Saturday, 18 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Nasim Chaudhry
  4. Mann Chalay Ka Raj?

Mann Chalay Ka Raj?

منچلے کا راج؟

فیصل آباد کارپوریشن آفس کے مرکزی دروازے پر چسپاں ایک متنازع نوٹس نے نہ صرف صحافتی حلقوں میں بے چینی پیدا کی بلکہ پورے شہر میں ایک سنجیدہ بحث کو جنم دے دیا۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا کاغذ تھا، مگر اس کے الفاظ میں ایسی شدت اور مفہوم میں ایسی پیچیدگی تھی کہ اس نے قانون، اخلاقیات اور آزادیٔ اظہار جیسے بنیادی سوالات کو دوبارہ زندہ کر دیا۔

یہ نوٹس، غیر دستخط شدہ تھا مگر اس میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی اور بعض مخصوص سرگرمیوں کو "قانونی و اخلاقی خلاف ورزی" قرار دیا گیا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی سرکاری ادارے کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ بغیر کسی باضابطہ حکم نامے، بغیر کسی دستخط یا مہر کے، اس نوعیت کا حساس اور سنگین نوٹس جاری کرے؟ اگر نہیں، تو پھر یہ نوٹس وہاں تک پہنچا کیسے؟

معاملہ اس وقت مزید الجھ جاتا ہے جب ریگولیشن آفیسر عظمت فردوس یہ بیان دیتی ہیں کہ "یہ نوٹس میں نے نہیں لگوایا، یہ کسی منچلے کی شرارت ہے"۔ یہ بیان بظاہر سادہ لگتا ہے، مگر اس کے مضمرات نہایت گہرے اور خطرناک ہیں۔ اگر واقعی یہ کسی "منچلے" کی شرارت ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک حساس سرکاری دفتر کی سیکیورٹی اس قدر کمزور ہے کہ کوئی بھی شخص آکر مرکزی دروازے پر اپنی مرضی کا نوٹس آویزاں کر سکتا ہے اور اگر ایسا نہیں، تو پھر یہ بیان خود ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

یہاں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ سرکاری دفاتر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ داخلی و خارجی راستوں پر کیمرے نصب ہوتے ہیں، ہر آنے جانے والے کی نگرانی کی جاتی ہے اور معمولی سرگرمی بھی ریکارڈ کا حصہ بنتی ہے۔ ایسے میں یہ دعویٰ کہ کوئی نامعلوم شخص آ کر ایک متنازع نوٹس لگا گیا اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی، نہ صرف ناقابلِ یقین ہے بلکہ انتظامی نااہلی کی واضح علامت بھی ہے۔

اگر ہم اس معاملے کو آئینی تناظر میں دیکھیں تو پاکستان کا آئین واضح طور پر آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 19 کے تحت ہر شہری کو اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے، جبکہ صحافت کو ایک آزاد اور خودمختار ادارہ تسلیم کیا گیا ہے۔ ایسے میں کسی سرکاری دفتر کی جانب سے صحافیوں کے داخلے پر پابندی لگانا نہ صرف آئین سے متصادم ہے بلکہ جمہوری اقدار کے بھی خلاف ہے۔

یہ معاملہ صرف ایک نوٹس تک محدود نہیں، بلکہ یہ ریاستی اداروں کی شفافیت، جوابدہی اور اہلیت کا امتحان ہے۔ اگر واقعی یہ ایک شرارت تھی تو اس کے ذمہ دار کو فوری طور پر سامنے لایا جانا چاہیے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جائے، انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے اور حقائق عوام کے سامنے رکھے جائیں اور اگر یہ نوٹس کسی اندرونی پالیسی کا حصہ تھا، تو پھر اس کے پیچھے موجود سوچ اور فیصلہ سازی کے عمل کو بھی بے نقاب کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ کیا ایک پبلک ڈیلنگ آفیسر، جو عوام اور میڈیا کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہوتا ہے، اس قابل ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو دیانتداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ نبھا سکے؟ اگر اس کے دفتر میں اس نوعیت کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے، تو یہ اس کی کارکردگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔

صحافت کسی بھی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتی ہے۔ اگر اس آنکھ پر پٹی باندھنے کی کوشش کی جائے، یا اس کان کو بند کرنے کی سازش ہو، تو یہ صرف صحافیوں کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کی بصیرت متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے اس واقعے کو محض ایک "شرارت" کہہ کر نظر انداز کرنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ خطرناک بھی۔

اداروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ شفافیت کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے۔ اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کرنا، اس کی اصلاح کرنا اور ذمہ داران کو جوابدہ بنانا ہی ادارہ جاتی وقار کو بحال کر سکتا ہے۔ ورنہ ایسے واقعات عوام کے اعتماد کو متزلزل کرتے ہیں اور اداروں کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔

آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ "دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی" ہونا اب وقت کی ضرورت ہے۔ نہ صرف اس لیے کہ حقیقت سامنے آئے، بلکہ اس لیے بھی کہ آئندہ کسی کو یہ جرات نہ ہو کہ وہ سرکاری دیواروں کو ذاتی ایجنڈے کے لیے استعمال کرے۔ یہ معاملہ ایک نوٹس سے کہیں بڑھ کر ہے، یہ ہمارے نظام، ہماری اقدار اور ہماری اجتماعی ذمہ داری کا آئینہ ہے۔

اب یہ معاملہ محض ایک نوٹس یا ایک بیان تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ریاستی ذمہ داری، انتظامی سنجیدگی اور عوامی اعتماد کا امتحان بن چکا ہے۔ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانا یقیناً وزیر اعلیٰ پنجاب، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کی ذمہ داری ہے۔ ضروری ہے کہ فوری، شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کروائی جائے، سی سی ٹی وی ریکارڈنگز کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور جس کا بھی قصور ثابت ہو، اسے بلا امتیاز نامزد کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

اداروں کی ساکھ بیانات سے نہیں بلکہ عمل سے بحال ہوتی ہے۔ اگر واقعی یہ کسی "منچلے" کی شرارت ہے تو اسے بے نقاب کیا جائے اور اگر یہ کسی اندرونی غفلت یا بدنیتی کا نتیجہ ہے تو ذمہ داروں کو ہرگز نہ بخشا جائے۔ یہی طرزِ عمل نہ صرف انصاف کے تقاضے پورے کرے گا بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی بحال کرے گا۔ اب فیصلہ حکام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس واقعے کو ایک مثال بناتے ہیں یا ایک اور سوالیہ نشان۔

Check Also

Sabr Aur Shukr, Momin Ki Zindagi Ke 2 Bunyadi Satoon

By Dawood Ur Rahman