Monday, 23 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Nasim Chaudhry
  4. Youm e Pakistan Se Difa e Pakistan Tak

Youm e Pakistan Se Difa e Pakistan Tak

یوم پاکستان سے دفاع پاکستان تک

23 مارچ محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک عہد، ایک خواب اور ایک ایسی جدوجہد کی علامت ہے جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو غلامی کی زنجیروں سے نکال کر ایک آزاد مملکت کی صورت میں نئی زندگی عطا کی۔ 23 مارچ 1940 کو لاہور کے تاریخی میدان، منٹو پارک (موجودہ مینارِ پاکستان) میں منظور ہونے والی قرارداد نے وہ بنیاد فراہم کی جس پر بعد ازاں پاکستان کی عمارت استوار ہوئی۔ یہ دن ہمیں نہ صرف ماضی کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے بلکہ حال کے تقاضوں اور مستقبل کی ذمہ داریوں کا احساس بھی دلاتا ہے۔

جب مولوی فضل الحق نے قرارداد پیش کی اور قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں اسے منظور کیا گیا تو شاید اس وقت کسی کے ذہن میں بھی یہ واضح نہ ہو کہ یہ قرارداد محض سات برس بعد ایک آزاد ریاست کی شکل اختیار کر لے گی۔ مگر یہ اس قوم کے عزم، اتحاد اور قیادت کی بصیرت کا نتیجہ تھا کہ 14 اگست 1947 کو دنیا کے نقشے پر پاکستان ابھرا۔ یہ سب کچھ کسی معجزے سے کم نہ تھا، مگر اس معجزے کے پیچھے لاکھوں قربانیاں، ہجرتوں کی داستانیں اور خون سے لکھی گئی تاریخ تھی۔

یومِ پاکستان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ ملک کسی اتفاق یا حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک واضح نظریے کے تحت حاصل کیا گیا۔ وہ نظریہ جس میں مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ شناخت، مذہبی آزادی اور ایک ایسا نظام شامل تھا جہاں وہ اپنی اقدار کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ یہی نظریہ آج بھی ہماری قومی شناخت کی بنیاد ہے۔

23 مارچ 1956 کو اسی دن کو مزید تاریخی اہمیت اس وقت ملی جب پاکستان کا پہلا آئین نافذ ہوا اور ملک کو "اسلامی جمہوریہ پاکستان" قرار دیا گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک خواب مکمل ریاستی ڈھانچے میں ڈھل گیا اور قوم نے آئینی بنیادوں پر آگے بڑھنے کا عہد کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک قرارداد اور ایک آئین ہی کسی ریاست کو مضبوط بنا سکتے ہیں؟ یقیناً نہیں۔ ریاست کی بقا اور استحکام کے لیے دفاع، اتحاد اور قربانیوں کی ایک مسلسل داستان درکار ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاک فوج کا کردار سامنے آتا ہے۔

پاک فوج نہ صرف پاکستان کی سرحدوں کی محافظ ہے بلکہ یہ اس نظریے کی بھی نگہبان ہے جس کے تحت پاکستان وجود میں آیا۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہی اس نوزائیدہ ریاست کو جن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ 1948 کی جنگ ہو، 1965 کا معرکہ ہو یا 1971 کے سانحات، ہر موقع پر پاک فوج نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، قربانی اور عزم کا مظاہرہ کیا۔

1965 کی جنگ میں جب دشمن نے رات کی تاریکی میں حملہ کیا تو پاک فوج نے نہ صرف اس حملے کو ناکام بنایا بلکہ دشمن کو ایسا جواب دیا کہ تاریخ میں سنہری حروف سے درج ہوگیا۔ 6 ستمبر کی صبح قوم نے جس حوصلے، جذبے اور اتحاد کا مظاہرہ کیا، وہ دراصل 23 مارچ کے نظریے کی عملی تصویر تھی۔

پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا دور آیا۔ یہ ایک ایسی جنگ تھی جو نہ روایتی تھی نہ ہی اس کے میدان واضح تھے۔ مگر پاک فوج نے قوم کے ساتھ مل کر اس چیلنج کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ آپریشن ضربِ عضب، ردالفساد اور دیگر کارروائیوں کے ذریعے ملک کے طول و عرض میں امن قائم کرنے کے لیے بے مثال قربانیاں دی گئیں۔ ہزاروں جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاکہ یہ وطن محفوظ رہ سکے۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کا ہر انچ زمین شہداء کے خون سے سینچا گیا ہے۔ چاہے وہ برف پوش پہاڑوں پر تعینات جوان ہوں یا ریگستانوں کی تپتی ریت پر سرحدوں کی نگرانی کرنے والے سپاہی، ہر ایک کا عزم یہی ہوتا ہے کہ دشمن کی کوئی نظر اس دھرتی پر نہ پڑنے پائے۔ "ہم ایک ایک انچ کی حفاظت کریں گے" صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی عہد ہے جسے پاک فوج ہر روز نبھاتی ہے۔

یومِ پاکستان کی پریڈ اسی عزم، اسی طاقت اور اسی یکجہتی کی علامت ہوتی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی یہ پریڈ نہ صرف ہماری عسکری قوت کا مظاہرہ ہوتی ہے بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ پاکستان ایک مضبوط، پرعزم اور خودمختار ریاست ہے۔ اس پریڈ میں جدید ہتھیاروں، تربیت یافتہ دستوں اور فضائی کرتبوں کے ذریعے یہ واضح کیا جاتا ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں۔

لیکن پاک فوج کا کردار صرف جنگوں تک محدود نہیں۔ قدرتی آفات، سیلاب، زلزلے یا دیگر ہنگامی حالات میں بھی پاک فوج ہمیشہ صفِ اول میں نظر آتی ہے۔ 2005 کے زلزلے سے لے کر حالیہ سیلابوں تک، ہر مشکل گھڑی میں فوج نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر عوام کی مدد کی۔ یہ وہ رشتہ ہے جو فوج اور عوام کے درمیان اعتماد، محبت اور احترام کی بنیاد پر قائم ہے۔

آج جب ہم یومِ پاکستان مناتے ہیں تو ہمیں صرف ماضی پر فخر کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ ہم اس ملک کی ترقی، استحکام اور سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ کیونکہ کوئی بھی قوم صرف اپنی فوج کے بل بوتے پر نہیں بلکہ اپنے شہریوں کے کردار، محنت اور دیانتداری سے مضبوط ہوتی ہے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے میں اتحاد، یکجہتی اور قومی شعور کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ ہمیں اپنی صفوں میں موجود اختلافات کو ختم کرکے ایک قوم بننا ہوگا، کیونکہ یہی وہ پیغام تھا جو 23 مارچ 1940 کو دیا گیا تھا۔

آج کا دن ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ آزادی کی قدر کیا ہوتی ہے۔ یہ آزادی ہمیں مفت میں نہیں ملی بلکہ اس کے لیے لاکھوں لوگوں نے اپنی جانیں، اپنے گھر، اپنے خواب قربان کیے۔ اس لیے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس آزادی کی حفاظت کریں اور اسے آئندہ نسلوں تک محفوظ طریقے سے منتقل کریں۔

پاک فوج پر فخر کرنا صرف ایک جذباتی اظہار نہیں بلکہ ایک حقیقت کا اعتراف ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جو دن رات، ہر موسم، ہر خطرے کے باوجود اس وطن کی حفاظت میں مصروف ہے۔ جب ہم سکون کی نیند سوتے ہیں تو سرحدوں پر کھڑے جوان جاگ رہے ہوتے ہیں۔ جب ہم اپنے گھروں میں محفوظ ہوتے ہیں تو وہ دشمن کی ہر چال پر نظر رکھے ہوتے ہیں۔

یومِ پاکستان ہمیں ایک بار پھر یہ یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک عظیم قوم ہیں، ہمارے پاس ایک شاندار تاریخ ہے، ایک مضبوط نظریہ ہے اور ایک بہادر فوج ہے۔ اگر ہم ان تینوں کو یکجا رکھیں تو کوئی طاقت ہمیں ترقی سے نہیں روک سکتی۔

یومِ پاکستان کے موقع پر اُن عناصر کے نام واضح پیغام جو لوگ اپنی ہی فوج کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں اور قوم میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ یاد رکھیں کہ یہ ملک بڑی قربانیوں سے حاصل ہوا ہے۔ اختلاف رائے کا حق سب کو ہے، مگر ریاستی اداروں کو بدنام کرنا اور دشمن کے بیانیے کو تقویت دینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ایسی روش نہ صرف قومی وحدت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ اُن شہداء کی قربانیوں کی بھی توہین ہے جنہوں نے اس وطن کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کیں۔

یومِ پاکستان ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم ایک قوم ہیں اور ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے۔ جو لوگ نفرت، تقسیم اور انتشار کا کھیل کھیلتے ہیں، انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ قوم باشعور ہے اور ایسے عزائم کو مسترد کرتی ہے۔

اختلاف کریں، مگر ذمہ داری کے ساتھ۔ تنقید کریں، مگر حقائق کے ساتھ۔ کیونکہ پاکستان سب کا ہے اور اس کی سلامتی، عزت اور یکجہتی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آئیے اس یومِ پاکستان پر ہم یہ عہد کریں کہ ہم اپنے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے، اپنے شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور اپنی پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ کیونکہ یہی وہ جذبہ ہے جس نے پاکستان بنایا، یہی وہ عزم ہے جو پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے گا۔

پاکستان زندہ باد
پاک فوج پائندہ باد!

Check Also

Badalte Log

By Asif Masood