Desi Bande Wastay Desi Commode Zaroori Aye
دیسی بندے واسطے دیسی کموڈ ضروری اے

ہمارا ایک جٹ دوست ہے۔ سیالکوٹ کے نواح ڈالو والی گاؤں میں رہتا تھا۔ رقبہ زرعی تھا، اس نے کافی سارا بیچا اور ڈیفنس فیز سکس لاہور میں کنال کا جدید گھر بنوایا۔ کچھ دن پہلے وہ سیالکوٹ سے فیملی لے کر لاہور شفٹ ہوگیا۔ مجھے کال کرکے کہتا کہ مہدی، بھابھی کو لے کر گھر آؤ، فیملی سے ملوانا ہے۔ ہم دونوں چلے گئے۔ گھر ظاہر ہے ماڈرن ہے اور انٹیرئیر ڈیزائننگ بھی پروفیشنل نے کی ہے لہذا ہر شے خوبصورت اور سٹیٹ آف دی آرٹ تھی۔ میں نے دیکھ کر کہا "چوہدری تو نے لگتا سارے مربعے بیچ کے گھر پر لگا دیے ہیں"۔ بولا "چھڈ یار، مزہ نہیں آیا شاہ، اے پ چ بہت ہی سوہنا اے۔ شو پیس ہے گا۔ ویخن واسطے ٹھیک اے، رہن واسطے نہیں، ہتھ لایاں ہر شے میلی ہو جاندی اے"۔
مجھے ہنسی آ گئی۔ کہاں دیہات کا جٹ اور کہاں جدید خوبصورت گھر جس کے سوئچز بھی الیکٹرک ٹچ پینل والے تھے۔ بیگم اور بھابھی کچن میں آپس میں باتیں کرتی رہیں اور ہم دونوں الگ بیٹھے تھے۔ میں نے یہ سُن کر کہا کہ چوہدری رہنے کی عادت ڈالو گے تو اس گھر سے بھی مانوس ہو جاؤ گے۔ وقت تو لگتا ہے۔ اب تم سمجھ لو کہ بچوں کی یہی پسند تھی اور اب زندگی بچوں کو سہولیات دینے میں ہی بسر ہوتی ہے۔ پھر بولا "یار، پ چ، مینوں نفسیاتی مسئلہ لاحق ہوگیا اے۔ دیواروں پر کوئی ہاتھ لگ جائے، کوئی چھوٹا سا دھبہ آ جائے، لکڑی کا کام جہاں ہوا وہاں کوئی چریٹ نظر آ جائے، کسی جگہ دھول پڑی نظر آئے، ٹائلز پر کہیں کچھ جما ہوا نظر آ جائے، یا کہیں بھی کوئی چھوٹا سا سکریچ یا رگڑ نظر آ جائے تو مجھے غصہ آنے لگتا ہے۔ جب تک اسے مٹا نہ لوں چین نہیں ملتا۔ تم بڑے دانشور بنے ہوئے ہو بتاؤ اتنے پیسے لگا کر ایسا ہونا نارمل ہے کیا؟" میں نے پھر ہنس کے کہا چوہدری اپنے اندر سے ڈالو والی گاؤں اور آبائی گھر تھوڑا نکال کر اس نئے گھر کی سپیس پیدا کر۔ ایزی رہ۔ یہ سب چلتا رہتا ہے۔
پھر بولا "میں نے تو اپنے واش روم کا کموڈ آج بدلوا کر دیسی کموڈ لگوایا ہے۔ پ چ، ایناں نے بروہی کمپنی دی ہر شے لائی ہوئی۔ امپورٹڈ کموڈ انگریزوں کی ٹٹی واسطے ٹھیک ہوں گے، دیسی بندوں کے لیے یہ فیل ہیں۔ سوہنے بوہت ہوندے پر ایناں دا مورا (سوراخ/ایگزٹ پوائنٹ) بہت چھوٹا ہوندا۔ یار، پ چ، اسی دیسی بندے، انگریز تے روٹی کھاندے نئیں، یا چاول کھاندے یا سلاد، نوڈلز تے سبزیاں، اسی تین روٹیاں دو ٹائم تے دو پراٹھے ناشے وچ کھان والے لوکی آں۔ بخاری، یار ساڈے دیسیاں دی ٹٹی اے فینسی کموڈ وچوں نئیں لنگ سکدی"۔
میں یہ علمی گفتگو سن کر ہنس ہنس دہرا ہوگیا۔ وہ بھی ہنستا رہا۔ پھر وقفہ لے کر بولا "قسم سے میں نے اپنا کموڈ تبدیل کرایا ہے جا کر دیکھ لو۔ یار، ساڈی ٹٹی ادھ فُٹ لمبی تے ڈھائی انچ گولائی وچ ہوندی۔ توں آپ دس اے فینسی نوے کموڈاں وچوں نکل سکدی؟ پہلے دن میں کموڈ وچ برش پھیر پھیر تھک گیا۔ دیسی کنک دی آؤٹ پُٹ ٹُٹدی وی چھیتی نئیں۔ نہ او ٹُٹے تے نہ فلش ہوئے۔ کموڈ پانی نال اوور فلو ہوگیا۔ بس کسے طرحاں میں برش چلا چلا کے حساب کتاب صاف کیتا تے تھک گیا۔ لک نوں چُک پے گئی۔ باہر نکل کے میں سدھی کانٹریکٹر نوں کال کھڑکائی کہ کڑی یاوے یہ کموڈ لے جا تے مینوں وڈے سوراخ والا دیسی لا کے دے"۔ اس کے بعد میرے قہقہوں کی آواز اتنی گونجی کہ کچن سے بھابھی اور بیگم پریشان ہو کر یہ دیکھنے آ گئے کہ یہاں کیا چل رہا ہے۔
چوہدری اپنے نئے گھر میں ایسے ایسے کیڑے نکالتا رہا کہ اس کی بیگم اور میری بیگم بھی ہنستی رہیں۔ البتہ خواتین کی موجودگی میں وہ ذرا مہذب گفتگو کر رہا تھا۔ رخصت کرنے کو باہر گاڑی تک چھوڑنے آیا۔ مجھے بولا "تم نے یہ ساری باتیں یاد رکھنی ہیں، کل کو کوئی اور گھر بنوایا تو کام آئیں گی"۔ میں نے کہا "نہیں چوہدری، میں دیسی کنک کی روٹیاں اور پراٹھے نہیں کھاتا مجھے ولائیتی کموڈ سے ایشو نہیں ہوتا"۔ بولا "چل فیر ایہہ ضرور لکھنا تاکہ دیسی بندے پہلے ای تیار رہن"۔

