Saturday, 28 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Nasim Chaudhry
  4. Pakistanio, Aankhen Kab Kholo Ge

Pakistanio, Aankhen Kab Kholo Ge

پاکستانیو، آنکھیں کب کھولو گے؟

پاکستان کی سیاست میں جذبات کی شدت ہمیشہ عقل پر غالب رہی ہے۔ ہم شخصیات کے اسیر بن جاتے ہیں، نظریات کو نعروں میں بدل دیتے ہیں اور پھر انہی نعروں کے پیچھے چلتے چلتے حقیقت سے آنکھیں چرا لیتے ہیں۔ آج ایک بار پھر ایسا ہی لمحہ ہمارے سامنے کھڑا ہے، سوچنے کا، سمجھنے کا اور فیصلہ کرنے کا۔

حالیہ دنوں میں قاسم خان کی سرگرمیاں خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ وہ بین الاقوامی فورمز پر جا کر پاکستان کے حالات، خصوصاً اپنے والد عمران خان کی قید کے حوالے سے آواز اٹھا رہے ہیں۔ بظاہر یہ ایک بیٹے کا اپنے باپ کے لیے درد اور جدوجہد لگتی ہے، لیکن جب اس جدوجہد کا زاویہ پاکستان کے مفادات سے ٹکراتا ہوا دکھائی دے تو سوال اٹھانا لازم ہو جاتا ہے۔

یہ بات سامنے آئی ہے کہ قاسم خان نے یورپی یونین کے سامنے پاکستان کے انسانی حقوق کے معاملات کو بنیاد بنا کر اس کے GSP+ اسٹیٹس پر نظرثانی کی بات کی۔ اب یہاں سوال یہ ہے کہ GSP+ اسٹیٹس کیا ہے؟ یہ وہ رعایت ہے جس کے تحت پاکستان اپنی مصنوعات یورپی منڈیوں میں کم یا بغیر ٹیکس کے برآمد کرتا ہے۔ اس کا مطلب سیدھا سادہ ہے: پاکستان کی معیشت کو سہارا، صنعت کو فروغ اور لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار۔

اب ذرا رک کر سوچئے۔ اگر یہ اسٹیٹس معطل ہو جائے تو کیا ہوگا؟ پاکستانی مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی، آرڈرز کم ہو جائیں گے، فیکٹریاں بند ہوں گی، مزدور بے روزگار ہوں گے اور معیشت مزید دباؤ کا شکار ہو جائے گی۔ یعنی نقصان کس کا ہوگا؟ حکومت کا؟ یا عام پاکستانی کا؟ یہ وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب ہر باشعور پاکستانی کو خود سے مانگنا چاہیے۔

ایک طرف ایک بیٹا اپنے والد کی رہائی کے لیے آواز اٹھا رہا ہے، لیکن دوسری طرف اس آواز کی گونج پاکستان کی معیشت کو کمزور کرنے کی صورت میں سامنے آ سکتی ہے۔ کیا یہ طرزِ عمل محض سیاسی دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی ہے؟ یا پھر یہ اس سوچ کی عکاسی ہے کہ مقصد کے حصول کے لیے ملک کو بھی داؤ پر لگایا جا سکتا ہے؟

یہاں ہمیں جذبات سے نکل کر حقیقت کی زمین پر آنا ہوگا۔ دنیا کی سیاست مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل ہو یا یورپی یونین، یہ ادارے اصولوں کی بات ضرور کرتے ہیں، مگر فیصلے ہمیشہ اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر کرتے ہیں۔ اگر پاکستان کمزور ہوتا ہے، اس کی معیشت لڑکھڑاتی ہے، تو عالمی طاقتوں کے لیے یہ ایک موقع ہوتا ہے، نہ کہ کوئی المیہ۔

تو پھر سوال یہ بنتا ہے کہ کیا ہمیں اپنے ہی ہاتھوں اپنے ملک کو کمزور کرنے کی راہ ہموار کرنی چاہیے؟

یہاں ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے۔ پاکستان میں ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو عمران خان کو ایک نجات دہندہ کے طور پر دیکھتی ہے۔ ان کے لیے عمران خان صرف ایک سیاستدان نہیں بلکہ ایک نظریہ ہیں، ایک امید ہیں۔ لیکن کیا یہ امید اس حد تک جا سکتی ہے کہ ہم اپنے ملک کے خلاف کسی بھی اقدام کو نظر انداز کر دیں؟

یہ وہ مقام ہے جہاں قوموں کا امتحان ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوموں نے شخصیات کو ریاست پر ترجیح دی، وہ نقصان میں رہیں۔ ریاستیں نظریات، اداروں اور اجتماعی مفادات سے بنتی ہیں، نہ کہ کسی ایک فرد کے گرد گھومتی ہیں۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ بیرونی دنیا میں جا کر اپنے ملک کے خلاف بیانیہ دینا ہمیشہ دو دھاری تلوار ہوتا ہے۔ ایک طرف آپ کسی مخصوص مسئلے کو اجاگر کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف آپ اپنے ملک کی ساکھ کو بھی متاثر کرتے ہیں اور جب ساکھ متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات معیشت، سفارتکاری اور عالمی تعلقات پر پڑتے ہیں۔ کیا ہم اس قیمت کے لیے تیار ہیں؟

یہاں پر یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ صادق خان جیسے افراد کا نام بھی بعض اوقات خبروں میں آتا ہے، مگر ان کا معاملہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔ وہ برطانیہ کی سیاست اور یورپی تعلقات کی بات کرتے ہیں، جبکہ یہاں معاملہ براہِ راست پاکستان کے اندرونی حالات اور اس کے عالمی اثرات سے جڑا ہوا ہے۔

بات سیدھی ہے۔ اگر کوئی بھی، چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، کسی بھی خاندان سے تعلق رکھتا ہو، ایسا مؤقف اختیار کرتا ہے جس سے پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچے، تو اس پر سوال اٹھانا حب الوطنی کے خلاف نہیں بلکہ عین حب الوطنی ہے۔

ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کس کے ساتھ کھڑے ہیں: ایک فرد کے ساتھ یا اپنے ملک کے ساتھ؟ یہ کوئی آسان سوال نہیں، لیکن اس کا جواب دینا ضروری ہے۔

آج اگر ہم نے آنکھیں بند رکھیں تو کل حالات ہمیں مجبور کریں گے کہ ہم حقیقت کو تسلیم کریں، مگر شاید اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ معیشت ایک بار گر جائے تو اسے سنبھالنا آسان نہیں ہوتا۔ بے روزگاری، مہنگائی اور غربت وہ زخم ہیں جو برسوں تک قوموں کو اذیت دیتے ہیں۔

تو پھر کیا کرنا چاہیے؟ سب سے پہلے، ہمیں جذباتی فیصلوں سے بچنا ہوگا۔ ہر خبر، ہر بیان، ہر دعوے کو پرکھنا ہوگا۔ سوشل میڈیا کے نعروں سے نکل کر حقیقت کو دیکھنا ہوگا۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی سیاست میں کوئی بھی ملک یا ادارہ ہمارے مفاد کا محافظ نہیں، یہ ذمہ داری صرف ہماری اپنی ہے۔

دوسری بات، ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر ملک کے خلاف کسی بھی اقدام کی حمایت کرنا دانشمندی نہیں۔

تیسری اور سب سے اہم بات، ہمیں اپنی ترجیحات طے کرنی ہوں گی۔ اگر ہماری ترجیح پاکستان ہے، تو پھر ہر وہ بات، ہر وہ عمل، ہر وہ مطالبہ جو پاکستان کو نقصان پہنچائے، اسے رد کرنا ہوگا، چاہے وہ کسی بھی طرف سے آئے۔

آخر میں صرف ایک سوال چھوڑتا ہوں: اگر آج بھی ہم نے آنکھیں نہ کھولیں، تو پھر کب کھولیں گے؟ کیا ہم اس دن کا انتظار کریں گے جب فیکٹریوں کے دروازے بند ہوں گے، جب مزدور سڑکوں پر ہوں گے، جب مہنگائی ہمارے گھروں کا سکون چھین لے گی؟ یا پھر ہم آج ہی فیصلہ کریں گے کہ پاکستان سب سے پہلے ہے، ہر سیاست، ہر لیڈر، ہر تعلق سے بڑھ کر؟

حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، مگر ریاست قائم رہتی ہے۔ اگر کسی حکومت یا فیصلے سے اختلاف ہے تو اس کا حل یہ نہیں کہ ریاست کو نقصان پہنچایا جائے، بلکہ آئینی اور قانونی راستے اختیار کیے جائیں۔

اور یہاں ایک اور اہم نکتہ بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر عمران خان جیل میں ہیں تو یہ کسی فرد واحد کا فیصلہ نہیں بلکہ عدالتی عمل کا نتیجہ ہے۔ پاکستان میں عدالتیں موجود ہیں، اپیل کا نظام موجود ہے، انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے قانونی راستے موجود ہیں۔ اختلاف ہو سکتا ہے، تنقید بھی ہو سکتی ہے، مگر اس بنیاد پر ملک کے خلاف عالمی دباؤ بڑھانا ایک الگ بحث کو جنم دیتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں قوم کو سوچنا ہوگا۔

Check Also

Abhi Sabr, Sari Zindagi Sar Bulandi

By Asif Masood