Saturday, 16 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muzammil Ahmed
  4. Chai Har Masle Ka Pakistani Hal

Chai Har Masle Ka Pakistani Hal

چائے ہر مسئلے کا پاکستانی حل

پاکستان میں حکومتیں آتی ہیں اور جاتی ہیں، وزراء بدلتے ہیں، پالیسیاں تبدیل ہوتی ہیں مگر ایک چیز ہے جو کبھی نہیں بدلتی اور وہ ہے چائے۔ یہ وہ واحد ادارہ ہے جو ہر حکومت میں یکساں طور پر کام کرتا ہے، کوئی احتجاج نہیں کرتا، کوئی تنخواہ نہیں مانگتا اور عوام کو کبھی مایوس نہیں کرتا۔ اگر پاکستان میں کوئی اصل وزیراعظم ہے تو وہ چائے ہے۔

پاکستانی کا دن چائے سے شروع ہوتا ہے اور چائے پر ختم ہوتا ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی پہلا خیال یہی آتا ہے کہ چائے کب ملے گی۔ دفتر پہنچو تو چائے، گھر آؤ تو چائے، مہمان آئے تو چائے، مہمان گیا تو چائے۔ غم ہو یا خوشی، چائے ہر موقع پر حاضر ہے جیسے کوئی پرانا وفادار دوست جو کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا۔

چائے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ہر مسئلے کا حل ہے۔ سردرد ہو تو چائے پیو۔ پیٹ درد ہو تو چائے پیو۔ دل ٹوٹا ہو تو چائے پیو۔ امتحان میں فیل ہو گئے تو چائے پیو۔ نوکری گئی تو چائے پیو۔ ملک میں مہنگائی ہو تو چائے پیو اور صبر کرو۔ پاکستانی ڈاکٹروں نے جو نہیں بتایا وہ چائے نے بتا دیا کہ ہر تکلیف کا علاج ایک گرم کپ میں پوشیدہ ہے۔

پاکستانی چائے کے کئی قسم کے دیوانے ہیں۔ ایک وہ جو چائے میں دودھ کم ڈالتے ہیں اور یہ لوگ خود کو "سنجیدہ" سمجھتے ہیں۔ دوسرے وہ جو چائے میں چینی کے تین چمچ ڈالتے ہیں اور یہ زندگی سے بھرپور لوگ ہیں۔ تیسرے وہ جو "قہوہ" پیتے ہیں اور باقی سب کو کمتر سمجھتے ہیں، یہ پاکستانی چائے کی دنیا کے "انٹیلکچوئل" ہیں اور چوتھے وہ جو چائے میں ادرک ڈالتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن سے پنگا لینا مناسب نہیں۔

چائے اور بسکٹ کا رشتہ پاکستان کی سب سے مضبوط جوڑی ہے اور کسی بھی سیاسی اتحاد سے زیادہ پائیدار ہے۔ چائے میں بسکٹ ڈبونا ایک فن ہے جو ہر پاکستانی جانتا ہے۔ بسکٹ کو زیادہ دیر ڈبویا تو ٹوٹ کر کپ میں گر جائے گا اور یہ زندگی کا سبق ہے کہ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ اس فلسفے پر پی ایچ ڈی ہونی چاہیے۔

دفتروں میں چائے کا اپنا ایک نظام ہے۔ کام چاہے ہو یا نہ ہو، چائے وقت پر آتی ہے اور کاش باقی سرکاری کام بھی اسی پابندی سے ہوتے۔ میٹنگ میں کوئی فیصلہ نہ ہو مگر چائے ضرور آئے گی۔ بجٹ کتنا بھی کم ہو، چائے کا بجٹ کبھی کم نہیں ہوتا۔ یہ پاکستانی دفتر کی وہ روایت ہے جو کسی قانون سے زیادہ مضبوط ہے۔

سردیوں میں چائے کا مقام اور بھی بلند ہو جاتا ہے۔ کمبل اوڑھ کر گرم چائے کا کپ تھامنا وہ خوشی ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس لمحے میں نہ مہنگائی یاد آتی ہے نہ بجلی کا بل، نہ کوئی فکر نہ کوئی پریشانی، بس چائے اور سکون۔

مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ چائے بھی مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ چینی مہنگی، دودھ مہنگا، چائے پتی مہنگی جیسے کسی نے چائے کے دشمنوں کو بھی ساتھ ملا لیا ہو۔ مگر پاکستانی ہیں کہ مانتے نہیں، چائے کم کر لیں گے، دودھ کم کر لیں گے مگر چائے نہیں چھوڑیں گے۔ یہ قوم کی وہ ضد ہے جو قابلِ تعریف بھی ہے اور قابلِ رشک بھی۔

آخر میں بس اتنا کہنا ہے کہ اس ملک میں بہت کچھ بدل سکتا ہے، بہت کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے اور بہت کچھ خراب بھی ہو سکتا ہے۔ مگر ایک بات یقینی ہے کہ جب تک پاکستان ہے چائے رہے گی اور جب تک چائے ہے تو ہر مسئلے کا حل ہے، امید ہے، زندگی ہے اور پاکستانی مسکراتے رہیں گے۔

Check Also

Safar e Hijaz o Arab Se Aik Iqtibas

By Ali Akbar Natiq