میں عبد المطلب پیدا ہوئے۔ والدہ نے اُن کا نام شیبتہ الحمد رکھا۔ پھر اُن کی پرورش مدینہ میں ہی ہونے لگی۔

عبدالمطلب اور مدینہ

یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے ذرا عبد المطلب کے بچپن کے متعلق کچھ معلومات دے دی جائیں۔ معاملہ یہ ہوا کہ ہاشم نے فوت ہونے سے پہلے اپنے بھائی مطلب کو اپنی نیابت سونپ دی۔ چنانچہ مطلب مکہ کے معاملات کو چلانے لگے حتیٰ کہ ہاشم کی وفات کو سات یا آٹھ سال گزر گئے۔

ایک دن حرام بن عمرو کسی کام کے سلسلے میں محلہ بنی نجار کے قریب سے گزرا۔ یہ جگہ آج کل مسجد قبا کے قریب ہے اور یہاں ایک بلند قلعہ ابھی تک موجود ہے۔ مَیں نے اِس جگہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ایک چھوٹی پہاڑی کے اوپر یہ بند مکان نما قلعہ عربوں میں اُس دور کے فنِ تعمیر کی امارت اور دولت کے نشان ہوتے تھے۔ مسجد نبوی سے اِس کا فاصلہ ڈھائی کلومیٹر بنتا ہے۔ یہاں ایک بڑا نخلستان تھا اور بیچ میں کیکر اور بیریوں کے بہت زیادہ درخت بھی تھے۔ جب آپ مدینہ سے مسجد قبا کی طرف نکلتے ہیں تو یہ جگہ رستے میں آتی ہے۔ حرام بن عمرو شاعر حسان بن ثابت کا پڑدادا تھا۔ جب یہ قریب سے گزرا تو اُس نے نے دیکھا کچھ لڑکے ایک میدان میں تیر اندازی کر رہے ہیں۔ وہ دُور کھجور کے ایک خشک تنے پر نشان لگا کر اُس پر تیر پھینکتے ہیں اور اپنے نمبر شمار کرتے ہیں۔ یہ آدمی یہاں کچھ دیر کے لیے رُک گیا تاکہ لڑکوں کے کھیل کو دیکھے۔ اُس نے دیکھا کہ اِن میں ایک لڑکا نہایت خوبصورت اور وجیہ تھا۔ اُس کا چہرہ سُرخ و سفید اور ماتھا روشن تھا۔ جب اُس کی باری آتی تو اُس کا نشانہ عین مقام پر لگتا۔ اُس کے ساتھ ہی وہ بلند آواز میں نعرہ لگاتا اور رجز پڑھتا۔ اپنے رجز میں وہ بار بار دعویٰ کرتا کہ وہ شہِ بطحا کا بیٹا ہے۔ جب حرام بن عمرو نے شیبتہ الحمد کا رجز سُنا تو حیران ہوا۔ اُس نے قریب جا کر لڑکے سے پوچھا! اےلڑکے تو کون ہے؟

آپ نے فرمایا! میں شیتہ الحمد بن ہاشم بن عبدِ مناف ہوں۔ حرام بن عمرو نے لڑکے کو مرحبا کہا اور اِس خبر پر بہت خوش ہوا کیونکہ یہ چیز اُس کے ہاتھ ایک معتبر اور قیمتی خبر تھی۔ اِس کے بعد حرام بن عمرو اُسی سال حج کے لیے روانہ ہوا۔ اِس بار اُس کا مکہ میں وارد ہونے کا مقصد حج سے زیادہ یہ خبر تھی جو اُس نے مطلب تک پہنچانا تھی۔ مکہ پہنچا تو حج ادا کرنے کے بعد اُس نے کوشش کی کہ وہ شیبہ کے متعلق اپنی معلومات اُس کے چچا تک پہنچائے۔ ایک دن وہ جنابِ مطلب کو ملا جو کعبہ کی بیٹھک دار الندوہ میں اپنے لوگوں کے درمیان بیٹھے تھے۔ اِس نے اُنھیں سلام کیا اور اپنا تعارف کرایا۔ اُس کے بعد اُنھیں جناب شیبتہ الحمد کے متعلق بتایا او ر اُن کی تیر اندازی اور رجز کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا۔

کہا اگر تم نے اپنے بھتیجے شیبہ کو دیکھو تو اس کو خوش جمالی، ہیبت اور شرافت کو دیکھ کر حیران رہ جائو گے۔ وہ اِس وقت مدینہ میں ہمارے قبیلے خزرج میں اپنے ماموئوں کے ساتھ رہتا ہے۔ ایک دن میں نے اس کو ماموئوں کے لڑکوں کے ساتھ تیر اندازی کرتے دیکھا۔ جب اس کا تیر نشانہ پر بیٹھتا توبلند آواز پکار اٹھتا کہ میں عمرو اعلیٰ کا بیٹا ہوں (عمرو ہاشم کا نام تھا)۔ حرام بن عمرو کی گفتگو سُن کر مطلب بے چین ہو گئے۔ اُس کے آنسو نکل آئے اور بولے اب مَیں اُس کو اپنے ساتھ لائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ حرام نے کہا میرا نہیں خیال سلمیٰ یا اُس کے ماموں شیبہ کو تمہارے ساتھ آنے دیں گے۔

اِس کے علاوہ میرا بھی آپ کو مشورہ ہے کہ ابھی اُس کو یہاں نہ لائیں کیونکہ وہ اپنے ماموں کے ساتھ ہے۔ کسی غیر کے گھر میں نہیں ہے۔ پھر ایسی حالت میں کہ تم ابھی اُس کے لانے کی خواہش اکیلے خود ہی رکھتے ہو۔ تمھارے قبیلہ والے اور دیگر وارث اُس سے حسد میں مبتلا نہ ہو جائیں۔

مطلب نے نہایت متانت سے جواب دیا۔ اے ابا اَوس (ثابت کی کنیت تھی) یہ مجھ سے کیسے ہو سکتا ہے کہ میں اُسے لائے بغیر چھوڑ دوں اور اس آثارو اقتدار اور نسبی افتخار کو جو میری قوم میں اُس کو حاصل ہے، اُس سے ہٹا لوں۔ بخدا ہمارا جو عزو شرف اور دولت ہے، میرا بھتیجا اُس کا حق دار اور وارث ہے۔ مَیں اِن چیزوں کو اپنے پاس اُس کی امانت سمجھتا ہوں اور اُس تک پہنچا کر رہوں گا۔

اِس کلام کے فوراً بعد سامانِ سفر تیار کیا اور مدینہ کے لیے روانہ ہو گئے۔ مطلب مدینہ پہنچے اور بیرون شہر رُک کر عقیق کی وادی میں خیمہ لگا لیا۔ اگلے دن سلمیٰ کے گھر کا پتا پوچھتے ہوئے جا پہنچے۔ قدرت خدا کی شیبہ اُس وقت بھی اپنے ماموں زادوں کے ساتھ باہر گلی میں موجود تھے جسے دیکھتے ہی مطلب نے پہچان لیا۔ اُس کو اپنے باپ ہاشم کا ہو بہو ہم ہم شکل پاکر مطلب کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ فوراً آگے بڑھ کر سینے سے لپٹا لیا اور ایک حلہ یمانی جو مخصوص اُس کے لئے گھر سے لے گئے تھے، اُسے پہنا دیا اور فی البدیہہ کچھ شعر کہے۔

میں نے شیبہ کو تیر اندازی کرتے دیکھا جب وہ بنی نجار کے لڑکوں میں گھرا ہوا تھا۔ مَیں ایک لمحے میں اُسے پہچان گیا۔ وہ تو بالکل ہماری صورت تھا۔ مَیں نے اُس سے اپنے بھائی کی خوشبو پائی۔ بس میری آنکھوں سے بے ساختہ آنسو جاری ہو گئے۔

اب سلمیٰ کو مُطلب کے آنے کی خبر ملی۔ اُس نے مطلب کو اپنے گھر بلایا۔ مہمان نوازی کی۔ مطلب نے مدینہ آنے کا مقصد بیان کیا اور شیبہ کے متعلق گفتگو کا آغاز ہوا۔ سلمیٰ کہنے لگی اگر آپ اپنے بھتیجے کو لینے آئے ہیں تو سُن لیں کہ مَیں اِسے تمھارے ساتھ بھیجنے کے لیے آمادہ نہیں۔ مُطلب نے نہایت تحمل سے سلمیٰ کی باتیں سُنیں اور بولے، اگر مَیں اِسے اپنے ساتھ نہ لے جائوں گا تو میرے لئے بڑی بدنامی کا باعث ہوگا۔ مَیں نے مدینہ کا سفر اِسی مقصد کے لیے کیا ہے کہ اِسے اپنے شہر لے جائوں اور یہ میرا مصمم ارادہ ہے۔

Check Also

Dunya Badal Rahi Hai

By Rao Manzar Hayat