Saturday, 16 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Jab Ilaj Waba Ban Jaye

Jab Ilaj Waba Ban Jaye

جب علاج وبا بن جائے

پاکستان اس وقت ایک ایسے خاموش مگر انتہائی خطرناک صحت کے بحران سے دوچار ہے جس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کے بجائے مسلسل غفلت برتی جا رہی ہے۔ ایچ آئی وی، جسے اکثر لوگ صرف مخصوص طبقات یا غیر اخلاقی رویّوں سے جوڑتے ہیں، اب ناقص طبی نظام، غیر محفوظ طبی طریقوں اور انتظامی بے حسی کے باعث عام شہریوں، خواتین اور معصوم بچوں تک پھیل رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں سامنے آنے والے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی سانحہ بنتا جا رہا ہے۔

سابق وفاقی وزیرِ صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اپنے حالیہ مضامین اور بیانات میں پاکستان میں تیزی سے پھیلتے ہوئے ایچ آئی وی کو "خاموش وبا" قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ایشیا میں ایچ آئی وی کے سب سے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز والے ممالک میں شامل ہو چکا ہے اور اس کی بڑی وجہ غیر محفوظ طبی طریقے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال، خون کی غیر معیاری اسکریننگ اور اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے فقدان کو اس بحران کا بنیادی سبب قرار دیا۔ (DAWN)

سب سے زیادہ دل دہلا دینے والا واقعہ پنجاب کے ضلع تونسہ کے تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال میں سامنے آیا، جہاں نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے دوران 331 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔ ان بچوں میں اکثریت بہت کم عمر تھی، جن کا کسی بھی "روایتی خطرناک رویّے" سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ بی بی سی کی خفیہ تحقیق اور بعد ازاں ڈان میں شائع رپورٹس نے انکشاف کیا کہ اسپتال میں ایک ہی سرنج مختلف بچوں پر استعمال کی جا رہی تھی، انجیکشن کپڑوں کے اوپر سے لگائے جا رہے تھے، جبکہ بعض غیر تربیت یافتہ افراد بھی مریضوں کا علاج کر رہے تھے۔ (DAWN)

یہ صرف طبی غفلت نہیں بلکہ انسانی جانوں کے ساتھ ایک سنگین جرم ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومتی کارروائیوں، تحقیقات اور وقتی معطلیوں کے باوجود حالات میں خاطر خواہ تبدیلی نظر نہیں آتی۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے بجا طور پر سوال اٹھایا کہ اگر اسپتال اور کلینک خود بیماری پھیلانے کے مراکز بن جائیں تو عوام کہاں جائیں؟ (PAKISTAN TODAY)

کراچی، لاڑکانہ، ملتان اور سندھ کے دیگر علاقوں سے بھی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں کم سن بچے غیر محفوظ انجیکشنز، آلودہ ڈرپ سیٹس اور غیر اسکرین شدہ خون کے باعث ایچ آئی وی کا شکار ہوئے۔ کئی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پاکستان ایک "جنرلائزڈ ایپیڈیمک" کی طرف بڑھ سکتا ہے، یعنی بیماری صرف مخصوص گروہوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عام آبادی میں تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ (DAWN)

یہ بحران صرف وسائل کی کمی کا نتیجہ نہیں بلکہ بدانتظامی، نااہلی اور مسلسل بے حسی کا عکس ہے۔ ہر بڑے سانحے کے بعد کمیٹیاں بنتی ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں، چند اہلکار معطل کیے جاتے ہیں، مگر بنیادی نظام جوں کا توں رہتا ہے۔ انفیکشن کنٹرول کے قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ غیر معیاری سرنجیں بازار میں کھلے عام دستیاب ہیں، دیہی علاقوں میں عطائی ڈاکٹروں کا راج قائم ہے، جبکہ صحت کے بجٹ کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس تمام بحران کا شکار غریب اور بے بس لوگ بن رہے ہیں۔ وہ والدین جو اپنے بچوں کو بخار یا معمولی بیماری کے علاج کے لیے اسپتال لے کر جاتے ہیں، انہیں اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے بچوں کو زندگی بھر کی اذیت کے حوالے کر رہے ہیں۔ ایک ایسا مرض جو نہ صرف جسمانی تکلیف دیتا ہے بلکہ سماجی نفرت، معاشی مشکلات اور ذہنی دباؤ بھی ساتھ لاتا ہے۔

اس صورتحال میں صرف حکومت کو موردِ الزام ٹھہرا کر خاموش ہو جانا کافی نہیں۔ عوام کو بھی متحد ہو کر اپنی آواز بلند کرنا ہوگی۔ ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اسپتال میں نئی سرنج کے استعمال کا مطالبہ کرے، خون کی مکمل اسکریننگ کی تصدیق کرے اور غیر مستند معالجین کے خلاف آواز اٹھائے۔ اگر عوام خاموش رہیں گے تو یہ خاموشی مزید جانیں نگلتی رہے گی۔

میڈیا، سول سوسائٹی، اساتذہ، ڈاکٹروں کی تنظیمیں اور مذہبی رہنما بھی اس جدوجہد میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہمیں ایچ آئی وی کے بارے میں پھیلی ہوئی غلط فہمیوں کو ختم کرنا ہوگا اور عوام کو یہ سمجھانا ہوگا کہ یہ بیماری صرف اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین طبی اور انتظامی بحران بھی ہے۔ جب تک معاشرہ اجتماعی شعور کے ساتھ اس مسئلے کو نہیں سمجھے گا، تب تک مؤثر تبدیلی ممکن نہیں ہوگی۔

آج وقت کا تقاضا ہے کہ پوری قوم اس مسئلے پر متحد ہو۔ ہمیں ان اداروں سے جواب مانگنا ہوگا جن کے پاس وسائل، اختیار اور ذمہ داری موجود ہے مگر وہ مسلسل ناکام ہو رہے ہیں۔ اگر آج بھی ہم نے خاموشی اختیار کی تو آنے والے برسوں میں مزید معصوم بچے اس غفلت کی قیمت اپنی زندگیوں سے چکائیں گے۔

پاکستان کو اب صرف وقتی بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات، شفاف احتساب، سخت نگرانی اور وسیع عوامی آگاہی کی ضرورت ہے۔ یہ صرف حکومت کی جنگ نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کیونکہ جب اسپتال ہی بیماری بانٹنے لگیں تو خاموش رہنا بھی جرم بن جاتا ہے۔

Check Also

Kya Hum Bwaqoof Hain?

By Mohsin Khalid Mohsin