Tuesday, 23 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Sanober Nazir
  4. McNamara Fallacy Se Trump Fallacy Tak Ka Jangi Junoon

McNamara Fallacy Se Trump Fallacy Tak Ka Jangi Junoon

میکنامار فالیسی سے ٹرمپ فالیسی تک کا جنگی جنون

مشہور امریکی بین الاقوامی تعلقات کے ماہر جان میرشائمر (John Mearsheimer) نے 29 جنوری 2026 کو سابق فوجی تجزیہ کار ڈینی ڈیوس کے ساتھ ایک پروگرام ڈیپ ڈائیوو میں واضح کہا تھا کہ ٹرمپ کے پاس ایران کے خلاف کوئی اچھا فوجی آپشن نہیں ہے اور حملہ کرنا احمقانہ عمل ہوگا۔

امریکی اور یورپی مبصرین بھی ایران پر جنگ مسلط کرنے کے خلاف تھے جن میں کولن پاؤل، نوم چومسکی، جیفری ساش، ٹکر کارلسن، تھامس میسی، رینڈپال، تلسی گبارڈ اور جو کینٹ قابل ذکر تھے۔

دوسری جانب امریکی انٹیلیجنس چیفس نے بھی ٹرمپ کو بہت سنگین بریفنگز دیں تھیں اور بتایا کہ ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) حملے کے بعد مزید مضبوط ہو سکتا ہے یعنی حملہ رجیم کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کرے گا۔ ماضی میں ویت نام کی جنگ میں امریکی وزیر دفاع رابرٹ میکنامار کی وجہ سے امریکہ کو تاریخ کی شرمناک ہزیمت اٹھانی پڑی تھی۔ بالکل اسی طرح پیٹ ہیگسیتھ جیسے جنونی وزیر دفاع نے بھی میک نامارا فیلسی جیسی فکری غلطی دہرائی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ نے اس پر لبیک کہا۔

میک نامارا فالیسی ایک معروف اصطلاح ہے جو امریکی وزیرِ دفاع Robert McNamara کے نام سے منسوب ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ "جنگ میں صرف ان چیزوں کو اہم سمجھنا جنہیں اعداد و شمار میں ناپا جا سکتا ہو اور ان چیزوں کو نظر انداز کر دینا جنہیں ناپنا مشکل ہو لیکن جو حقیقت میں زیادہ اہم ہوں"۔

حالیہ جنگ میں بھی امریکہ نے ایران پر شدید بمباری کی اور آغاز ہی مناب میں معصوم بچیوں کے اسکول پر حملہ کرکے کیا جس میں چھ سے بارہ سال کی ایک سو ستر بچیاں شہید ہوئیں۔ امریکہ نے ایران پر ہزاروں فضائی اور میزائل حملے کیے، بمباری کی شکل میں طاقت کا استعمال کیا گیا۔ لیکن اس کے جواب میں ایران نے ہر بار بھرپور ردعمل دیا، مزاحمت کی اور اپنی صلاحیت کے مطابق جوابی کارروائیاں بھی جاری رکھیں۔

یہی وہ نقطہ ہے جہاں ایک الگ بیانیہ جنم لیتا ہے۔ عالمی مبصرین کے نزدیک اصل حقیقت یہ نہیں کہ کتنی بمباری ہوئی، بلکہ یہ ہے کہ اس مسلسل دباؤ کے باوجود ایران نہ تو ٹوٹا، نہ ہی غیر فعال ہوا۔ اس نے اپنی ریاستی ساخت، اپنی پالیسی اور اپنی دفاعی حکمتِ عملی کو برقرار رکھا۔

اسی لیے بعض تجزیہ کار اس صورتحال کو ایک "مزاحمتی توازن" کے طور پر دیکھ رہے ہیں جہاں طاقتور فریق اپنی پوری عسکری قوت استعمال کرنے کے باوجود کوئی نتیجہ حاصل نہیں کر پاتا اور دوسرا فریق اپنی بقا اور ردعمل کی صلاحیت برقرار رکھتا ہے۔

اس تناظر میں تجزیہ کار اسے "جیت" کے مفہوم میں بھی بیان کرتے ہیں، لیکن یہ جیت روایتی نہیں۔ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ریاست اپنی مزاحمتی صلاحیت کے ساتھ نہ صرف زندہ رہی بلکہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کو سفارت کاری کی میز پر لا بٹھایا، معاہدے کے چودہ نکات پیش کیے اور بالاخر بیشتر نکات اپنی شرائط پر منوا کر معاہدے پر دستخط کیے۔

سوال یہ ہے کہ ایران کیوں نہیں ہارا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں بھی طاقت کو صرف میزائلوں کی تعداد، بجٹ کے حجم یا تباہ کیے گئے اہداف سے ناپا جا رہا تھا۔ یہ بھی ایک طرح کی McNamara Fallacy ہی تھی، کیونکہ ایران کی مزاحمت کی صلاحیت، عوامی برداشت، ملکی جغرافیہ اور بقا کے عزم جیسے عوامل کو اعداد و شمار میں مکمل طور پر نہیں ناپا جا سکتا تھا۔

ویت نام کی جنگ میں صدر ٹرومین، صدر آئزن ہاور اور جون ایف کینیڈی کی طرح ٹرمپ کے اردگرد موجود مشیر اور پالیسی ساز بھی انہیں مسلسل یہی بتاتے رہے ہوں کہ ایران کی صلاحیت تیزی سے ختم ہو رہی ہے، اب اس کے پاس صرف بیس فیصد طاقت باقی ہے، پھر دس فیصد، پھر شاید اس سے بھی کم۔ نتیجہ یہ ہوا کہ واشنگٹن میں یہ تاثر پیدا ہوگیا کہ ایران اب کسی بھی وقت گھٹنے ٹیک دے گا اور مزاحمت کا سلسلہ زیادہ دیر نہیں چل سکے گا۔ لیکن جنگیں صرف اعداد و شمار سے نہیں جیتی جاتیں۔

بعد کے واقعات نے کم از کم اتنا ضرور ظاہر کیا کہ زمینی حقیقت شاید ان تخمینوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ تھی۔

اس سارے منظرنامے کو سمجھنے کے لیے ایک اور حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ امریکہ کا دفاعی بجٹ ایک ٹریلین ڈالر کے قریب ہے، جبکہ ایران کا دفاعی بجٹ تقریباً 12 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ یعنی وسائل، مالی طاقت اور عسکری اخراجات کے اعتبار سے دونوں کا موازنہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔ ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی فوجی اور معاشی طاقت اور دوسری طرف ایک ایسا ملک جو دہائیوں سے پابندیوں کی زد میں ہے۔

لیکن ایران کی کہانی صرف عسکری بجٹ کی کہانی نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ مسلسل پابندیوں، معاشی دباؤ اور بین الاقوامی تنہائی کے باوجود ایران نے اپنے معاشرے کو کس حد تک سنبھالے رکھا۔ تعلیم کے میدان میں اس نے خواندگی کی شرح کو تقریباً 98 سے 99 فیصد تک پہنچایا، جبکہ صحت کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت کی۔ طبی سہولیات، بنیادی صحت کے مراکز اور مقامی سطح پر ادویات و طبی تحقیق کے شعبوں میں جو کام ہوا، وہ ایسے حالات میں ہوا جب ملک کو مسلسل معاشی دباؤ اور بیرونی پابندیوں کا سامنا تھا۔

یہی وہ پہلو ہے جسے اکثر سیاسی اور عسکری مباحث میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کسی ملک کی طاقت صرف اس کے ٹینکوں، میزائلوں اور جنگی طیاروں سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس بات سے بھی ناپی جاتی ہے کہ وہ مشکل ترین حالات میں اپنے عوام کو تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کس حد تک فراہم کر پاتا ہے۔

ایران کے ناقدین اپنی جگہ موجود ہیں اور اس کے سیاسی نظام پر تنقید بھی کی جاتی ہے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ چار دہائیوں سے زائد عرصے تک سخت پابندیوں کے باوجود ریاستی ڈھانچے کو برقرار رکھنا، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں پیش رفت کرنا اور معاشرے کو انہدام سے بچائے رکھنا ایک ایسا پہلو ہے جسے سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ایران پر جنگ مسلط کرنے سے جہاں امریکہ کو ساڑھے تین ماہ میں 367 کھرب روپے سے زیادہ نقصان ہوا وہیں عالمی معیشت کو 6117 کھرب کا جھٹکا بھی لگا۔ جس کی وجہ سے پوری دنیا کو مہنگائی کا عذاب سہنا پڑ رہا ہے۔ مشرق وسطی میں قائم 20 امریکی فوجی اڈے ایرانی حملوں سے شدید متاثر ہوئے جن کی مکمل بحالی پر بھی اربوں ڈالر کی لاگت بتائی جارہی ہے۔ چالیس سے زائد مہنگے ترین و جدید جنگی طیارے تباہ ہوئے۔ مشرق وسطی کا نہ صرف انفراسٹرکچر تباہ ہوا بلکہ معیشت بھی بری طرح متاثر ہوئی اور نتیجہ کیا نکلا؟ بی بی سی فارسی کے معروف صحافی علی سید حسینی نے اس جنگ اور ایران امریکہ معاہدے کے حوالے سے بہترین جواب دیا ہے۔

"جناب ٹرمپ! آپ اسلامی جمہوریہ کے دشمن ہیں یا دوست"۔

2018 میں شائع ہونے والی اکیڈمک کتاب "Covert Regime Change" کے مطابق، 1947 سے 1989 کے درمیان امریکہ نے 64 ممالک میں اقتصادی مفادات کے لیے رجیم چینج کی کوشش کی۔ جن میں سے 39% کامیاب رہیں۔

خلاصہ صرف اتنا ہے کہ اگر امریکی حکومتوں کو دوسرے ممالک کے عوام کی پروا نہ بھی ہو، تو کم از کم انہیں اپنے ہی شہریوں کے خون پسینے کی کمائی کا خیال ہونا چاہیے۔ آخر کب تک امریکی عوام کے ٹیکسوں سے جمع ہونے والی دولت جنگوں، مداخلتوں اور تباہ کن تنازعات کی نذر کی جاتی رہے گی؟

اقبال کے یہ مصرعہ اس موقع پر بس یونہی یاد آگیا۔

"تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن"

Check Also

Zehreelay Afrad Ke Sath Nibah Ka Hunar

By Rao Manzar Hayat