Ehad e Zareen Ka Tamaduni Naqsha
عہدِ زریں کا تمدنی نقشہ

"پس اگر تم خود نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لو"۔ (القرآن، سورۃ النحل: 43)
قرآنِ حکیم کا یہ آفاقی اصول اور نبی کریمﷺ کا وہ عمل جس میں آپﷺ نے جنگِ بدر کے مشرک قیدیوں کو اس شرط پر رہا فرمایا کہ وہ مسلمان بچوں کو "لکھنا پڑھنا" سکھا دیں، اس حقیقت کا اعلان تھا کہ علم کسی خاص گروہ، نسل یا مذہب کی جاگیر نہیں ہے۔ صحابہ کرامؓ اس نبوی بصیرت کے اصل وارث تھے، وہ جانتے تھے کہ حق اور حکمت جہاں سے بھی ملے، اسے حاصل کرنا مومن کا حق ہے۔ یہی وہ انقلابی فکر تھی جس نے 700ء سے 1200ء کے درمیانی عہد کو تاریخِ انسانی کا "زریں دور" بنا دیا۔
مسلمانوں نے قرآن کے اس حکم "فاسئلوا اھل الذکر" (اہلِ علم سے پوچھ لو) پر عمل کرتے ہوئے یونانیوں سے فلسفہ، ہندوستانیوں سے ریاضی اور فارسیوں سے نظمِ مملکت سیکھنے میں کبھی عار محسوس نہیں کی۔ انہوں نے تعصب کی دیواریں گرا کر صرف ایک اصول اپنایا: قابلیت اور علم جہاں بھی ہے، اسے اپنا لو۔ صحابہ کرامؓ کی اس وسیع القلبی نے ثابت کیا کہ اسلام دوسرے مذاہب اور اقوام کے بہترین تمدنی تجربات سے نہ صرف فائدہ اٹھاتا ہے بلکہ انہیں "تحقیق و تفتیش" کے عمل سے گزار کر ایک نئی عالمگیر تہذیب کی بنیاد رکھتا ہے۔ تاریخ کے افق پر ابھرنے والا یہ معجزہ محض فتوحات کی داستان نہیں تھی، بلکہ مختلف نسلوں اور قدیم تہذیبوں کے بہترین دماغوں کو ایک لڑی میں پرونے کا وہ عظیم الشان "میریت" (Merit) پر مبنی نظام تھا جس کی مثال آج بھی دنیا دینے سے قاصر ہے۔۔
تاریخ کے افق پر 700 عیسوی سے 1200 عیسوی تک کا عہد ایک ایسا معجزہ ہے جس نے انسانیت کو قرونِ وسطیٰ کی تاریکی سے نکال کر جدیدیت کی شاہراہ پر لا کھڑا کیا۔ یہ محض فتوحات کی داستان نہیں تھی، بلکہ مختلف نسلوں، قدیم تہذیبوں اور عظیم دماغوں کو ایک لڑی میں پرونے کا ایک عالمی انقلاب تھا۔ اس مضمون میں ہم اس دور کے سائنسی، مذہبی، فلسفیانہ اور عسکری پہلوؤں کا ایک جامع احاطہ کریں گے۔
1۔ سائنسی اور عقلی علوم کا مورچہ
جدید سائنس، طب اور ریاضی کی بنیادیں رکھنے والے عبقریوں میں فارس (عجم) کا حصہ سب سے نمایاں رہا:
ریاضی و الگورتھم: محمد بن موسیٰ الخوارزمی (خوارزم، فارس) نے الجبرا ایجاد کیا، جو آج کے کمپیوٹر کا "دماغ" ہے۔
طب و فلسفہ: ابن سینا (بخارا، فارس) کی کتابیں صدیوں تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں نصاب کے طور پر پڑھائی جاتی رہیں۔
فلکیات و جغرافیہ: البیرونی (خوارزم، فارس) اور عبدالرحمن الصوفی (رے، فارس) نے ستاروں کی نقشہ نگاری اور زمین کی پیمائش کے وہ معیار مقرر کیے جو آج بھی مستعمل ہیں۔
بصریات (Optics): ابن الہیثم (بصرہ، میسوپوٹیمیا) نے "کیمرہ اوبسکورا" کے ذریعے جدید کیمرے کی بنیاد رکھی۔
کیمیا (Chemistry): جابر بن حیان (طوس، فارس) نے تجرباتی کیمیا کا آغاز کیا اور اسے توہمات سے نکال کر سائنس بنایا۔
جراحت (Surgery): ابوالقاسم الزہراوی (قرطبہ، اندلس) نے جراحت کے وہ اوزار ایجاد کیے جو آج بھی جدید آپریشن تھیٹر کی زینت ہیں۔
انجینئرنگ: مریم الاجلیہ (حلب، شام) نے اسطرلاب کو جدت دے کر وقت اور سمت کے تعین کو آسان بنایا، جو آج کے جی پی ایس (GPS) کی ابتدائی شکل ہے۔
ہوا بازی: عباس بن فرناس (اندلس) نے انسانی تاریخ کی پہلی کامیاب پرواز کی کوشش کرکے ہوائی سفر کا تصور دیا۔
2۔ مذہبی، قانونی اور لسانی علوم
اسلامی قانون اور حدیث کی تدوین میں تنوع کا یہ عالم تھا کہ:
فقہ (قانون): امام مالکؒ اور امام شافعیؒ کا تعلق خالص عرب (حجاز) سے تھا، جبکہ امام احمد بن حنبلؒ میسوپوٹیمیا اور امام ابو حنیفہؒ فارس کے علمی و تہذیبی ماحول کی پیداوار تھے۔
حدیث: صحاح ستہ کے تمام چھ ائمہ (امام بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور ابو داؤد) کا تعلق فارس اور وسطی ایشیا کے علاقوں سے تھا۔
3۔ فلسفہ، تصوف اور عمرانیات
انسانی شعور کی گہرائیوں کو ناپنے والے مفکرین میں امام غزالی (طوس، فارس) نے عقل اور وجدان کو ملایا، ابنِ عربی (اندلس) نے وحدت الوجود کا فلسفہ دیا، جبکہ ابنِ خلدون (تیونس/شمالی افریقہ) نے عمرانیات (Sociology) اور تاریخ کے سائنسی مطالعے کی بنیاد رکھی۔
4۔ عسکری قیادت اور سیاسی استحکام
وہ جرنیل جنہوں نے اس علمی انقلاب کے لیے محفوظ جغرافیائی حدود قائم کیں:
خالد بن ولیدؓ، محمد بن قاسم، قتیبہ بن مسلم اور موسیٰ بن نصیر کا تعلق خالص عرب (حجاز) سے تھا۔
طارق بن زیاد (شمالی افریقہ) بربر نژاد تھے، جبکہ صلاح الدین ایوبی (عراق) کرد نژاد فاتح تھے۔
مجموعی علمی و نسلی تناسب (Contribution Analysis)
اس عظیم تمدن کی تعمیر میں مختلف اقوام کا حصہ درج ذیل ہے:
سائنس و طب: فارس و وسطی ایشیا 70%، میسوپوٹیمیا 15%، اندلس و افریقہ 10% اور خالص عرب (حجاز) 5%۔
حدیث و فقہ: فارس و وسطی ایشیا 65%، خالص عرب (حجاز) 20% اور میسوپوٹیمیا 15%۔
عسکری قیادت: خالص عرب (حجاز) 80%، جبکہ بربر، کرد اور دیگر اقوام 20%۔
تجارت و بحری قوت: خالص عرب اور بربر 50%، جبکہ فارسی نژاد تاجر 50%۔
مجموعی تمدنی حصہ: فارس (عجم) 65%، میسوپوٹیمیا 15%، خالص عرب 10% اور اندلس و دیگر اقوام 10%۔
بصیرتِ صحابہؓ: ایک عالمگیر نظام کی بنیاد
اس پوری تحقیق کا سب سے اہم پہلو وہ "بصیرت" ہے جو صحابہ کرامؓ نے وراثت میں چھوڑی۔ یہ ان کی عظمت تھی کہ انہوں نے فتوحات کے بعد مفتوحہ قوموں پر "عربیت" کا لبادہ نہیں تھوپا اور نہ ہی نسلی تعصب کو پنپنے دیا۔ انہوں نے ہر معاملے کو صرف ایک محدود زاویے سے دیکھنے کے بجائے ایک وسیع انسانی تناظر میں دیکھا۔
صحابہ کرامؓ اور ان کے تربیت یافتہ جانشینوں نے تمدنی میدان میں کسی بھی فرد کو اس کی نسل کی بنیاد پر رد نہیں کیا، بلکہ جس کے پاس علم تھا، اسے اپنا استاد مانا اور اس کی قدر کی۔ انہوں نے یہ اصول اپنایا کہ اسلام پوری انسانیت کے لیے ہے، لہٰذا ہر وہ صلاحیت جو بنی نوع انسان کے کام آ سکے، وہ "اسلامی وراثت" ہے۔
یہی وجہ ہے کہ چار براعظموں پر پھیلی ہوئی اس عظیم ریاست میں "Right Man on the Right Job" کا وہ مثالی فارمولا رائج ہوا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ اگر کسی فارسی کے پاس حدیث کا علم تھا تو اسے امام تسلیم کیا گیا، اگر کسی عراقی کے پاس ریاضی کا ہنر تھا تو اسے بیت الحکمت کا سربراہ بنایا گیا اور اگر کسی بربر میں جرات تھی تو اسے سپہ سالار بنا کر بھیجا گیا۔ قابلیت (Merit) ہی واحد معیار تھا، جس نے مسلم امہ کو دنیا کی قیادت دلائی۔
مغربی اعترافِ ممنونیت (Gratitude)
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس "قابلیت" (Merit) کو مسلمانوں نے اپنا شعار بنایا تھا، آج اسے مغرب نے اپنا لیا ہے۔ یورپ نے تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود مسلم سائنسدانوں کی خدمات کو تسلیم کیا اور انہیں رہتی دنیا تک امر کر دیا:
فلکیاتی اعتراف: آسمان پر چمکنے والے سینکڑوں ستاروں کے نام آج بھی عربی ہیں (جیسے Altair، Betelgeuse، Aldebaran)۔ چاند کے بڑے گڑھے عبدالرحمن الصوفی (Azophi)، ابن الہیثم، البیرونی، ابن سینا اور الخوارزمی کے ناموں سے منسوب ہیں۔
خلا میں مقام: مریم الاجلیہ کے اعزاز میں ایک سیارچے (Asteroid) کا نام "11767 الاجلیہ" رکھا گیا ہے۔
سائنسی اصطلاحات: Algorithm، Algebra اور Chemistry کی بنیادی اصطلاحات آج بھی مغربی زبانوں کا حصہ ہیں۔
تعلیمی خراجِ تحسین: ابن الہیثم کو "جدید بصریات کا باپ" تسلیم کیا گیا، جابر بن حیان کو کیمیا کا بانی مانا گیا اور ابن سینا کی تصویریں آج بھی پیرس جیسی قدیم یونیورسٹیوں کے ہالز میں آویزاں ہیں۔
ورثے کی حفاظت: آکسفورڈ اور کیمبرج کے کتب خانوں میں مسلم مفکرین کے قلمی نسخے سب سے قیمتی اثاثہ سمجھے جاتے ہیں، جبکہ یونیورسٹی آف القرویین اور الازہر کو علمی دنیا کی "ماں" تسلیم کیا جاتا ہے۔
آج کی دنیا میں قدیم اسلامی تمدن اور موجودہ مسلم معاشروں کے درمیان ایک واضح لکیر ہے اور وہ ہے "بصیرت اور تعصب" کی لکیر۔ مغرب نے تعصب سے بالاتر ہو کر ہماری قابلیت کو اپنایا، جبکہ ہم نے اسی قابلیت کو اقرباء پروری، شخصیت پرستی اور علاقائی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا۔
آج مسلمانوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اگر ہم نے دوبارہ "میرٹ" کا نظام رائج نہ کیا اور اپنے اداروں میں بہترین دماغوں کی قدر نہ کی، تو ایک بہت بڑا "برین ڈرین" (Brain Drain) رہی سہی مسلم عقل و دانش کو بھی بہا کر مغرب لے جائے گا۔ ہمیں دوبارہ وہی وسیع القلبی پیدا کرنی ہوگی جو صحابہ کرامؓ کا شیوہ تھی، ورنہ ہم صرف تاریخ کے اوراق میں ایک قصہ پارینہ بن کر رہ جائیں گے۔

