Pera Ka Pehra
پیرا کا پہرہ

آجکل پنجاب میں سی سی ڈی اور پیرا فورس کا بڑا چرچا ہے۔ سی سی ڈی کا دائرہ اختیار تو دہشتگردی کے خلاف کاروائیاں کرنا ہے جبکہ پیرا فورس مہنگائی کنٹرول کرنے اور تجاوزات کے خاتمہ کے لئے بنائی گئی تھی۔ پیرا فورس نے شہری انتظامیہ کے ساتھ مل کر بڑے بازاروں اور شاہراہوں پر سے ٹھیلے تو ہٹا دئیے لیکن مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے ابھی تک اس فورس کی کارکردگی زیرو ہی ہے۔
جب پیرا فورس بنائی گئی تھی تو میں نے اپنے کالم میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر تو اس فورس کو سياسی مقاصد کے لئے استعمال نہ کیا گیا تو کسی حد تک اس فورس کے آنے سے تجاوزات کا خاتمہ ہو جائے گا اور اگر اسے بھی پوليس سمیت کارپوریشن کے محکموں کی طرح سياسی مداخلت کا سامنا ہوا تو یہ فورس بھی عوام کے لئے ایک نئے خرچے کے ساتھ ساتھ رشوت کا راستہ بھی کھول دے گی۔ آج اگر ہم پیرا فورس کی کارکردگی دیکھیں تو بڑی شاہراہوں اور مارکیٹوں میں تو کسی حد تک اس فورس نے کام کیا ہے لیکن اجتماعی طور پر یہ ایک فلاپ شو ہے جس کا مقصد عوام اور بالخصوص تاجروں کے درمیان خوف و ہراس پیدا کرنا اور حکمرانوں کا رعب و دبدبہ قائم کرنا رہ گیا ہے۔
آج بھی لاہور جیسے شہر میں سب سے بڑا مسئلہ تجاوزات اور بے جا مہنگائی ہے اور ان دونوں چیزوں نے شہری زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے لیکن پیرا فورس نے اس سلسلہ میں کوئی بڑا کارنامہ سر انجام نہیں دیا ہے سوائے سرکاری جگہوں اور اراضی کو واگزار کرانے کے۔ آج کل اس فورس کو شام آٹھ بجے دکانیں بند کرانے کا ٹاسک سونپا گیا ہے اور سر شام ہی پیرا فورس کی گاڑیاں مختلف کاروباری مراکز میں گھومنے لگتی ہیں اور زور زبردستی سے دکانوں کو بند کروانے میں مصروف نظر آتی ہیں۔
ہم نے دیکھا ہے کہ جب بھی کسی محکمے یا ادارے کو لوگوں کے روزگار کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے تو پھر ان محکموں میں کرپشن ہونا ایک قدرتی عمل ہے۔ میں جس علاقہ میں رہتا ہوں وہ وزیر اعلٰی پنجاب کا حلقہ ہے اور اس حلقہ میں آج بھی تجاوزات کی بھرمار ہے اور تقريبا تمام ہی بازاروں میں چبوترے بھی موجود ہیں اور سر راہ ٹھیلوں اور رکاوٹوں کی بھی بھرمار ہے اور یہی نہیں چیزوں کی قیمتیں بھی مارکیٹ کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہیں اور تول بھی پورا نہیں ہوتا ہے۔
فيروز پور روڈسے شاداب کالونی روڈ اور پھر شاداب کالونی کی مین سڑک پر قدم قدم پر غير قانونی دکانیں ہیں اور پھر ان دکانوں کے سامنے کچھ تو چبوترے بنے ہوئے ہیں اور کئی چبوترے اس وقت بھی تعمیر ہورہے ہیں اور اس علاقہ میں روزانہ صبح شام پیرا فورس کی گاڑی فراٹے بھرتی گزرتی ہے لیکن ان لوگوں کو سڑک پر تجاوزات نظر نہیں آتی ہیں۔ علاقہ کے لوگ بتاتے ہیں کہ شروع میں پیرا فورس کے لوگوں نے تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا تھا اور کئی افراد کو پکڑ کر بھی لے کر گئے تھے۔ پھر ان لوگوں کے دکانداروں اور تجاوزات والوں کے ساتھ معاملات طے ہوگئے جس کے بعد سب پیرا فورس کے لئے سارے چبوترے اور سڑک پر پڑی تجاوزات کوئی مسئلہ نہیں رہے۔ اب بھی کبھی کبھار پیرا فورس کے کارندے دکانداروں کو مہنگی چیزی بیچنے پر پکڑتے ہیں اور اپنے ڈالے میں بٹھا کر لے جاتے ہیں اور سوسائٹی سے نکل کر مين سڑک تک پہنچتے پہنچتے ان کے دکانداروں سے معاملات طے ہو جاتے ہیں اور پھر یہ لوگ اس ایک کلومیٹر کی مسافت میں ہی اپنا حصہ وصول کرکے دکانداروں کو چھوڑ دیتے ہیں اوربیہ حصہ دو تین ہزار روپے سے لے کر دس ہزار روپے تک بھی ہو سکتا ہے۔
اس وقت ان دکانداروں اور پیرا فورس کے کارندوں کے درمیان گہری دوستی ہو چکی ہے جس میں ہر مہینہ چائے پانی اور روٹی شوتی کے پرتکلف معاملات طے ہو جاتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کو سپورٹ کرنے لگھ ہیں۔ کوئی چار ماہ پہلے سوسائٹی کے لوگوں نے سڑک پر چبوترہ بنانے اور جنریٹر رکھنے پر نشتر ٹاؤن کے پیرا آفس میں شکایت درج کروائی جس پر پوری پیرا فورس حرکت میں آگئی اور دو دن تک وہاں پیرا فورس کے لوگ الاؤ لشکرکے ساتھ آتے رہے اور پھر ایک دم سے خاموشی طاری ہوگئی اور بغیر کاروائی کے ساری تجاوزات آج بھی موجود ہیں۔
اس دوران میں لوگوں نے مجھے اس معاملہ کے حوالے سے بات کی جس پر میں نے تحصیل نشتر ٹاؤن کے آفس فون کرکے شکایت کے بارے میں یاد دہانی کراجی تو تھوڑی دیر بعد وہاں پیرا فورس کے لوگ پہنچ گئے اور تین دن کا نوٹس دے کر واپس چلے گئے۔ انھوں نے مجھے بھی فون کرکے آگاہ کردیا کہ تین دن تک ساری تجاوزات ختم نہ ہوئیں تو ہم کاروائی کرکے خود ہٹا دیں گے اور ساتھ ہی تجاوزات کھڑی کرنے والے کو بھی آگاہ کردیا کہ آپ شکایت کنندہ سے مل کر معاملات طے کرلیں۔ اب اس سارے واقعہ کو بھی ایک ماہ گزر گیا ہے اور وہ تجاوزات آج بھی پوری آب و تاب سے موجود ہیں اور پیرا فورس کے لوگ روزانہ وہاں سے گزرتے ہیں لیکن کاروائی نہیں کرتے۔
مجھے ایک رہائشی نے بتایا کہ تجاوزات بنانے والے نے مجھے چیلنج کیا کہ آپ لوگ جو کرنا چاہتے ہیں کر لیں ليکن یہ تجاوزات ختم نہیں ہوں گی اور پھر اس نے پیرا فورس کے کسی افسر کی ریکارڈ کی گئی گفتگو بھی سنائی جس پر اہلکار کہہ رہا تھا کہ آپ فکر نہ کریں آپ کے خلاف کوئی آپریشن نہیں ہوگا اور یہ اب ایک حقیقت بھی ہے کہ شہریوں کی تحریری درخواست کے بعد بھی اگر تجاوزات کے خلاف کاروائی نہیں ہوگی تو پھر یہی فورس خود کوئی کاروائی کیوں کرے گی بلکہ اب تو پیرا فورس کی کارنامے کسی بھی دوسرے محکمے سے زیادہ شہرت پا چکے ہیں۔
بدقسمتی ہے کہ وطن عزیز میں سرکار اور اس کے محکمے صرف ان ہی کاموں کو غلط سمجھتے ہیں جو ان کی رضامندی کے بغیر کئے جاتے اور اگر ان ہی محکموں کو رشوت کی فیس ادا کرکے ماہانہ نياز بھی چڑھادی جائے تو پھر کسی مائی کے لال میں ہمت نہیں ہوتی کہ وہ ان قانون شکنوں کی شکایت بھی کرسکے۔ یقین جانئیے کہ یہ جتنی بھی تجاوزات نظر آتی ہیں ان کے پیچھے سرکاری محکموں کا ہاتھ ہے۔ پہلے تو ایل ڈی اے اور کارپوریشن کے محکمے دیہاڑی لگا کر قانون شکنی کو پروموٹ کرتے تھے اور اب ماشاءاللہ پیرا فورس ان سب پر برتری لے چکی ہے۔
سرکار کے محکموں اور تجاوزات بنانے والوں کے درمیان گہرا اتحاد ہے جس میں شکایت کرنے والے شہریوں کی سرکار کی مدد کرنے پر رازداری رکھنے کی بجائے بڑی ایمانداری سے شکایت کنندہ کے کوائف قانون شکنی کرنے والوں کو فراہم کئے جاتے ہیں۔ پیرا فورس کا ویسے تو نعرہ ہے عزت کے ساتھ نفاذ لیکن وطن عزيز میں وردی والا کوئی بھی شخص عام شہری کی عزت کی عزت نہیں کرتا ہے بلکہ تذلیل ہی کرتا ہے کیونکہ یہاں وردی ذمہ داری کا نام نہیں بلکہ طاقت کا نام ہے اور ایسے میں پیرا فورس کی وردی سے رحم اور احترام کی امید رکھنا کوئی عقلمندی نہیں ہے۔
میں جو سمجھ سکا ہوں کہ پیرا فورس جیسے محکمے سسٹم کو چلانے کے لئے نہیں بلکہ حکمرانوں کی تابعداری کے لئے بنائے جاتے ہیں اور سسٹم کو خراب کرنے کے زیادہ کام آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ تجاوزات اور مہنگائی کو ختم کرنے میں ناکام محکمہ دکانوں کو بند کرانے میں زیادہ مستعد اور کامیاب دکھائی دیتا ہے۔

