Sunday, 14 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Sarfraz Saeed Khan
  4. Muasharti Adaab Ki Zakat

Muasharti Adaab Ki Zakat

معاشرتی آداب کی زکواة

آج ہمیں ملک سے باہر جانا تھا اور میرے ساتھ صرف میری بیٹیاں ہیں۔ جلد بازی میں بنائے گئے اس پروگرام میں تین مختلف ائیرلائن استعمال کرنے پڑے۔ انڈیاناپلس سے اٹلانٹا انٹرنیشنل ائیرپورٹ جو اب امریکہ کا مصروف ترین ایئرپورٹ ہے۔ وہاں دو یا اڑھائی گھنٹے کے انتظار کے بعد اگلی فلائٹ کے ایل ایم سے ایمسٹرڈم ایئرپورٹ اور وہاں سے ہماری منزل۔

گھر سے نکلتے ہوئے کچھ دیر ہوگئی اور کچھ ٹریفک نے آنکھ مچولی کھیلی۔ اندازے اور خواہش سے کچھ دیر سے پہنچے اور KLM نے گھر سے چیک ان نہیں کرنے دیا جو تین ائیر لائنز کی ٹکٹوں کی وجہ سے ظاہر تھا۔ ہم جس وقت ڈیلٹا ائیرلائن کے کاؤنٹر پر پہنچے تو ہماری خواہش تھی کہ کسی طرح ہمارا سامان بھی آخری منزل تک بُک ہو جائے اور ہماری نشستیں بھی ساتھ ساتھ ہوں۔ ہماری کچھ پریشان شکلیں دیکھ کر ہمیں ایک نوجوان لڑکی نے خاص طور پر اپنے کاؤنٹر کی طرف بلایا اور کہنے لگیں کہ آپ یہاں آ جائیے۔ وہ خوشگوار بچی میری بیٹیوں سے عمر میں تھوڑی ہی بڑی ہوں گی اور نام سے ظاہر تھا کہ وہ سکھ مذھب سے تعلق رکھتی تھیں۔ مسکراتے ہوئے سامان پر ٹیک لگائے اور جہاں ہماری نشستیں اکٹھی کر سکتی تھیں وہ کر دیں اور باقی کے متعلق سمجھا بتلا دیا کہ اگلی فلائٹ سے پہلے کروا لیجئیے گا۔ ایک اچھے دل کی مددگار خاتون نے سفر کا پہلا حصہ آسان بنانے میں کوئی کسر نہیں رہنے دی۔

فلائٹ بالکل بھری ہوئی تھی اور ہم سے درخواست کی گئی کہ اپنے ہاتھ میں اٹھانے والے سامان جمع کروا دیں۔ یہ چیز بہتوں کے لئیے خوشی کا باعث نہیں تھی۔ ہم نے آگے بڑھ کر اپنا سامان جمع کروایا اور جن آفیسر نے سامان لیا انہوں نے کہا کہ میں آپ کا سامان آپ کی آخری فلائٹ تک جمع کر رہا ہوں۔ یہ معاشرتی اچھائی دونوں طرف سے کی گئی۔

ڈیلٹا کی اس فلائٹ میں ہماری رنگ و نسل کے لوگ باید و شائد ہی ہیں اور سر ڈھانپے تو صرف ایک ہی خاندان ہے۔ ہمارے بیٹھتے ہوئے ایک خوشگوار ائیر ہوسٹس ہم سے اگلی سیٹ پر چند لمحوں کے لئیے آ گئیں اور میری بچیوں کی طرف جھک کر ان کے لباس کی توصیف کی اور پوچھنے لگیں کہ یہ لباس آپ نے کدھر سے لیا۔ اُن کو لباس کی ضرورت نہیں تھی لیکن یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگتی کہ بچیاں شاید اپنے حجاب کی وجہ سے اجنبیت محسوس کر رہی ہوں۔ چند اچھے لفظ اُن کی باقی فلائٹ کو خوش کُن بنا دیں گے۔ ہنستی مسکراتی اور خوشگوار طبیعت کی نوجوان خاتون اپنے حصے کی اچھائی کر گئیں۔ اچھائی دکھائی نہیں دیتی لیکن رات کی رانی کی طرح تاریکی میں مہکتی اچھائی اپنا پتہ دیتی ہے۔

آپ شاید مجھ سے پوچھیں کہ ہم نے کیا کیا۔ جہاز سے نکلتے ہوئے سارا سامان بشمول پلاسٹک کے اکٹھا کیا اور کام کرنے کے لئیے اندر آنے والی خواتین کا بوجھ ہلکا کر دیا۔ آنے والی خاتون کو دو ایک بار کم جُھکنا پڑے گا۔

اٹلانٹا ائیرپورٹ دنیا کا سب سے مصروف ائیرپورٹ ہے۔ نیشنل سے انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے مختلف ٹرمینل ہیں اور ٹرین لینے کے باوجود بہت دیر تک چلنا پڑتا ہے۔ ہمارے بالکل ساتھ ایک سیاہ فام نوجوان باپ تھا جو بمشکل اپنی چھوٹی سی بچی اور بہت سا سامان اٹھا کر چل رہا تھا۔ ایک مدد گار ہاتھ اور سارا سامان ہاتھ میں لینے کی کوشش اس نوجوان کے چہرے پر ایک دمکتی ہوئی مسکراہٹ لے آئی۔ شکرگزار باپ نے یہ کہنا ضروری سمجھا کہ بہت سے لوگ اتنا نہیں سوچتے۔ اُس کی شیرخوار بچی نے بھی مسکرانا ضروری سمجھا۔ ایک بے خود کر دینے والی معصوم مسکراہٹ دیکھنے کے ہی قابل تھی۔ ایک آدھ ستائشی آواز ہماری پشت سے بھی آئی۔ مڑ کر دیکھنا غیر اہم تھا کیونکہ یہ وہ کم از کم ذمہ داری تھی جو ایک انسان کو دوسرے انسان کو ادا کرنی تھی۔

یہ آج کے دن کی اب تک کی زکواة تھی۔ معاشرتی آداب کی زکواة۔ بہت کم اور غیرمحسوس لیکن آسانی کر دینے والی۔

Check Also

Behissi Waqt Ki Awaz Bana Di Jaye

By Syed Mehdi Bukhari