Saturday, 16 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Uzma Noreen
  4. Aurat Bewafa Kyun Hoti Hai?

Aurat Bewafa Kyun Hoti Hai?

عورت بے وفا کیوں ہوتی ہے؟

پاکستانی معاشرے میں جب بھی محبت روٹھتی ہے، رشتہ بکھرتا ہے یا مرد کو جذباتی شکست ہوتی ہے تو سب سے پہلے عورت کے کردار پر سوال اٹھایا جاتا ہے۔ اسے بے وفا کہا جاتا ہے، مطلب پرست کہا جاتا ہے، جذبات سے خالی قرار دیا جاتا ہے۔ صدیوں سے شاعری، لوک کہانیوں، فلموں اور محفلوں میں عورت کو وفا کے امتحان میں کھڑا کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس مرد کی بے وفائی کو اکثر فطرت، مجبوری یا اختیار کا نام دے کر معاف کر دیا گیا۔ سوال یہ نہیں کہ عورت بے وفا کیوں ہوتی ہے؟ سوال یہ ہے کہ عورت کو بے وفا ثابت کرنے کی روایت اتنی مضبوط کیوں ہے؟

ہمارے ہاں عورت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر حال میں نبھائے۔ اگر شوہر سخت مزاج ہو تب بھی، اگر محبت ختم ہو جائے تب بھی، اگر عزت نہ ملے تب بھی۔ عورت کے صبر کو وفا کہا جاتا ہے اور اس کی بغاوت کو بے وفائی۔ یہی وجہ ہے کہ جب عورت اپنے حق میں کوئی فیصلہ کرتی ہے تو معاشرہ فوراً اس کے کردار پر انگلی اٹھا دیتا ہے۔ مرد اگر رشتہ چھوڑ دے تو وہ "مجبور" ہوتا ہے، عورت اگر الگ ہو جائے تو وہ "بے وفا" کہلاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ وفا یا بے وفائی کسی ایک جنس کی میراث نہیں۔ مرد بھی بے وفا ہوتے ہیں، عورتیں بھی۔ مگر سماج نے عورت کی بے وفائی کو ایک داستان بنا دیا ہے۔ اس کی وجہ صرف جذبات نہیں بلکہ طاقت کا وہ نظام ہے جس میں مرد کو اختیار حاصل رہا اور عورت کو قربانی کی علامت بنا دیا گیا۔ جب عورت اپنی مرضی، اپنی خواہش یا اپنی آزادی کی بات کرتی ہے تو مردانہ سماج کو یہ اپنی طاقت کے خلاف محسوس ہوتا ہے، اس لیے اسے بے وفائی کا نام دے دیا جاتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں لڑکی کو بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ گھر بچانا اس کی ذمہ داری ہے۔ اسے خاموشی، برداشت اور قربانی کا درس دیا جاتا ہے۔ مگر اس کے بدلے اسے ہمیشہ محبت، تحفظ اور عزت نہیں ملتی۔ کئی عورتیں جذباتی تنہائی کا شکار رہتی ہیں۔ ان کے خواب دب جاتے ہیں، ان کی شخصیت گھٹنے لگتی ہے۔ پھر اگر وہ کبھی اپنی خوشی یا سکون کے لیے کوئی فیصلہ کرے تو معاشرہ اس کے اندر برسوں سے جمع دکھ، محرومی اور تنہائی کو نہیں دیکھتا، صرف ایک لفظ بولتا ہے، "بے وفا"۔

عورت خود اس تصور کو کس نظر سے دیکھتی ہے؟ بہت سی عورتیں سمجھتی ہیں کہ وفا کو صرف عورت کے ساتھ کیوں جوڑا جاتا ہے۔ وہ پوچھتی ہیں کہ کیا وفا صرف عورت کا فرض ہے؟ کیا مرد کی زبان، اس کے وعدے، اس کی نظریں اور اس کے تعلقات وفا کے دائرے میں نہیں آتے؟ آج کی عورت جانتی ہے کہ محبت صرف قربانی کا نام نہیں بلکہ عزت، اعتماد اور برابری بھی محبت کا حصہ ہیں۔ اگر یہ چیزیں موجود نہ ہوں تو صرف عورت سے وفاداری کی توقع ایک ناانصافی بن جاتی ہے۔

مذہب کی بات کی جائے تو اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو وفاداری، دیانت اور پاکیزگی کا حکم دیا ہے۔ قرآن اور حدیث میں کہیں بھی عورت کو فطری طور پر بے وفا قرار نہیں دیا گیا۔ اسلام نے نکاح کو محبت، سکون اور رحمت کا رشتہ کہا۔ مرد پر بھی اتنی ہی اخلاقی ذمہ داری عائد کی گئی جتنی عورت پر۔ بدقسمتی سے مذہبی تعلیمات سے زیادہ ثقافتی تعصبات کو اہمیت دی گئی۔ لوگوں نے مذہب سے زیادہ اپنی مردانہ سوچ کو سچ مان لیا۔

تاریخ بھی یہ نہیں کہتی کہ عورت صرف بے وفائی کی علامت رہی ہے۔ تاریخ میں بے شمار عورتیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے محبت، قربانی اور وفا کی مثالیں قائم کیں۔ ماں کی صورت میں عورت نسلوں کو سنبھالتی رہی، بیوی کی صورت میں دکھ بانٹتی رہی، بیٹی کی صورت میں امید بنتی رہی۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب عورت نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی تو اسے بدنام کیا گیا۔ اس کے کردار پر حملہ کیا گیا تاکہ اس کی بات کی اہمیت ختم ہو جائے۔

ادب اور شاعری نے بھی عورت کی شبیہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اردو شاعری میں اکثر عورت محبوب تو بنی مگر انسان کم بنی۔ اس کے جذبات، خوف، محرومیاں اور خواہشیں کم بیان ہوئیں، اس کی بے وفائی زیادہ بیان ہوئی۔ حالانکہ محبت میں ٹوٹ جانے والا صرف مرد نہیں ہوتا، عورت بھی اندر سے بکھرتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ عورت کے آنسو اکثر خاموش رہتے ہیں۔

اکیسویں صدی کی عورت پہلے سے مختلف ہے۔ وہ تعلیم حاصل کر رہی ہے، کام کر رہی ہے، فیصلے لے رہی ہے، اپنے لیے آواز اٹھا رہی ہے۔ اب وہ صرف کسی کی بیٹی، بیوی یا ماں کی شناخت تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ ایک مکمل انسان کے طور پر جینا چاہتی ہے۔ یہی تبدیلی بعض لوگوں کو خوفزدہ کرتی ہے۔ جب عورت اپنی مرضی کی بات کرتی ہے تو اسے مغرور، خودسر یا بے وفا کہا جاتا ہے، حالانکہ وہ صرف اپنی انسانیت مانگ رہی ہوتی ہے۔

یہ بھی سچ ہے کہ محبت کے رشتوں میں کبھی عورت غلط ہوتی ہے اور کبھی مرد۔ ہر عورت کو ایک اجتماعی الزام کے نیچے رکھ دینا ناانصافی ہے۔ ایک عورت کے عمل کو پوری جنس کی فطرت قرار دینا عقل اور انصاف دونوں کے خلاف ہے۔ وفا ایک انسانی وصف ہے، جنس کی قید نہیں۔ جو محبت کو عزت دے گا، اعتماد دے گا، سچ دے گا، وہی وفا پائے گا۔

عورت بے وفا نہیں، عورت بھی انسان ہے۔ اس کے اندر بھی دل ہے، خواب ہیں، کمزوریاں ہیں، خواہشیں ہیں۔ وہ بھی ٹوٹتی ہے، تھکتی ہے، بدلتی ہے۔ اسے فرشتہ بنا کر پھر اس کے انسان ہونے پر سزا دینا شاید ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی منافقت ہے۔ جب تک عورت کو صرف کردار کے ترازو میں تولا جاتا رہے گا اور مرد کو اختیار کے تخت پر بٹھایا جاتا رہے گا تب تک یہ سوال زندہ رہے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم عورت سے یہ پوچھنا بند کریں کہ وہ بے وفا کیوں ہوئی اور یہ پوچھنا شروع کریں کہ اسے وفا کے باوجود کیا ملا۔

Check Also

Kya Hum Bwaqoof Hain?

By Mohsin Khalid Mohsin