Monday, 30 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Nasim Chaudhry
  4. Ataai Sahafi Hoshiyar Bash

Ataai Sahafi Hoshiyar Bash

اتائی صحافی ہوشیار باش

پاکستان میں صحافت ہمیشہ ایک مقدس پیشہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہ وہ میدان ہے جہاں قلم کو تلوار سے زیادہ طاقتور مانا گیا، جہاں سچ بولنا ایک عبادت اور عوامی مسائل اجاگر کرنا فرض سمجھا گیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس پیشے میں کچھ ایسے "عناصر" بھی شامل ہو گئے جنہوں نے صحافت کے تقدس کو مجروح کیا۔ یہ وہی عناصر ہیں جنہیں آج کل "اتائی صحافی" کہا جاتا ہے، ایسے لوگ جو نہ تو پیشہ ورانہ تربیت رکھتے ہیں، نہ اخلاقی اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں، مگر سوشل میڈیا کے ذریعے خود کو صحافی ظاہر کرکے معاشرے میں انتشار پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔ پچھلے دنوں اسی طرح ذوالفقار راحت نامی صحافی نے پاک فوج کےسربراہ بارے حیران کن فیک اور جھوٹ پر مبنی باتیں پھیلائیں۔

اسی ضمن میں وزارت داخلہ پاکستان کی جانب سے ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے جس کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی گئی ہے۔ اس اتھارٹی کے قیام کے ساتھ ہی ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس میں اہم شخصیات کو ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ اس فہرست کے مطابق مسٹر ایاز شوکت کو چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ممبران میں مسٹر سہیل اقبال، مسٹر عدنان خان، مسٹر محمد سلمان ظفر، مسٹر فہد ملک اور مسٹر محمد سعد علی شامل ہیں۔

یہ تقرریاں بظاہر ایک انتظامی قدم ہیں، مگر اس کے اثرات دور رس ہوں گے۔ کیونکہ پہلی بار سوشل میڈیا کے بے لگام میدان میں ایک ایسا ادارہ متعارف کرایا گیا ہے جو نہ صرف نگرانی کرے گا بلکہ کارروائی کا اختیار بھی رکھتا ہے۔

یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ سوشل میڈیا نے ہر فرد کو ایک پلیٹ فارم فراہم کر دیا ہے۔ اب ہر شخص ایک موبائل فون کے ذریعے "خبر" بنا سکتا ہے، "تجزیہ" کر سکتا ہے اور "رائے" عام کر سکتا ہے۔ مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں خبر اور افواہ کے درمیان فرق مٹ جاتا ہے۔ اتائی صحافی اسی خلا کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ بغیر تحقیق کے سنسنی خیز خبریں پھیلاتے ہیں، کردار کشی کرتے ہیں اور بعض اوقات قومی اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

ایسے حالات میں اس نئی اتھارٹی کا قیام بلاشبہ ایک اہم قدم ہے۔ اب کوئی بھی شخص جو فیک یا گمراہ کن معلومات سے متاثر ہو، وہ براہ راست شکایت درج کرا سکے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اتھارٹی 24 گھنٹوں کے اندر کارروائی کرنے کی پابند ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ اب جھوٹی خبر کئی دنوں تک وائرل رہ کر نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔ مگر یہاں ایک اہم سوال بھی جنم لیتا ہے: کیا یہ اتھارٹی واقعی اتائی صحافت کا خاتمہ کر سکے گی؟ یا یہ صرف ایک اور کاغذی کارروائی بن کر رہ جائے گی؟

اس سوال کا جواب وقت دے گا، مگر ابتدائی طور پر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر اس اتھارٹی نے اپنی ذمہ داریاں دیانتداری سے ادا کیں تو یہ سوشل میڈیا کے ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ خاص طور پر ان افراد کے خلاف کارروائی جو صحافت کے نام پر ذاتی ایجنڈے چلاتے ہیں۔

آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ یوٹیوب چینلز اور فیس بک پیجز بنا کر خود کو "سینئر صحافی" کہلوانا شروع کر دیتے ہیں۔ نہ ان کے پاس کوئی ادارہ ہوتا ہے، نہ کوئی اداریہ، نہ کوئی ذمہ داری، مگر ان کے الفاظ ہزاروں لوگوں تک پہنچتے ہیں۔ یہی وہ خطرناک پہلو ہے جس نے معاشرے میں کنفیوژن اور بداعتمادی کو جنم دیا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اصل صحافی اور اتائی صحافی میں فرق کیسے کیا جائے؟ اصل صحافی تحقیق کرتا ہے، تصدیق کرتا ہے، دونوں جانب کا مؤقف لیتا ہے اور پھر خبر نشر کرتا ہے۔ جبکہ اتائی صحافی جلد بازی میں، ذاتی مفاد یا شہرت کی خاطر بغیر تصدیق کے مواد شیئر کر دیتا ہے۔

نئی اتھارٹی کے چیئرمین ایاز شوکت اور ان کی ٹیم پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ سہیل اقبال جیسے سینئر صحافی کی موجودگی امید دلاتی ہے کہ اس ادارے میں پیشہ ورانہ مہارت شامل ہوگی۔ اسی طرح عدنان خان، محمد سلمان ظفر، فہد ملک اور سعد علی جیسے ممبران کا کردار بھی نہایت اہم ہوگا۔

لیکن ایک پہلو ایسا بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور وہ ہے آزادی اظہار۔ اگر اس اتھارٹی نے اپنی حدود سے تجاوز کیا، یا اختلافی آوازوں کو دبانے کا ذریعہ بن گئی، تو یہ خود ایک مسئلہ بن سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس کا استعمال صرف فیک نیوز اور نفرت انگیز مواد کے خلاف کیا جائے، نہ کہ تنقید کو خاموش کرنے کے لیے۔

اتائی صحافیوں کے لیے یہ واضح پیغام ہے: اب وقت بدل چکا ہے۔ اب ہر خبر، ہر پوسٹ اور ہر ویڈیو کی ذمہ داری آپ پر عائد ہوگی۔ اب "سنا ہے" یا "ذرائع کے مطابق" جیسے جملے آپ کو بچا نہیں سکیں گے۔ اب ثبوت، تحقیق اور سچ ہی آپ کی ڈھال ہوں گے۔

سوشل میڈیا صارفین کے لیے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے۔ ہمیں بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ ہر خبر کو بغیر تصدیق کے شیئر کرنا، ہر ویڈیو کو وائرل کرنا دراصل اس مسئلے کو بڑھاتا ہے۔ اگر ہم خود ذمہ دار شہری بن جائیں تو اتائی صحافت کی جڑیں خود بخود کمزور ہو جائیں گی۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ اتھارٹی ایک موقع ہے، ایک ایسا موقع جس کے ذریعے ہم اپنے ڈیجیٹل ماحول کو صاف اور محفوظ بنا سکتے ہیں۔ مگر یہ اسی صورت ممکن ہے جب اس کا استعمال شفافیت، دیانتداری اور انصاف کے اصولوں کے تحت کیا جائے۔

اتائی صحافیوں کے لیے اب پیغام بالکل واضح ہے: ہوشیار باش! اب سوشل میڈیا کا میدان بے لگام نہیں رہا، ایک چیئرمین، پانچ نجی ارکان اور تین سرکاری نمائندے شامل ہوں گے۔ اتھارٹی کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں قائم کیا جائے گا جبکہ ضرورت کے مطابق صوبائی دارالحکومتوں میں بھی دفاتر کھولے جا سکیں گے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ فیک نیوز پھیلانے والے عناصر اور خودساختہ یا غیر ذمہ دار (اتائی) صحافیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ متعلقہ اداروں نے خبردار کیا ہے کہ جھوٹی خبروں، افواہوں اور عوام کو گمراہ کرنے والے مواد کی اشاعت یا تشہیر میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف ڈیجیٹل ماحول کو محفوظ بنانے میں مدد ملے گی بلکہ ذمہ دار صحافت کے فروغ اور عوام کو مستند معلومات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔

Check Also

Aman Ka Alam, Pakistani Parcham

By Muhammad Riaz