Pakistan Mein Barhte Hue Khandani Masail Aur Unka Mumkina Hal (3)
پاکستان میں بڑھتے ہوئے خاندانی مسائل اور اُن کا ممکنہ حل (3)

لوئیس پاسچر سے کون واقف نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے دسیوں لاکھوں کی تعداد میں انسانی جانیں بچائیں۔ علم خردبینی کے بانی اور ایک ذہین انسان کی شہرت رکھنے والے لوئیس پاسچر کا کہنا تھا کہ "موقع ایک ایسے ذہن کی مدد کرتا ہے جو فائدہ اٹھانے کو تیار ہو"۔
بہو سے زیادتی اور خاندان بھر کی ناخوشی اور اس سے وابستہ سماجی مسائل اپنی جگہ پر لیکن ایک نئے اور مقابلتا" نفیس خاندان کا ان مسائل سے نمٹنے میں ناکامی بہت سے خاندانوں کی زندگی میں زہر گھول دیتی ہے۔ آئیے انسانوں کی طبیعتیں پڑھیں۔ انسانوں کو عمومی طور پر پانچ طرح کے لوگوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے Accommodating، Compromising، Competing، Avoiding and Collaborating یعنی مطابقت رکھنے والے، سمجھوتہ کرنے والے، مقابلہ کرنے والے، گریز کرنے والے اور باہمی تعاون کرنے والے۔
اس میں اُن کی شخصیت بھی آتی ہے اور ان کی پرورش بھی اور وقت کے مطابق لوگ تبدیلی لے کر آتے ہیں لیکن اُن کی زندگی میں خمیر وہی رہتا ہے۔
ایک ایسی نوجوان لڑکی جس نے یتیمی اور غربت کاٹی ہو، وہ مقابلتاََ سمجھوتا کرنے والی ہو سکتی ہے اور اسی طرح ایک سمجھدار اور دانش مند خاندان کی بچی تعاون کرنے والی ہو سکتی ہے لیکن یہ کوئی لکھا پڑھا قانون نہیں ہے۔ بہت لمبی رسم آشنائی (کورٹ شپ) مکمل طور پر ناکام ہو سکتی ہے کیونکہ محبوب اور محبوبہ، سمجھوتا اور باہمی تعاون کرنے والے دکھائی دیتے ہیں لیکن خوشگوار ازدواجی زندگی جو بنیادی طور پر دو طرفہ برداشت، افہام و تفہیم اور احترام پر قائم ہوتی ہے، وہ بنیادی طور پر عنقا ہوتی ہے اور جب دونوں شوہر اور اہلیہ کے طور پر رہتے ہیں تو وہ خامیاں دکھائی دیتی ہیں جن کو بہت عرصے تک سنبھال کر رکھا گیا تھا نتیجہ ایک تکلیف دہ زندگی کا آغاز ہو سکتا ہے۔
ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمیں مطابقت کرنے والے لوگ ملیں اور کم و بیش یہی اسلام میں کفو کا تصور اور نظریہ ہے۔ والدین اپنے جاننے والوں میں رشتہ تلاش کرتے ہیں اور اس میں محبت تو ہوتی ہے لیکن درپردہ مطابقت اور موافقت کا خیال ہوتا ہے لیکن یہ سب ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے جب خاندان میں مسابقت اور مقابلہ شروع ہوتا ہے۔ بھائی اگر مقابلہ نہ بھی کریں تو بھی اُن کی اہلیہ اس مقابلے میں آ جاتی ہیں۔۔ والدین چار و ناچار بچوں میں مقابلہ کرتے ہیں اور سال ہا سال کی محنت برباد ہو جاتی ہے۔
شادی کے فوراََ بعد شوہر اور اہلیہ کی رسم الفت کو والدین مقابلہ سمجھتے ہیں اور بعض اوقات معاملے یہاں پہنچتے ہیں کہ بہو یا سمجھوتا کر لیتی ہے یا پھر ملنے سے گریز کرنا چاہتی ہے اور الگ ہو جاتی ہے۔
مطابقت کیسی ہی کیوں نہ ہو، ساس اور بہو کے رشتے میں مسابقت competition آتا ہے کیونکہ کھلونا ایک ہی ہے اور دونوں اس سے کھیلنے کے عادی ہیں، نتیجتاََ شوہر بھی مطابقت کر لیتا ہے، سمجھوتا کر ڈالتا ہے، دونوں یا ایک سے گریز کی راہ اختیار کرتا ہے یا پھر کسی سے بھی مقابلے پر اُتر آتا ہے۔
یہ ایک ایسا جادوئی چراغ ہے جس کو رگڑنے پر کیسا جن برآمد ہوگا، کوئی نہیں جانتا لیکن خاندان میں سب رگڑنے پر بضد ہوتے ہیں۔
زیادہ بچوں کے اور خاندان میں کزنز کے اور کوئی فوائد تھے یا نہیں لیکن وہ بچوں میں جانے انجانے طور پر سمجھوتے کی راہ بتاتے تھے۔ گلی محلے میں خواہ کرکٹ ہوتی یا شام کو گڈے گڈی کا کھیل، accommodating سے collaboration سکھاتا اور یہ زندگی کا حصہ بن جاتا۔ پھیری والے سے مول تول سمجھوتا سکھلاتا اور زندگی آسان ہو جاتی۔
سیل فون اور سوشل میڈیا نے ایک دوسرے سے سمجھوتا کرنے کی صلاحیت کھینچ لی ہے۔ کچھ پسند نہ آنے پر سمجھوتے کی چادر کی بجائے گریز کی راہ اختیار کی جاتی ہے یا لوگ مسابقت اور مقابلے پر اُتر آتے ہیں۔
غیرارادی طور پر اپنے گھر کا دکھاوا اور بدیس کے سفر میں ائیرلائن کی تصویریں اور بچوں کی کامیابی کی اطلاعات نے ایک ایسا معاشرتی خلا پیدا کر ڈالا کہ والدین کیلئے حالات سے سمجھوتا کم ہوگیا۔ شوہر کے والدین خصوصاََ غیر ضروری لگنے لگے اور وہ زیادتیاں جو سالوں سے معاشرتی طور پر برداشت کی جاتی تھیں وہ کرسی میں گڑی کیل کی طرح تکلیف دینے لگیں۔
لوئیس پاسچر کے کہے کو دوبارہ پڑھ ڈالئیے "موقع ایک ایسے ذہن کی مدد کرتا ہے جو فائدہ اٹھانے کو تیار ہو"۔
اگر آپ نو بیاہتا دلہن ہیں تو اپنا پرسنیلٹی ٹائپ دیکھ لیجئیے اور اپنے شوہر اور اُن کے والدین کا بھی، یہ موقع آپ کو آنے والے وقتوں کیلئے تیار کر ڈالے گا۔
اگر آپ میری طرح شادی شدہ بچوں کے والدین ہیں تو اپنے آپ کو جانچ لیجئیے اور کتنی برداشت کی ہمت ہے۔
اس نسل نے فوری تسکین instant gratification دیکھ رکھی ہے جو فیس بک، یو ٹیوب اور ٹیلیفون کی سکرین پر موجود ہے، اب معاملہ آپ کی برداشت پر ہے۔ جو سمجھوتا آپ تلاش کریں گے وہ دونوں طرف نہیں ہے۔
بچوں کی خوشی آپ کی خوشی سے زیادہ اہم ہے اور یہ فیصلہ ہر انسان، ہر گھر، ہر معاشرے کا مختلف ہے۔ یہاں میں آپ کو کوئی رائے نہیں دے سکتا اور اے کاش دے سکتا
کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
زندگی میں تقدیر کے اندھیرے گھڑے سے جتنے بھی خواہشوں کے سنگ ریزے آپ نے مٹھی بند کرکے اٹھائے اُن میں کتنے قیمتی جواہر نکلیں گے، کتنے بیش قیمت موتی اور کتنے یا زیادہ تر زخمی کر دینے والے اور جلد چیر ڈالنے والے بے قیمت پتھر، یہ تو آپ کے بختوں پر ہے۔
بس کم سنگ ریزے مٹھی ہلکی رکھتے ہیں اور کچھ کم تکلیف دیتے ہیں۔ وقت بدل گئے ہیں اور آپ صرف اپنے آپ کو ہی بدل سکتے ہیں۔
ماہر نفسیات، ماہر ہونے کی سند آہستگی سے زمین پر رکھ دیتا ہے جیسے زندگی کی ہاری ہوئی جنگ میں ٹوٹی ہوئی تلوار زمین پر رکھ دی جاتی ہے۔ عمر کے ہاتھوں ہاری ہوئی جنگ میں عزت سے پیچھے ہٹ جانا بھی اہم ہے۔ مقدر کے اٹل فیصلے قبول کرنا بھی اہم ہے۔
شوکتؔ ہمارے ساتھ بڑا حادثہ ہوا
ہم رہ گئے ہمارا زمانہ چلا گیا
اگر آپ کی اہلیہ یا شوہر حیات ہیں تو اُن کا ہاتھ محبت سے تھام لیجئیے اور نرمی سے اُن کے ہاتھ کی پشت کو بوسہ دیجئیے۔ یہ کامیابی ہے
"Knowing when to walk away is wisdom. Being able to is courage. Walking away with your head held high is dignity. "

