1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Nasim Chaudhry
  4. Dr. Khalid Javed

Dr. Khalid Javed

ڈاکٹر طارق جاوید

وقت کے وسیع دامن میں کچھ لمحات ایسے بھی آتے ہیں جو محض رسمی نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے اوراق میں ایک روشن حوالہ بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک خوشگوار لمحہ اُس وقت سامنے آیا جب چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کی قیادت ایک ایسے صاحبِ علم، صاحبِ کردار اور صاحبِ بصیرت انسان کے سپرد کی گئی، جنہیں میں نہ صرف ایک وائس چانسلر کے طور پر بلکہ ایک دیرینہ رفیق، ہم خیال ساتھی اور مخلص دوست کے طور پر جانتا ہوں۔ پروفیسر ڈاکٹر ایم۔ طارق جاوید کی بطور وائس چانسلر تقرری بلاشبہ ایک ادارہ جاتی فیصلے سے کہیں بڑھ کر ایک فکری، علمی اور اخلاقی سمت کا تعین ہے، ایک ایسا فیصلہ جو آنے والے برسوں میں اس جامعہ کی شناخت کو نئی بلندیوں سے ہمکنار کرے گا۔

زندگی کے سفر میں بہت سے لوگ ملتے ہیں، کچھ محض راہگزر کے ساتھی ہوتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی موجودگی انسان کی سوچ، فکر اور طرزِ عمل پر دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید اُنہی شخصیات میں سے ہیں جن کے ساتھ گزرا ہوا وقت آج بھی ذہن کے دریچوں میں تازہ ہے۔ جامع زرعیہ فیصل آباد میں ڈاکٹر طارق جاوید، ڈاکٹر محسن رضا اور راقم شاہد نسیم یک جان تین قالب تھے۔ چار دہائیوں سے ذیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود اور خود غرض زمانے کے نشیب وفراز نے ہماری دوستی پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔ ہم آج بھی ایک دوسرے کے لئے ویسے ہی ہیں۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی شخصیت میں جو سادگی ہے، وہ بناوٹ سے پاک ہے، جو محنت ہے، وہ دکھاوے سے عاری ہے اور جو قابلیت ہے، وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ یہی اوصاف انہیں ایک عام استاد سے ایک غیر معمولی قائد میں ڈھالتے ہیں۔

تعلیم کے میدان میں اصل کامیابی صرف ڈگریوں کے حصول یا عہدوں کے ارتقاء سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس بات سے جانچی جاتی ہے کہ انسان اپنے علم کو کس حد تک دوسروں کے لیے روشنی بنا پاتا ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی زندگی اسی اصول کی عملی تصویر ہے۔ انہوں نے ہمیشہ علم کو بانٹنے، طلبہ کو آگے بڑھانے اور تحقیق کے نئے دروازے کھولنے کو اپنا نصب العین بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب وہ اس عظیم ذمہ داری پر فائز ہوئے ہیں تو دل یہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منصب ان کے لیے نہیں بلکہ وہ اس منصب کے لیے بنے ہیں۔

چولستان یونیورسٹی، جو پہلے ہی اپنی ایک منفرد شناخت رکھتی ہے، اب ایک ایسے رہنما کے ہاتھوں میں ہے جو نہ صرف ادارے کی علمی ضروریات کو سمجھتا ہے بلکہ دورِ حاضر کے تقاضوں سے بھی بخوبی آگاہ ہے۔ آج کا زمانہ صرف روایتی تعلیم کا نہیں بلکہ تحقیق، جدت اور عملی مہارت کا زمانہ ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی سوچ میں یہی ہم آہنگی موجود ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک یونیورسٹی کی ترقی صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ اسے معاشرے، صنعت اور معیشت کے ساتھ جڑنا ہوگا۔ ان کی قیادت میں یہ جامعہ یقیناً تحقیق کو تجارتی مواقع میں بدلنے، طلبہ کو عملی میدان کے لیے تیار کرنے اور قومی معیشت میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوگی۔

مجھے بخوبی یاد ہے کہ بطور ساتھی انہوں نے ہمیشہ مشکل حالات میں بھی حوصلہ نہیں ہارا۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور لہجے میں اعتماد اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ وہ مسائل کو رکاوٹ نہیں بلکہ مواقع سمجھتے ہیں۔ یہی رویہ آج ایک وائس چانسلر کے طور پر ان کی سب سے بڑی طاقت بنے گا۔ کیونکہ اداروں کی ترقی صرف وسائل سے نہیں بلکہ وژن، عزم اور قیادت کی مضبوطی سے ہوتی ہے اور یہ تینوں خوبیاں ان کی شخصیت میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔

ایک سچا معلم ہمیشہ اپنے شاگردوں کے مستقبل کو اپنے حال پر ترجیح دیتا ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید بھی اُن اساتذہ میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی توانائیاں صرف اپنی ذات کی ترقی پر صرف نہیں کیں بلکہ اپنے طلبہ کو بھی کامیابی کی راہوں پر گامزن کیا۔ ان کے شاگرد آج مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں اور یہ ان کی تربیت کا عملی ثبوت ہے۔ ایسے میں جب وہ ایک بڑے ادارے کی قیادت سنبھالتے ہیں تو یہ توقع بجا ہے کہ وہ اسی جذبے کے ساتھ ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو روشن کریں گے۔

چولستان کے وسیع میدان، جو کبھی صرف ریگستان کی پہچان تھے، آج علم و تحقیق کے نئے افق بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس خطے میں تعلیم کا فروغ نہ صرف مقامی سطح پر ترقی لائے گا بلکہ قومی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی تقرری اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ ان کی قیادت میں یہ جامعہ نہ صرف جنوبی پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک مثالی ادارہ بن سکتی ہے۔

یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آج کے دور میں تعلیمی اداروں کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، وسائل کی کمی، معیارِ تعلیم کا دباؤ اور عالمی سطح پر مقابلہ۔ لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب قیادت مضبوط ہو تو مشکلات راستہ نہیں روکتی بلکہ راستے بناتی ہیں۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی پیشہ ورانہ بصیرت اور انتظامی صلاحیتیں ان چیلنجز کو مواقع میں بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ وہ نہ صرف ایک بہترین استاد ہیں بلکہ ایک مدبر منتظم بھی ہیں اور یہی امتزاج کسی بھی ادارے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

بطور دوست، ان کی کامیابی میرے لیے ذاتی خوشی کا باعث ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر یہ ایک اجتماعی مسرت ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام ایک ایسے رہنما کے سپرد ہوا ہے جو دیانت، محنت اور قابلیت کا پیکر ہے۔ میں اور ڈاکٹر محسن رضا دل کی گہرائیوں سے انہیں اس عظیم منصب پر فائز ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، ہمت اور حکمت عطا فرمائے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھا سکیں۔

مجھے پورا یقین ہے کہ ان کی قیادت میں چولستان یونیورسٹی نہ صرف تعلیمی میدان میں نئی کامیابیاں حاصل کرے گی بلکہ تحقیق، جدت اور معاشی ترقی کے نئے باب بھی رقم کرے گی۔ ان کا وژن، ان کی محنت اور ان کی قیادت اس ادارے کو ایک نئی شناخت دے گی، ایک ایسی شناخت جو قومی اور عالمی سطح پر باعثِ فخر ہوگی۔

آخر میں، میں اپنے اس عزیز دوست، قابل ساتھی نو منتخب وائس چانسلر کو یہی کہنا چاہوں گا کہ آپ کی یہ کامیابی، تعیناتی آپ کی محنت کا ثمر توہے ہی۔۔ لیکن آج خوشی کے اس موقع پرمجھے آپ کے شریف النفس والد محترم یاد آرہے ہیں جو جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ایڈمن آفس کے قابل رشک ملازم تھے، جنہوں نے کبھی اپنی خدمات اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔۔ میرا دل یہ گواہی دیتا ہے کہ ان ہی کی دعاؤں کی بدولت یہ ممکن ہوا ہے اور آپ کا مستقبل اس سے بھی زیادہ روشن ہے۔ آپ کی قیادت میں یہ جامعہ یقیناً ترقی کی نئی منازل طے کرے گی اور آپ کا نام ان رہنماؤں میں شامل ہوگا جنہوں نے نہ صرف اداروں کو سنوارا بلکہ قوموں کے مستقبل کو بھی روشن کیا۔

اللہ تعالیٰ آپ کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور آپ کے علم، بصیرت اور قیادت کو اس ملک و قوم کے لیے نفع بخش بنائے۔

Check Also

Kitab Tehzebon Ki Maa: Karamazov Brotheran (14)

By Asif Masood