Thursday, 19 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Saleem Zaman
  4. Kya Imam Bukhari Ka Kaam Insani Aqal Se Bahir Hai?

Kya Imam Bukhari Ka Kaam Insani Aqal Se Bahir Hai?

کیا امام بخاریؒ کا کام انسانی عقل سے باہر ہے؟‎

جس قوم کا ایک عام بوڑھا (مومن) ساٹھ سال کی عمر تک صرف رمضان کے ماہ میں 60 ہزار سجدے کر لیتا ہے، اس قوم کے "جدید دانشور" امام بخاریؒ کے 30 ہزار سجدوں پر کیوں سیخ پا ہیں؟ عقل اور حساب کا وہ موازنہ جو اعتراض کرنے والوں کی علمی یتیمی اور ایمانی کمزوری کو بے نقاب کر دے گا۔

امام بخاری رحمہ اللہ کی کل عمر 62 سال (194ھ تا 256ھ) تھی۔ آپ نے محض 16 سال کی عمر میں حجازِ مقدس کے اسفار شروع کیے اور اسی کم عمری میں "صحیح بخاری" کی تدوین کا بیڑہ اٹھایا۔ زندگی کے 16 قیمتی سال (تقریباً 32 سال کی عمر سے 48 سال کی عمر تک) آپ نے اس کتاب کی ترتیب و تدوین میں صرف کیے۔ یہ وہ دور تھا جب آپ کی جسمانی قوت اور یادداشت اپنے عروج پر تھی۔

آج کل سوشل میڈیا پر کچھ حلقوں کی جانب سے ان 16 سالہ علمی مشقت پر یہ کہہ کر اعتراض کیا جاتا ہے کہ: "ہزاروں میل کے اسفار کے ساتھ 7 ہزار سے زائد احادیث پر نوافل کی ادائیگی کیسے ممکن ہے؟" آئیے، اس پروپیگنڈے کا جواب ریاضی، سنتِ نبویﷺ اور ایک عام مسلمان کے معمول کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔

1۔ سجدوں کا موازنہ: امام بخاریؒ بمقابلہ ایک عام مومن

ہم سب کے اردگرد ایسے بزرگ موجود ہیں جو پانچ وقت کے نمازی ہیں۔ ذرا ٹھنڈے دل سے یہ حساب لگائیے:

ایک عام مسلمان کی تراویح: اگر ایک شخص اپنی 62 سالہ زندگی (امام صاحب کی کل عمر کے برابر) میں صرف رمضان کے ماہ میں باقاعدگی سے 20 رکعت تراویح ادا کرے (دیگر تمام نوافل اور تہجد کو چھوڑ کر)، تو وہ اپنی زندگی میں صرف تراویح کی مد میں 60,000 سجدے کر لیتا ہے۔

امام بخاریؒ کے تحقیقی نوافل: اس کے مقابلے میں، امام بخاریؒ نے صحیح بخاری کی 7,563 احادیث پر فی حدیث دو رکعت کے حساب سے 16 سالوں میں کل 15,126 رکعتیں یعنی 30,252 سجدے کیے۔

روزانہ کا اوسط: 16 سال (5,840 دن) کے حساب سے امام صاحب کو روزانہ اوسطاً صرف 2.6 رکعت نفل ادا کرنے تھے (یعنی کسی دن 2 رکعت اور کسی دن 4 رکعت)۔

نتیجہ: جب ایک عام شہری، جو کوئی عالم یا ولی بھی نہیں، وہ صرف تراویح کی مد میں 60 ہزار سجدے ہنسی خوشی کر سکتا ہے، تو امامِ وقت کے لیے 16 سالوں میں روزانہ اوسطاً صرف 2 سے 3 رکعت نفل پڑھنا اور کل 30 ہزار سجدے کرنا کیسے "ناممکن" ہوگیا؟

2.روزانہ کا کام: کتنا بوجھ تھا؟

اگر ہم 16 سال کے وقت کو دنوں پر تقسیم کریں تو حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے:

صحیح بخاری کی کل احادیث (تکرار سمیت): 7,563

کل وقت: 16 سال (تقریباً 5,840 دن)

روزانہ کی تحقیق: روزانہ کا اوسط صرف 1.29 حدیث بنتا ہے۔

یعنی امام صاحب کو پورے 24 گھنٹوں میں صرف ایک یا دو احادیث کی تحقیق کرنی تھی اور ان کے لیے دو سے چار رکعت نفل پڑھنے تھے۔ یہ کسی بھی صاحبِ ذوق کے لیے دن بھر میں محض 15 سے 20 منٹ کی عبادت ہے۔

3.عملی شیڈول: سفر اور کام کا توازن

اگر ہم معترضین کی یہ بات مان لیں کہ وہ سفر میں بہت مصروف تھے، تب بھی حساب ان کے حق میں جاتا ہے:

فرض کریں امام صاحب پورے ہفتے میں 5 دن سفر کرتے اور کوئی تحقیقی کام نہ کرتے۔

وہ صرف بقیہ 2 دن میں روزانہ 5 احادیث درج کرتے۔

اس انتہائی سست رفتاری کے باوجود وہ 16 سال میں 8,320 احادیث مکمل کر لیتے، جو کہ صحیح بخاری کی کل تعداد سے بھی زیادہ ہے۔

4.سفر میں نوافل: فقہی اور نبوی سند

معترضین کہتے ہیں کہ "وہ تو سفر میں تھے، نفل کیسے پڑھے؟" شاید وہ اسلام کی اس عظیم رخصت سے ناواقف ہیں:

سنتِ نبویﷺ: حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ اپنی سواری پر نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے جہاں بھی اس کا رخ ہوتا (بخاری: 400)۔

عملِ صحابہ: حضرت عبداللہ بن عمرؓ بھی سواری پر بیٹھے اشارے سے نفل پڑھتے تھے اور فرماتے کہ رسول اللہﷺ بھی ایسا ہی کرتے تھے (بخاری: 1097)۔

حقیقت: فقہ کا اصول ہے کہ نفل کے لیے سواری سے اترنا ضروری نہیں۔ امام صاحب میلوں کا سفر طے کرتے ہوئے سواری پر بیٹھے اشارے سے وہ نوافل ادا کر لیتے تھے جو انہوں نے ہر حدیث کے لیے لازم کیے تھے۔

5.'صحیح' کی اصطلاح اور قرآن: ایک علمی مغالطہ

کچھ لوگ یہ جاہلانہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ کتاب پر 'صحیح' کیوں لکھا ہے، یہ تو صرف قرآن کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔ ایسے لوگ فنِ حدیث کی الف بے سے بھی ناواقف ہیں:

علمی اصطلاحات: 'صحیح' دراصل علمِ حدیث کی ایک فنی اصطلاح (Technical Term) ہے، جیسے کہ حسن، ضعیف، غریب، متواتر اور خبر واحد۔

تحقیق کی سند: امام صاحب نے یہ لفظ اپنی تحقیق کے معیار کو واضح کرنے کے لیے استعمال کیا۔ قرآن "کلام اللہ" ہے جو شک سے بالا تر ہے، اسے کسی 'صحیح' کی مہر کی ضرورت نہیں۔ لیکن احادیث چونکہ راویوں کے ذریعے پہنچیں، اس لیے ان کی چھان پھٹک کرکے ان پر 'صحیح' کا حکم لگانا ایک خالص علمی ضرورت ہے نہ کہ قرآن سے موازنہ۔

6.قیام کے ایام اور اعتکاف کی مثال

حقیقت یہ ہے کہ یہ اعتراض صرف وہی لوگ کرتے ہیں جن کے لیے پانچ وقت کی فرض نماز بھی "بوجھ" بن چکی ہے۔

اعتکاف کا نمونہ: ایک عام مومن اعتکاف کے صرف 10 دنوں میں، تراویح کے علاوہ، دو قرآن ختم کرتا ہے اور روزانہ 40 سے 100 تک نوافل ادا کرتا ہے۔

جب ایک عام آدمی 10 دن میں اتنا کام کر سکتا ہے، تو امام بخاریؒ جب مکہ، مدینہ یا بصرہ جیسے شہروں میں قیام کرتے ہوں گے، وہاں وہ کتنا کام نبٹاتے ہوں گے؟ اس کو سمجھنے کے لیے ریاضی نہیں بلکہ "مومن" ہونا ضروری ہے۔

یہ کتاب صرف سیاہی سے نہیں، بلکہ سفر کی دھول، وضو کے پانی اور مصلے کے سجدوں سے لکھی گئی ہے۔ امامِ وقت کی حرمت پر سوال اٹھانے سے پہلے اپنی ہمت اور ایمان کا قد ناپنا ضروری ہے۔

Check Also

Mujhe Zaroor Batayen

By Mubashir Ali Zaidi