Hazrat Ali Ki Khilafat, Dakhli Intishar Aur 70 Hazar Halakaton Ka Afsana
حضرت علیؓ کی خلافت، داخلی انتشار اور 70 ہزار ہلاکتوں کا افسانہ

تاریخ کے اوراق جب خلافتِ علی المرتضیٰؓ کا ذکر کرتے ہیں، تو اکثر اسے خانہ جنگی اور داخلی فتنوں کے گرد گھماتے ہیں۔ روایتی مورخین نے اعداد و شمار کا ایسا گورکھ دھندا بچھایا ہے جس میں مبالغہ آرائی کے پہاڑ کھڑے کر دیے گئے۔ لیکن اگر ہم اس دور کو عقلِ سلیم اور حضرت علیؓ کی گزشتہ تیس سالہ حربی و انتظامی زندگی کے تناظر میں دیکھیں، تو حقیقت اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔
لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ حضرت علیؓ کی خلافت کوئی اچانک ملنے والا عہدہ نہیں تھا، بلکہ آپؓ رسولِ کریمﷺ کے دور سے لے کر حضرت عثمانؓ کے دور تک، پچھلی تین دہائیوں سے ریاست کے تمام بڑے انتظامی اور جنگی حکمتِ عملی کے معاملات کے روحِ رواں تھے۔ آپؓ نے عالمی سلطنت کو بنتے، پھیلتے اور سنبھلتے دیکھا تھا۔ وہ ہستی جو تیس سال تک ایک عالمی ریاست کی پالیسیاں ترتیب دیتی رہی ہو، وہ اپنی خلافت میں داخلی فتنہ دبانے میں سالہا سال کیسے لگا سکتی ہے؟ جنگ آپؓ کے لیے کوئی نیا یا بڑا مسئلہ نہیں تھی، آپؓ تو خود فنِ حرب کے استاد اور ماہر تھے۔
تاریخی روایات میں ان فتنوں کا ذکر بڑے مبالغہ آمیز انداز میں کیا گیا ہے۔ جنگِ جمل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں دونوں طرف سے ہزاروں مسلمان آمنے سامنے آئے اور صرف ایک دن کی لڑائی میں دس سے بیس ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اسی طرح جنگِ صفین کو تاریخ کا خونی ترین معرکہ بنا کر پیش کیا گیا جس میں ہلاکتوں کا عدد ستر ہزار تک پہنچایا گیا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ سلسلہ کئی ماہ تک جاری رہا۔ پھر جنگِ نہروان کا تذکرہ ملتا ہے جہاں خوارج کے خلاف کارروائی میں چار ہزار ہلاکتیں بیان کی جاتی ہیں۔ اگر ان اعداد و شمار کو درست مان لیا جائے، تو اس کا مطلب ہے کہ چند سالوں میں مسلمانوں کی پوری عسکری طاقت ختم ہوگئی، جو کہ ایک سفید جھوٹ معلوم ہوتا ہے۔
جدید جنگی نظام اور رسد کی فراہمی کے اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو کسی بھی مستحکم ریاست میں ہزاروں مسلح سپاہیوں کا اسلحہ اور جانوروں کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ستر ہزار کا مسلح لشکر، اپنے تمام تر جنگی ساز و سامان اور مہینوں کے راشن کے ساتھ سرحدیں عبور کرکے مرکز تک پہنچ جائے اور خلافت کے انٹیلیجنس نظام کو خبر تک نہ ہو؟ اتنے بڑے مسلح گروہ کا ملک کے اندر گھومنا اور پھر ایک مقام پر جمع ہونا کسی بھی منظم ریاست میں انتظامی تباہی کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ حضرت علیؓ جیسی زیرک ہستی کی موجودگی میں ایسی بڑی غفلت کا تصور ہی محال ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اجتماعات اتنے بڑے ہرگز نہیں تھے جتنا بیان کیا گیا۔
اگر ہم مروجہ کہانیوں کو مان لیں کہ باغی گروہ اتنی بڑی تعداد میں جمع ہو گئے، تو یہ خلافت کی انتہائی کمزوری کی علامت ہوتی، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حضرت علیؓ کے دورِ خلافت میں بھی سرحدوں پر فتوحات کا سلسلہ رکا نہیں تھا اور سندھ و خراسان کے علاقوں میں اسلامی افواج کی پیش قدمی جاری تھی۔ عسکری سائنس کہتی ہے کہ اگر کسی فوج کا حوصلہ خانہ جنگی کی وجہ سے ٹوٹ جائے اور وہ اپنے ہی بھائیوں کے ہاتھوں ہزاروں کی تعداد میں کٹ مرے، تو وہ فوج بیرونی سرحدوں پر کبھی نہیں لڑ سکتی۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس دور میں بھی رومی سلطنت یا دیگر دشمن سر نہیں اٹھا سکے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مرکز میں انتظام مضبوط تھا اور فوج کا بڑا حصہ سرحدوں پر اپنے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔
بدقسمتی سے مختلف گروہوں نے اپنے نظریات کو سچا ثابت کرنے کے لیے حضرت علیؓ کی خلافت کے نقشے کو مسخ کیا۔ جہاں مخالفین نے اسے کمزور دور ثابت کرنے کے لیے ہلاکتوں کے پہاڑ کھڑے کیے، وہی بعض محبت کا دعویٰ کرنے والوں نے بھی صرف مظلومیت کا ایسا رنگ بھرا کہ حضرت علیؓ کا وہ جاہ و جلال اور جنگی رعب پسِ منظر میں چلا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان مبالغہ آمیز ہلاکتوں کے ذریعے آپؓ کے سیاسی قد کو چھوٹا کرنے کی کوشش کی گئی، جبکہ آپؓ کی خلافت تو تین براعظموں پر محیط ایک فولادی ریاست تھی۔ آپؓ کی کامیابی یہ نہیں تھی کہ آپؓ نے ہزاروں مارے، بلکہ آپؓ کا کمال یہ تھا کہ آپؓ نے اتنے بڑے فتنوں کو اتنی مہارت اور کم سے کم جانی نقصان کے ساتھ ختم کیا کہ ریاست کی ہیبت برقرار رہی۔
حضرت علیؓ کی خلافت داغدار نہیں بلکہ اسلام کے عسکری اور سیاسی عروج کی داستان ہے۔ ہلاکتوں کے یہ فرضی اعداد و شمار اس عظیم المرتبت شخصیت کی توہین ہیں جس نے فتنوں کے طوفان میں بھی ریاست کی سرحدوں کو آنچ نہ آنے دی۔ یہ وقت ہے کہ ہم تاریخ کو مبالغہ آرائی کے بجائے حضرت علیؓ کی تیس سالہ انتظامی تربیت اور ان کے جنگی تدبر کی روشنی میں پرکھیں۔ آپؓ نے نہ صرف فتنوں کو کچلا بلکہ اسلامی ریاست کے وقار کو تین براعظموں میں برقرار رکھ کر ثابت کیا کہ آپؓ سے بہتر بحرانوں کو سنبھالنے والا تاریخ میں کوئی دوسرا نہیں ہوا۔
حضرت علیؓ کا انتخاب دراصل عین علم لدنی ہے۔۔ کیونکہ حضرت علیؓ کی خلافتِ راشدہ، جو کم و بیش پونے پانچ سال (4 سال 9 ماہ) کے مختصر عرصے پر محیط ہے، محض ایک سیاسی دور نہیں بلکہ اسلام کے دفاعی استحکام کی انتہا تھی۔ اگر ہم گہری نظر سے دیکھیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ آپؓ کا خلیفہ بننا دراصل منشائے رسولﷺ اور قدرت کا وہ انتخاب تھا جس کا مقصد اسلام کی اس عظیم الشان عمارت کو کسی بھی اندرونی ٹوٹ پھوٹ سے بچانا تھا۔ اللہ کے رسولﷺ بخوبی جانتے تھے کہ فتنوں کے اس دور میں ایک ایسی مضبوط شخصیت کی ضرورت ہے جو نہ صرف ان سازشوں کو کچلنے کی طاقت رکھتی ہو، بلکہ خلافت کی ہر ایک اینٹ کے محل وقوع اور اس کے مقصدِ تخلیق سے بھی پوری طرح واقف ہو۔
حضرت علیؓ کا علمِ لدنی اور انتظامی تجربہ ایسا تھا کہ آپؓ اسلامی مملکت کی جغرافیائی حدود، قبائل کے نفسیاتی رجحانات اور دفاعی مورچوں کی ترتیب کو "علم الانساب" کی طرح جانتے تھے۔ آپؓ کو معلوم تھا کہ کس سرحد پر کون سا خطرہ موجود ہے اور کس داخلی فتنے کی جڑ کہاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؓ کے دور میں جہاں ایک طرف داخلی سطح پر بیعتِ خلافت کو مستحکم کیا گیا، وہیں انتظامی اصلاحات کے ذریعے نظامِ حکومت کو شفاف بنایا گیا، پولیس کا محکمہ (شرطہ) قائم ہوا اور مفتوحہ علاقوں میں زمینوں کا ریکارڈ مرتب کیا گیا۔
میری نظر میں یہ رسولِ کریمﷺ کی دور اندیشی کا ثبوت تھا کہ انہوں نے ایک ایسی ہستی کو آخری خلیفہ کے طور پر تیار کیا جو علم و شجاعت کا وہ ہمالہ تھی جس سے ٹکرا کر بڑے سے بڑا فتنہ بھی پاش پاش ہو جاتا۔ وہ فتنے جنہیں تاریخ دانوں نے مبالغہ آرائی سے سالہا سال کی جنگ بنا کر پیش کیا، حضرت علیؓ جیسی قد آور اور بصیرت مند شخصیت کے سامنے چند دنوں کی دھول سے زیادہ کچھ نہ تھے۔ آپؓ نے ثابت کر دیا کہ ایک مضبوط خلیفہ نہ صرف سرحدوں کا محافظ ہوتا ہے بلکہ وہ مرکز میں اٹھنے والے طوفانوں کو بھی اپنی حکمتِ عملی سے اس طرح دباتا ہے کہ ریاست کے وقار پر آنچ نہیں آتی اور سب سے اہم شاید یہ بات ہے کہ 5 سال سے کم عرصے میں اتنے داخلی اور بیرونی انتظامی اور انتشاری امور سے نبٹنا سوائے خضرؑ کی طرح کمال علم تکوینی ہے۔۔ حضرت خضر نے اپنے نبی کے ہوتے ہوئے تین معامالات سدھارے۔۔ علی نے اپنے نبی کی امت کے تین براعظم سدھارے۔۔

