Sufaid Deewar Ke Uss Par Sheeshay Jaise Log
سفید دیوار کے اس پار شیشے جیسے لوگ

آئیں، آج میں آپ کو انسانی تاریخ کے اس پراسرار باب کی سیر کرواتا ہوں جہاں قدیم صوفیانہ کتب کے اوراق جدید سائنسی انکشافات سے ہم آغوش ہوتے ہیں۔ یہ اس پاکیزہ قوم کی داستان ہے جس نے ابلیس کے غرور کو خاک میں ملا دیا تھا۔
تاریخِ اسلام اور اسرائیلی تذکروں اور قدیم روایات سے ماخوذ کتب (جیسے امام ثعلبی کی عرائس المجالس اور علامہ دیار بکری کی تاریخِ خمیس) میں ایک ایسی بستی کا ذکر ملتا ہے جہاں کے لوگ تقویٰ اور سچائی کا پیکر تھے۔ ان کے ہاں جھوٹ، حسد اور میرا-تیرا، کا کوئی تصور نہ تھا۔
روایت ہے کہ ابلیس نے اس قوم کو گمراہ کرنے کے لیے اپنا سب سے بڑا داؤ کھیلا۔ اس نے ایک نہایت حسین نوجوان کا روپ دھار کر ان کے درمیان قیام کیا اور انہیں دنیاوی لذتوں، اقتدار اور انفرادی ملکیت کا لالچ دینا شروع کیا۔ اس نے چاہا کہ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف شک اور حرص پیدا کرے، مگر اس بستی کا ہر فرد اپنے دل کی صفائی میں اس مقام پر تھا کہ وہ ابلیس کے وسوسوں کو زبان پر آنے سے پہلے ہی پہچان لیتا تھا۔ ابلیس نے صدیوں کی محنت کے بعد اعتراف کیا کہ وہ اس قوم کا ایک فرد بھی نہ بہکا سکا۔
جب زمین پر دیگر اقوام (یاجوج ماجوج) کا شر حد سے بڑھ گیا اور ان پاکیزہ لوگوں کے لیے جینا محال ہونے لگا، تو اللہ نے ان کی حفاظت کا غیبی فیصلہ فرمایا۔ روایات کے مطابق، قدرت نے انہیں ایک پراسرار سرنگ، کے ذریعے یا زمین کے کسی مخفی راستے سے جبلِ قاف، کے اس پار یا کسی ایسی جہت (Dimension) میں منتقل کر دیا جہاں مادی انسان کی رسائی نامکن تھی۔ اللہ نے انہیں دنیا کی آلائشوں سے بچانے کے لیے اپنی خاص پناہ میں "اٹھا لیا"۔
یہیں سے اس کہانی میں حضرت ذوالقرنین کا کردار داخل ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم میں جس سد، (دیوار) کا ذکر ہے، وہ محض پتھروں کی رکاوٹ نہیں تھی۔ جدید تشریحات کے مطابق، ذوالقرنین نے لوہے اور تانبے کے پگھلے ہوئے آمیزے سے ایک ایسا مقناطیسی اور فریکوئنسی ڈوم، (Frequency Dome) تیار کیا جس نے اس خطے کو زمان و مکان کی ایک ایسی پرت میں چھپا دیا جہاں مادی انسان کی رسائی نامکن ہوگئی۔ یہ دراصل وہی قوم تھی جسے بچانے کے لیے یہ عظیم رکاوٹ کھڑی کی گئی تھی۔
یہی وہ لوگ ہیں جنہیں صوفیانہ اصطلاح میں رجال الغیب، یا مردانِ غیب، کہا جاتا ہے۔ ان کا تصور یہ ہے کہ یہ وہ پاکیزہ ارواح اور اجسام ہیں جو اللہ کے تکوینی نظام، (کائنات کا انتظامی ڈھانچہ) کو چلاتے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جن سے ملنے کے لیے حضرت موسیٰؑ کو حضرت خضرؑ کے پاس بھیجا گیا تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ ظاہری دنیا کے پیچھے ایک باطنی نظام کیسے کام کرتا ہے۔
یہی رجال الغیب، آج بھی کسی بڑی انسانی مصیبت میں اللہ کے حکم سے نمودار ہوتے ہیں اور پلک جھپکتے ہی واپس اپنی اسی مخفی دنیا، میں لوٹ جاتے ہیں۔
اب اس کہانی کا سب سے دلچسپ موڑ آتا ہے۔ جس دیوار کو ذوالقرنین نے بنایا، وہ شاید وہی ہے جسے آج ہم انٹارکٹیکا کی برفانی باڑ، (Ice Wall) کہتے ہیں۔
1946 اور 1947 میں امریکی نیوی کے ایڈمرل رچرڈ بائرڈ نے "Operation Highjump" کے نام سے ایک مہم جوئی کی، جس کے بعد ان کے پراسرار بیانات سامنے آئے کہ قطبِ جنوبی کے پار ایک ایسی دنیا ہے جو ہم سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ اور پرامن ہے۔
1959 میں دنیا کی تمام بڑی طاقتوں نے مل کر "Antarctic Treaty" پر دستخط کیے، جس کے تحت اس براعظم کے ایک بڑے حصے کو ممنوعہ علاقہ، قرار دے دیا گیا۔
آج کی عظیم مملکتیں اور عالمی طاقتیں اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ اس برفانی باڑ کے پیچھے بسنے والی دنیا اس قدر ترقی یافتہ اور طاقتور ہے کہ ان کی ٹیکنالوجی کا مقابلہ کرنا انسانی بس میں نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا کے بڑے ممالک کو یہ خوف لاحق ہے کہ اگر ان سے کسی قسم کی چھیڑ خانی کی گئی یا ان کے حدود میں مداخلت ہوئی، تو اس کا انجام پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر انہیں ان کے علاقے میں مکمل آزادی اور "کھلی چھوٹ" کے ساتھ رہنے دیا جا رہا ہے۔ انسانیت کے لیے شاید یہ ایک غیبی ڈھال ہے، کیونکہ سنا یہی ہے کہ اس ابدی برف کے پیچھے صرف صاف دل لوگ بستے ہیں، جن کی دعا ہی اس کائنات کے توازن کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔

