Wednesday, 25 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Nasim Chaudhry
  4. Wonder Boy Aur Iron Man Ki Jori

Wonder Boy Aur Iron Man Ki Jori

ونڈر بوائے اور آئرن مین کی جوڑی

دنیا کی سیاست ایک شطرنج کی بساط ہے، جہاں ہر چال سوچ سمجھ کر چلنی پڑتی ہے اور بعض اوقات ایک خاموش چال پورے کھیل کا نقشہ بدل دیتی ہے۔ حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دنیا کو ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ ہر لمحہ ایک بڑے تصادم کا اندیشہ تھا۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان نے نہ صرف اپنی سفارتی بصیرت کا مظاہرہ کیا بلکہ خود کو ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کے طور پر بھی منوایا۔

برطانوی جریدے کی رپورٹ نے اس حقیقت کو مزید تقویت دی کہ پاکستان محض تماشائی نہیں بلکہ ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر(آئرن مین) کی قیادت میں پاک فوج اور وزیراعظم شہباز شریف (ونڈر بوائے) کی سیاسی حکمت عملی نے مل کر ایک ایسا توازن قائم کیا جس نے دنیا کو حیران کر دیا۔ ایک طرف عسکری قیادت نے عالمی طاقتوں کے ساتھ روابط کو استعمال کیا، تو دوسری جانب سیاسی قیادت نے علاقائی ممالک کے ساتھ اعتماد سازی کا عمل تیز کیا۔

یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں تھا کہ ایک طرف امریکہ جیسی سپر پاور اور دوسری طرف ایران جیسا خودمختار اور سخت مؤقف رکھنے والا ملک، دونوں پاکستان کی بات سننے پر آمادہ ہوئے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا امریکی صدر سے رابطہ محض ایک رسمی گفتگو نہیں بلکہ ایک سفارتی پیش رفت تھی جس کے اثرات فوری طور پر سامنے آئے۔ ایران کے پاور پلانٹس پر حملے کا مؤخر ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پسِ پردہ کچھ سنجیدہ اور مؤثر سفارت کاری جاری تھی۔

ونڈر بوائے، وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اپنی ذمہ داری بھرپور انداز میں نبھائی۔ ایرانی قیادت کے ساتھ براہِ راست رابطہ، ترکیہ سمیت دیگر علاقائی ممالک سے مشاورت اور مسلسل سفارتی سرگرمیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان نے اس بحران کو سنجیدگی سے لیا۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی متحرک سفارت کاری نے اس پورے عمل کو مزید مضبوط بنایا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ وہی حلقے جو کل تک عالمی میڈیا کے بعض حصوں کو اپنے بیانیے کے لیے استعمال کر رہے تھے، آج اسی میڈیا کی رپورٹس پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کل تک "فنانشل ٹائمز" کے گھنگرو پہن کر ناچنے والے آج اس کی تعریف سن کر شاید آئینہ دیکھنے سے بھی گھبرا رہے ہیں۔ یہ وہی عناصر ہیں جوپاکستان کی ہر کامیابی میں کیڑے نکالنے اور ہر مثبت پیش رفت کو سازش قرار دینے کے عادی ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ جب پاکستان ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کر رہا ہے، تو اس پر تنقید کیوں؟ کیا یہ وہی لوگ نہیں جو ہمیشہ کہتے تھے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر اپنا مثبت تشخص اجاگر کرنا چاہیے؟ آج جب یہی کام ہو رہا ہے تو انہیں تکلیف کیوں ہو رہی ہے؟ شاید اس لیے کہ حقیقت ان کے بیانیے کے خلاف جا رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر کا بیان بھی اپنی جگہ اہم ہے۔ انہوں نے نہ صرف مذاکرات کی بات کی بلکہ حملوں کو مؤخر کرنے کا اعلان بھی کیا۔ اگرچہ ایران نے بظاہر مذاکرات کی تردید کی، مگر عالمی سفارت کاری میں اکثر وہی ہوتا ہے جو بظاہر نظر نہیں آتا۔ بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی بات چیت ہی اصل فیصلے کرتی ہے اور پاکستان اس عمل میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل رہا جن پر ایران کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا۔ یہ پاکستان کی غیر جانبدار اور متوازن پالیسی کا نتیجہ ہے۔ نہ کسی کی اندھی حمایت، نہ کسی کی اندھی مخالفت، بلکہ صرف امن، استحکام اور خطے کی بہتری کا وژن اور سب سے پہلے پاکستان۔۔

اب ذرا ان "یوتھیا گروپ" پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے، جو ہر معاملے میں سازش ڈھونڈنے کے ماہر ہیں۔ کل تک وہ دعویٰ کرتے تھے کہ پاکستان عالمی سطح پر تنہا ہو چکا ہے، کوئی اس کی بات سننے کو تیار نہیں۔ مگر آج جب پاکستان کی آواز عالمی طاقتوں تک پہنچ رہی ہے تو ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچا۔ اب یا تو وہ خاموشی اختیار کریں گے یا پھر کوئی نیا بیانیہ گھڑنے کی کوشش کریں گے۔

طنز کی بات یہ ہے کہ کچھ لوگ اب بھی اس کامیابی کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ سب "ڈرامہ" ہے، کوئی اسے "اسٹیج مینجڈ" قرار دیتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب ڈرامہ ہے تو پھر عالمی میڈیا، عالمی قیادت اور عالمی منڈیوں پر اس کے اثرات کیسے ظاہر ہو رہے ہیں؟ کیا تیل کی قیمتوں میں کمی بھی کسی اسکرپٹ کا حصہ ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ ذمہ دار پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ صرف دفاعی میدان میں ہی نہیں بلکہ سفارتی محاذ پر بھی ایک مضبوط اور باوقار ملک ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر (آئرن مین) کی قیادت میں فوج نے جہاں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا، وہیں شہباز شریف (ونڈر بوائے) کی قیادت میں حکومت نے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا۔

یہ کامیابی کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ عسکری اور سیاسی قیادت کا ہم آہنگ ہونا، قومی مفاد کو مقدم رکھنا اور عالمی سطح پر مثبت کردار ادا کرنا، یہی وہ عوامل ہیں جو کسی بھی قوم کو عظمت کی طرف لے جاتے ہیں۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان نے ایک بار پھر دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ امن کا خواہاں ہے، جنگ کا نہیں۔ وہ پل بنانا چاہتا ہے، دیواریں نہیں اور یہی وہ سوچ ہے جو اسے دیگر ممالک سے ممتاز بناتی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بطور قوم بھی اس مثبت پیش رفت کو سراہیں، اپنی فوجی، سیاسی قیادت پر اعتماد کریں اور ان عناصر کو پہچانیں جو ہر کامیابی کو ناکامی میں بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیونکہ حقیقت ہمیشہ سچ کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے اور اس بار بھی سچ یہی ہے کہ پاکستان نے ایک بڑا سفارتی کارنامہ انجام دیا ہے۔

لیکن یوتھیا گروپ اور ان کے خودساختہ "گرو" کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ ان کا بیانیہ ہمیشہ پاکستان کی کامیابیوں سے متصادم رہتا ہے۔ جب ملک کو سفارتی سطح پر پذیرائی ملے تو ان کے ہاں خوشی نہیں بلکہ عجیب سی خاموشی اور سوگ کی کیفیت چھا جاتی ہے۔ یہ گروہ بدقسمتی سے ہر اُس موقع پر بے چین ہو جاتا ہے جب پاکستان کو عالمی سطح پر کوئی کامیابی ملتی ہے۔ ان کی سیاست کا محور تعمیری تنقید نہیں بلکہ مسلسل منفی پروپیگنڈا ہے، جس میں ریاستی اداروں خصوصاً پاک فوج کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

جو عناصر کل تک عالمی میڈیا کی آڑ میں ریاستی اداروں پر انگلیاں اٹھاتے تھے، آج فنانشل ٹائم کی اسی عالمی رپورٹ پر لب سی کر بیٹھے ہیں اور سمجھ نہیں پارہے کہ اب کیا کریں اور کونسا بیانیہ بنائیں؟ ، اس گروہ کی ایک مخصوص ذہنیت ہے جو ہر کامیابی کو مشکوک اور ہر مثبت پیش رفت کو نظر انداز کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔ قوم کو چاہیے کہ ایسے بیانیوں کو جذبات کے بجائے حقائق کی کسوٹی پر پرکھے، کیونکہ ریاست کی مضبوطی ہی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ قومی مفاد سے بالاتر ہو کر کی جانے والی سیاست ہمیشہ اپنے ہی بیانیے کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔

اور جہاں تک راقم الحروف کی جانب سے فیلڈ مارشل کو"آئرن مین" کے القاب کا تعلق ہے، تو یاد رکھیں کہ اگر کوئی قیادت واقعی فولادی اعصاب اور مضبوط فیصلوں کی حامل ہو، تو تاریخ اسے خود ہی ایسے ناموں سے یاد رکھتی ہے، چاہے ناقدین کو یہ کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے۔

ویلڈن "ونڈر بوائے" شہباز شریف۔۔ ویلڈن "آئرن مین" سید عاصم منیر، قوم کا فخر ہیں آپ۔۔!

Check Also

Wonder Boy Aur Iron Man Ki Jori

By Shahid Nasim Chaudhry