Dr. Haroon Ur Rasheed Tabassum Ki Yaad Main Taziyati Reference
ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس

سرگودھا یونیورسٹی کے نون بزنس اسکول آڈیٹوریم میں اس روز فضا کچھ مختلف تھی۔ ہال میں خاموشی کی ایک تہذیبی چادر بچھی ہوئی تھی، جیسے الفاظ بھی احترام میں آہستہ آہستہ سانس لے رہے ہوں۔ اسٹیج پر سجے ہوئے چہروں، آنکھوں کی نمی اور گفتگو کے منتظر لبوں سے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے آج صرف ایک تقریب نہیں بلکہ ایک عہد کی یاد تازہ ہونے والی ہے۔ یہ وہ لمحے تھے جب سرگودھا کی ادبی دنیا ایک ایسی شخصیت کو یاد کرنے کے لیے جمع ہوئی تھی جس نے علم، محبت اور کردار کے چراغ جلائے۔
معروف ادیب، شاعر اور ماہر اقبالیات پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم 2 اکتوبر 1955 کو سرگودھا میں پیدا ہوئے اور 22 فروری 2026 کو سرگودھا میں ہی انتقال کر گئے تھے۔
یونیورسٹی آف سرگودھا شعبہ اردوکے زیر اہتمام 4 مارچ 2026 کو معروف ادبی شخصیت مرحوم پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس اور"تقریبِ خراجِ عقیدت" منعقد کی گئی۔ اس بامقصد تقریب کا انعقاد نون بزنس اسکول آڈیٹوریم میں کیا گیا جس کی صدارت سرگودھا کے ممتاز ادیب و شاعر ممتاز عارف نے کی جبکہ مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر اعجاز رسول نورکا (پرنسپل ایگریکلچر کالج، سرگودھا یونیورسٹی) تھے۔ تقریب میں سرگودھا کی ادبی و علمی شخصیات، اساتذہ اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا جس کی سعادت بی ایس اردو کے اسکالر محمد باقر اسدی نے حاصل کی۔ اس کے بعد ایم فل اردو کی طالبہ سویرا ندیم نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں عقیدت کے پھول پیش کرتے ہوئے نعتِ رسول مقبول ﷺ سنائی۔
تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر طارق حبیب نے انتہائی خوبصورت انداز میں انجام دیے۔ اپنے ابتدائی کلمات میں انہوں نے کہا کہ یہ تقریب دراصل طلبہ و طالبات کے لیے ایک سبق ہے کہ وہ اساتذہ اور مہمانوں کی گفتگو سے سیکھیں کہ بڑی شخصیات کس طرح اپنی زندگی کو علم و کردار کے ذریعے بڑا بناتی ہیں۔ انہوں نے شاعر رام ریاض کا شعر پڑھ کر محفل کو ایک فکری سمت دی:
ہمارے سامنے کچھ مبتلائے غم گزرے
پھر اس کے بعد اسی راستے سے ہم گزرے
ڈاکٹر طارق حبیب نے مرحوم ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کے ساتھ اپنی رفاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انبالہ مسلم کالج میں ان کے ساتھ کام کیا اور ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ کبھی کسی کی غیبت نہیں کرتے تھے اور نہ ہی دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرتے تھے۔
اس کے بعد شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر ڈاکٹر نسیم عباس احمر نے معزز مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ ہماری مشرقی روایات میں بزرگوں اور اہلِ علم کو یاد کرنا ایک خوبصورت روایت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے سرگودھا کے چھوٹے بڑے ادیبوں پر لکھ کر اس شہر کی ادبی تاریخ کو محفوظ کیا۔ بقول ڈاکٹر انور سدید:
"ہارون الرشید سرگودھا کی ادبی تاریخ کے مورخ ہیں"۔
پروفیسر ڈاکٹر مرتضیٰ حسن شیرازی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم ایک ایسی وسیع اور ہمہ جہت ادبی شخصیت تھے جن کی خدمات کو چند لمحوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے تقریباً پینتیس سال گورنمنٹ انبالہ مسلم کالج میں تدریسی خدمات انجام دیں اور ان کے بقول اپنی پوری ملازمت میں کسی سے جھگڑا نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر تبسم سرگودھا کی تاریخ کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا تھے اور اکثر لوگ شہر کی تاریخی معلومات کے لیے ان سے رجوع کرتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹر صاحب اپنی خودنوشت "مسکراتے اشک" لکھنا شروع کر چکے تھے۔
ڈاکٹر ارشد ملک نے انہیں ایک اہم سماجی شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرگودھا میں شاید ہی کوئی شعبہ ایسا ہو جس کے افراد سے ڈاکٹر تبسم کی ملاقات نہ ہوئی ہو۔ وہ ہر شخص سے مثبت انداز میں ملتے اور ہر ایک کے ساتھ احترام کا رویہ رکھتے تھے۔
ڈاکٹر شفیق آصف نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ وہ علامہ اقبال کو اپنا مرشد کہتے تھے اور ان پر چالیس سے زائد کتابیں لکھ چکے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر تبسم ریڈیو پاکستان سرگودھا سے بھی وابستہ رہے اور "دانش کدہ" کے نام سے ایک علمی پروگرام کرتے تھے جسے انہوں نے وفات سے ایک ہفتہ پہلے تک جاری رکھا۔
ڈاکٹر شاہد نواز نے کہا کہ 2005 میں سرگودھا یونیورسٹی میں ان سے پہلی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے ڈاکٹر تبسم کی وقت کی پابندی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی کی طرح ان کی نماز جنازہ بھی مقررہ وقت پر ادا کی گئی۔
ڈاکٹر ساجد جاوید نے انہیں ایک مثالی استاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تدریس اور علمی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا۔ انہوں نے فیض احمد فیض کا شعر ان کے نام کیا:
ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن
اپنے شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے
پروفیسر ڈاکٹر سمیرا اعجاز نے کہا کہ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم ایک ایسا چراغ تھے جو ساری زندگی جلتا رہا اور دوسروں کے لیے روشنی کرتا رہا۔ انہوں نے ایک شعر پیش کیا:
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
انہوں نے بتایا کہ ایک تقریب میں ان کی گفتگو سن کر ڈاکٹر تبسم نے انہیں اپنی جیب سے انعام دیا اور حوصلہ افزائی کی۔
نامور شاعرہ نجمہ منصور نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور بتایا کہ ان کا تعلق زمانۂ طالب علمی سے ہارون الرشید صاحب سے تعلق بی اے کلاس سے ہے۔۔ نجمہ منصور نے کہا کہ میری پہلی کتاب کی تقریب رونمائی میں ہارون الرشید صاحب نے شرکت کی اور مزید کہا کہ ہارون الرشید تبسم صاحب کے لیے انہوں نے ایک نظم لکھی ہے جس کا عنوان "دانش کدہ کا شاہین" ہے اور انہوں نے یہ نظم سامعین کے سامنے پیش کی اور داد وصول کی۔
پروفیسر ڈاکٹر غلام عباس گوندل نے کہا کہ ڈاکٹر تبسم کی شخصیت اس شعر کا مصداق تھی:
شہر میں ایک چراغ تھا نہ رہا
ایک روشن دماغ تھا نہ رہا
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر تبسم ہمیشہ مایوس طلبہ کی تلاش میں رہتے تھے اور انہیں حوصلہ دے کر زندگی کے راستے پر گامزن کرتے تھے۔
پروفیسر یوسف خالد نے کہا کہ ان کی ڈاکٹر تبسم سے ملاقات چھپن برس پہلے ہوئی تھی اور وہ ہمیشہ محنت اور لگن سے کام کرنے والے انسان تھے۔
مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر اعجاز رسول نورکا نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ایک تقریری مقابلے میں انہیں ڈاکٹر تبسم کی ایک کتاب انعام میں ملی جس کے بعد ان سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ بعد ازاں سرگودھا میں ملاقات ہوئی اور ان کی شخصیت سے متاثر ہوتے چلے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر تبسم نے وصیت کی تھی کہ ان کے کفن پر پاکستانی پرچم کا بیج لگایا جائے۔
آخر میں تقریب کے صدر ممتاز عارف نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے دو سو کے قریب کتابیں لکھیں جو دبستانِ سرگودھا کے لیے ایک منفرد اعزاز ہے۔ انہوں نے علامہ اقبال پر چالیس سے زائد کتابیں تحریر کیں۔ انہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ یونیورسٹی کی لائبریری میں "گوشۂ تبسم" کے نام سے ایک خصوصی گوشہ قائم کیا جائے جہاں ان کی کتابیں محفوظ کی جائیں۔
تقریب میں شعبۂ اردو کے دیگر اساتذہ میں ڈاکٹر عمران اظفر، ڈاکٹر اسد عباس عابد، ڈاکٹر کامران شہزاد، عامر سہیل، ڈاکٹر شعیبہ معید، ڈاکٹر عابدہ نسیم، میڈم شفقت، ڈاکٹر رضوانہ نقوی اور میڈم ہمہ شیرازی بھی شریک تھے جبکہ طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
آخر میں یادگاری تصاویر بنائی گئیں اور اس طرح ایک علمی و ادبی تعزیتی محفل اپنے اختتام کو پہنچی، مگر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی شخصیت، خدمات اور یادیں حاضرین کے دلوں میں دیر تک روشنی بکھیرتی رہیں۔
کچھ شخصیات وقت کی دھول میں گم نہیں ہوتیں بلکہ اپنے کردار، علم اور محبت کے باعث زمانوں تک زندہ رہتی ہیں۔ ایسی ہی ایک درخشاں شخصیت مرحوم پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی تھی جنہوں نے اپنی زندگی علم و ادب، طلبہ کی تربیت اور سرگودھا کی ادبی تاریخ کو محفوظ کرنے کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کی یاد میں منعقد ہونے والی ایک پروقار تقریب نے ایک بار پھر اس حقیقت کو تازہ کر دیا کہ علم کے چراغ کبھی بجھتے نہیں بلکہ نئی نسلوں کے دلوں میں روشنی بانٹتے رہتے ہیں۔
ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم بطور شاعر، ادیب، محقق اور استاد علم و ادب کی ایسی روشن علامت تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی قلم، فکر اور کردار کی روشنی سے معاشرے کو منور کیا۔ ان کی حب الوطنی، علمی خدمات اور سماجی وابستگی انہیں ہمیشہ سرگودھا کی ادبی تاریخ میں زندہ رکھے گی۔۔ آج دل پر ایک خاموش قیامت اتری ہے، لفظ سوگوار ہیں، یادیں اشکبار ہیں اور دل گواہی دے رہا ہے کہ علم و ادب کا ایک روشن چراغ بجھ گیا۔
راقم الحروف کا تعلق بھی شاہینوں کے شہر سرگودھا سے ہے، مجھے چند روز پہلے یہ سعادت حاصل ہوئی کہ میں نے عظیم علمی و ادبی عالمی شخصیت ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم صاحب کا تفصیلی انٹرویو کیا، وہ گفتگو صرف سوال جواب نہ تھی بلکہ دانائی، محبت اور روحانیت کا ایک نورانی سفر تھی۔
آج وہ آواز خاموش ہو چکی ہے، مگر ان کے الفاظ، ان کی مسکراہٹ، ان کی بصیرت، ان کی پاکستانیت ہمیشہ دلوں میں زندہ رہے گی۔۔ ان کی یاد اور محبت میں وہی انٹرویو انشاالله کبھی دوبارہ پیش کروں گا، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس روشنی سے فیض یاب ہوں جو بجھ کر بھی بجھتی نہیں۔
اللہ رب العزت ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ہمیں ان کے علم و اخلاص کی روشنی پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

