Pakistan Mein Barhte Hue Khandani Masail Aur Unka Mumkina Hal (2)
پاکستان میں بڑھتے ہوئے خاندانی مسائل اور اُن کا ممکنہ حل (2)

چند ماہ پہلے ایک عرب شادی پر جانا ہوا۔ ایک انتہائی پڑھے لکھے خاندان سے تعلق رکھنے والی نوجوان لڑکی کے والد مائیک تھام کر کہنے لگے کہ میں تمہیں نیک اولاد کی دعا دیتا ہوں۔ ہمارے ہاں اس کو شاید بے شرمی کہا جائے گا۔ نوجوان شوہر اور اہلیہ نے اپنا گھر بنایا جہاں والدین آتے ضرور ہیں لیکن گھر دونوں ہی کی ملکیت ہے۔
اس برصغیر کے مشترکہ خاندانی نظام جس کے بہت سے لوگ دلدادہ ہیں اور جس کے بہرحال معاشی فوائد بھی ہیں لیکن یہ سب ایک سوال سے شروع ہوتا ہے کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کون ہیں اور عروسی بندھن کس مقصد کیلئے باندھتے ہیں۔
آپ ایک انسان ہیں اور آپ کی ایک انفرادیت ہے اور اس انفرادیت کو جاننے کے کچھ ہی سال ہوتے ہیں۔ اضطرابی کیفیت، ڈپریشن میں لے جاتی ہے۔ ہم سب اپنی جگہ سے واقف ہیں لیکن اگر آپ شادی کیلئے تیار نہیں تھے اور صرف اپنے والدین کیلئے ایک ملازمہ چاہتے ہیں تو آپ بھی اضطراب میں رہیں گے۔ شادی اپنے لئیے کی جاتی ہے اور دو انسانوں کے اس رشتے میں کسی بھی وقت اور کوئی بھی تیسرا انسان ایک ہجوم ہے اور عروسی خوشبودار پھول ہجوم میں مُرجھا جاتے ہیں۔
اس سے پہلے کہ آپ عروسی بندھن باندھنے جائیں، آپ کو کچھ باتوں سے مکمل واقف ہونا چاہئیے کہ آپ ایک نوجوان مرد ہیں، ایک شوہر ہیں جس کی شادی کی خواہش میں جسمانی ضرورت کے ساتھ ساتھ جذباتی ضرورتیں ہیں، آپ گھر بنائیں گے، اولاد کی خواہش رکھیں گے، اپنی اہلیہ کا احترام کریں گے اور اُن کو وہی احترام دلوائیں گے جو آپ کی والدہ اور بہن کو اس گھر میں ملتا ہے یا ملتا تھا۔
آپ ایک نوجوان خوش شکل صاحبزادے ہیں جن کے والدین کی خواہش ایک ایسی بہو لانے کی ہے جو خاندان میں سب کا حصہ بن سکے لیکن اس میں آپ اور وہ، کیا اس بات سے واقف ہیں کہ آپ کی اہلیہ بھی گھر کو بدلنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔ وہ ایک رائے رکھنے والی انسان ہیں۔ وہ آپ کے والدین کا بھی خیال کر لیں گی لیکن یہ سب بطور احسان ہے اور وہ ہر مرتبہ اور ہر دوپہر اور ہر شام سب کے بیچ میں بآواز بلند شکریے کی مستحق ہیں۔ شکریہ کہنا سیکھئیے اور یہ انسانی احترام کا حصہ ہے۔
آپ کی اہلیہ جہیز بھر کر بطور ملازمہ نہیں آئی تھیں کہ آج سے امی کی دوائیں تمہارے حوالے، کنواری نند اور دیور کا رات کو دودہ کا گلاس دینا، امی کے سر کی مالش کرنا اور بابا کو وقت بے وقت چائے پلانا۔ اگر آپ اس لئیے ایک خاتون کی زندگی خراب کرنا چاہتے ہیں تو براہ مہربانی کنوارے رہئیے اور ایک اچھی ملازمہ لے آئیے۔ اگر آپ کے خاندان کے لئیے آپ کے سسرال نے جوڑے بھیجے تھے اور آپ نے قبول کئیے تھے تو آپ اخلاقیات کی پہلی جنگ میں ہار گئے ہیں۔ اس رشتے کی نیو میں غلط اینٹیں رکھ بیٹھے ہیں۔
عروسی بندھن درحقیقت کیا ہے؟
ایک نوجوان لڑکے اور لڑکی کا ایسے ایک ساتھ رہنا جس میں وہ ایک دوسرے کی جذباتی ضرورتیں مکمل طور پر پوری کریں، ہاتھ تھام کر چلیں، وقت بے وقت ایک دوسرے کو سہارا دے سکیں اور کاندھے پر سر رکھ سکیں۔ جہاں اُن کا ممکنہ طور پر گھر یا گھر کا ایک حصہ ہو جس کو وہ اپنا گھر کہیں۔ دونوں کے گھر والے ملنے آ سکیں اور ایک نوجوان اہلیہ اپنے شوہر کی دلداری کر سکیں۔ اُن کا ایسا گھر ہو جہاں بچوں کی کلکاریاں گونجیں اور وہ سب ایک دوسرے کی ذمہ داری اٹھائیں۔ جہاں ایک نوجوان اپنے والدین کے سامنے اپنی اہلیہ کا ہاتھ تھام سکے اور اُن کو بتا سکے کہ یہ میرے دل کی ملکہ ہے۔ جہاں یہ بات مکمل صاف ہو کہ میرے بہن بھائیوں کا میری بیوی کو اپنی خدمت کا کہنا نا مناسب ہے اور اگر وہ آپ والدین کی خدمت کرتی ہیں تو وہ آپ پر احسان کرتی ہیں اور آپ کے والدین پر بھی احسان کرتی ہیں۔ یہی عین اسلام ہے اور یہی انسانیت ہے۔
شادی سے پہلے نکاح نامے میں شرائط لکھوانا قانونی اور شرعی طور پر جائز ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "سب سے زیادہ پوری کیے جانے کے لائق شرط وہ ہے جس سے تم نے شرم گاہوں کو حلال کیا ہے"۔ یہ ابوبکر اور ابن مثنیٰ کی حدیث کے الفاظ ہیں، البتہ ابن مثنیٰ نے (الشرط کی بجائے) الشروط (شرطیں وہ ہیں) کہا ہے۔ کم و بیش معنی (صحيح مسلم / كتاب النكاح)۔ ڈرئیے مت اور خاندان کے با عزت لوگوں کے سامنے مناسب شرائط لکھوائیں۔ یہ خواتین کا حق ہے خصوصاََ اگر وہ کام کرنا چاہتی ہیں۔
اگر اسلام آپ کے لئیے اہم ہے تو یاد رکھیں کہ اسلام کی بنیاد میں شوہر اور اہلیہ کا رشتہ انتہائی اہم ہے۔ آپ کے والدین کو آپ کی اہلیہ کی ڈانٹ ڈپٹ یا جاسوسی کا کوئی حق نہیں ہے۔ آپ کی والدہ نہ تو آپ کی اہلیہ کو اُن کے گھر جانے سے روکنے کا حق رکھتی ہیں اور نہ ہی بے احترامی کا۔ آپ کی والدہ آپ کو ڈانٹ بھی سکتی ہیں اور آپ کو روک بھی سکتی ہیں لیکن اُن کو آپ کی ازدواجی زندگی سے باہر رہنا ہوگا۔ یہ عروسی اخلاقیات ہیں۔ آپ دونوں جس دن ایک دوسرے کی بات کسی تیسرے سے کریں گے یوں سمجھئیے کہ آپ نے باہمی احترام اور یقین کا پردہ چاک کر ڈالا۔ یہ پردہ رفو ہو بھی گیا تو بدنما نشان رہ جائے گا
Interpersonal therapy
یعنی بین الشخصی علاج کے چند ایک بنیادی ستون ہیں اور ان میں انتہائی اہم انسان کے کردار میں تبدیلی ہے خصوصاََ زندگی کے نئے مراحل مثلاً شادی میں اپنے خاندان میں مطابقت پیدا کرنا، تعلقات میں تناؤ نہ آنے دینا اور جو تعلقات بگڑ جائیں اُن کو بہتر بنانا ہے۔ آپ کی سماجی مشکلات کو دور کرنا ایک شوہر کی مکمل ذمہ داری ہے البتہ اپنی اہلیہ کو اپنے خاندان کا حصہ بنانا اور لوگوں سے گھلنے ملنے میں دشواری یا تنہائی کا احساس دور کرنا بھی شوہر کی ذمہ دار یوں کا حصہ ہے۔
زندگی میں معاشرے کو سمجھئیے اور دین کو پڑھئیے۔ یاد رکھیں کہ رسول اللہ کے قریب ترین دوست اُن کے خسر (سیدنا ابوبکر) تھے۔ دنیا میں سب سے زیادہ محبت وہ اپنی اہلیہ (سیدہ عائشہ) کے ساتھ کرتے تھے۔ جب یہ سیکھ لیں تو رشتوں میں صاف ستھری لکیریں کھینچئیے۔ یہ آپ کی ذمہ داری اور آپ کی زندگی ہے اس میں محبت، مؤدت اور نرم دلی سے ذمہ داریاں بانٹئیے اور اپنی اہلیہ کے ساتھ کھڑے رہییے۔ آنکھیں بند کرکے بہن بھائیوں اور والدین کی سننا اور ناانصافی کرنا رشتے کو گہن لگا دیتا ہے۔ یہی معاملہ اہلیہ کے ساتھ بھی ہے۔ اگر آپ آواز بلند کرنے کے عادی ہیں تو براہ کرم اس رشتے سے تب تک دور رہئیے جب تک اپنے جذبات اور عادات کو بہتر نہیں بنا لیتے۔
اگر آپ یہ پڑھ کر حیران ہوئے ہیں تو جانئیے ابھی آپ عروسی زندگی کے لئیے تیار نہیں ہیں۔

