Friday, 20 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Saleem Zaman
  4. Dajjal Dajjal Kardi Ni Main Aape Dajjal Hoi

Dajjal Dajjal Kardi Ni Main Aape Dajjal Hoi

دجال دجال کردی میں آپے دجال ہوئی

آج کے دور میں مذہبی جذبات کی تجارت کرنے والے Pseudo (نام نہاد/سوڈو) مسلمان دانشوروں نے دجال کے نام پر جو خوف کی منڈی سجا رکھی ہے، وہ درحقیقت مسلمانوں کو ذہنی مفلوج کرنے کی ایک گہری سازش ہے۔ یہ لوگ مغرب اور صیہونی ایجنڈے کے وہ غیر محسوس آلہ کار ہیں جو امت کو "عمل" سے کاٹ کر "وہم" کی بھول بھلیوں میں دھکیل رہے ہیں۔

1۔ دجال: محض 40 دن کا فتنہ اور ہماری خام خیالی

یہ Pseudo دانشور ہر چھوٹی تبدیلی کو دجال سے جوڑ دیتے ہیں، حالانکہ مستند احادیث کے مطابق دجال کا قیام زمین پر صرف 40 دن ہوگا۔ ان 40 دنوں کے لیے صدیوں سے ہاتھ پاؤں چھوڑ کر بیٹھ جانا دانش مندی نہیں بلکہ بزدلی ہے۔

علمی سند: کتبِ ستہ (بخاری و مسلم وغیرہ) میں فتنہ دجال کا تذکرہ موجود ہے، لیکن اس کے ظہور کی قطعی کیفیت اور وقت کے بارے میں مستند احادیث کی تعداد قریباً 40 سے 50 کے درمیان بتائی جاتی ہے جو کہ تواتر اور سند کے لحاظ سے مختلف درجوں پر ہیں۔

حقیقت: عالمی سطح پر ابھی تک دجال کے خروج کی کوئی ایک بڑی نشانی پوری نہیں ہوئی۔ جب تک مسلمان ایمان، ٹیکنالوجی اور غیرت کے لحاظ سے مضبوط ہیں، وہ کسی بھی فتنے کی سرکوبی کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

2۔ آرماگیڈون (ملحمۃ الکبریٰ) کا مکمل نقشہ

مسلمانوں کو جس چیز کی تیاری کرنی چاہیے وہ دجال نہیں بلکہ وہ "عظیم جنگ" ہے جو دجال سے پہلے ہونی ہے اور جس کے آثار آج نظر آ رہے ہیں۔ یہ جنگ اس وقت ہوگی جب مسلمان دنیا میں ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھریں گے اور انہیں کچلنے کے لیے عالمی اتحاد (Global Coalitions) بنائے جائیں گے۔

اتحاد اور غداری: روایات کے مطابق، ایک مرحلے پر عیسائی اور مسلمان مل کر ایک مشترکہ دشمن کے خلاف لڑیں گے اور فتح حاصل کریں گے۔ لیکن اس فتح کے بعد عیسائیوں کا ایک گروہ غداری کرے گا، جس سے تاریخ کی سب سے بڑی جنگ "ملحمۃ الکبریٰ" چھڑ جائے گی۔

عسکری شدت: رومی (مغربی اقوام) 80 جھنڈوں تلے حملہ آور ہوں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے 12,000 کا لشکر ہوگا (کل تعداد قریباً 960,000 جدید مسلح سپاہی)۔

طوالت: یہ جنگ کوئی ہفتوں کی نہیں بلکہ سالہا سال پر محیط ہو سکتی ہے۔ یہ وہ دور ہوگا جب دنیا ایٹمی جنگوں، موسمیاتی بگاڑ اور مصنوعی قحط کی لپیٹ میں ہوگی۔

مسلم افواج کا کردار: اس جنگ میں مسلم افواج اور مجاہدین کے وہ دستے حصہ لیں گے جو دنیا کے بہترین جنگجو ہوں گے۔ اس طویل جنگ میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد (2 ارب میں سے ایک بہت بڑا حصہ) شہید ہو جائے گی، یہاں تک کہ صرف چند لاکھ خالص اہل ایمان باقی بچیں گے۔

3.کم ہمتی کی نشانی: خوف کا کاروبار

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جن علاقوں میں مسلمان کمزور، غریب اور پسماندہ ہیں، وہاں ہر دوسرے روز دجال کا خروج نظر آتا ہے۔ یہ دراصل مسلمانوں کی کم ہمتی اور علمی زوال کی نشانی ہے جہاں فیس بک اور سوشل میڈیا پر سستی ریٹنگز کے لیے دجال کا ڈراوا بیچا جاتا ہے۔

طاقتور معاشرے: اس کے برعکس، جہاں مسلمان معاشی طور پر مستحکم، امیر اور بااثر ہیں، وہاں دجال کا یہ فرضی ڈر ڈسکس ہی نہیں ہو رہا۔ وہاں توجہ اس بات پر ہے کہ عالمی منڈی (Global Market) میں اپنا اثر و رسوخ کیسے بڑھایا جائے۔

مارکیٹ شیئر: آنے والے 10 سالوں تک مسلمان عالمی معیشت میں ایک بہت بڑے اسٹیک ہولڈر (Stakeholder) کے طور پر موجود ہیں۔ لہٰذا، ابھی وقت "دجال دجال" کرنے کا نہیں بلکہ اپنی عالمی پوزیشن مستحکم کرنے کا ہے۔

4.جدید غلبہ اور سائنس و ٹیکنالوجی

مسلمانوں کا اصل ہدف اس وقت سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم اور معاشی غلبہ ہونا چاہیے۔ آرماگیڈون یا ملحمۃ الکبریٰ کوئی روایتی تلواروں کی جنگ نہیں ہوگی، بلکہ یہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور عسکری سائنس کا معرکہ ہوگا۔ ہمیں اس وقت تک اپنی عسکری اور علمی قوت کو اس مقام پر لے جانا ہے جہاں ہم عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کر سکیں۔

مابعد جدیدیت (Post-modernism) کے اس دور میں، مسلمانوں کو دجال کے نام پر خوف کا انجکشن لگانا درحقیقت انہیں عالمی صفِ اول سے نکالنے کی ایک نفسیاتی چال ہے۔ دجال کا فتنہ تاریخ کا ایک باب ضرور ہے، مگر وہ اس وقت کا قصہ ہے جب انسانیت اپنی تمام تر مادی و علمی کوششیں ہار چکی ہوگی۔ یہ بات ہمیں خود بھی یقین کرنی چاہیے اور اپنی اولاد کو بھی مضبوط طور پر ذہن نشین کرانی چاہیے کہ ہم نے آرماگیڈون (Armageddon) جیتنی ہے، جس میں شہید ہونے سے پہلے اپنا بھرپور حصہ ڈالنا ہے۔

آج کا اصل چیلنج دجال نہیں بلکہ وہ سائنسی غلبہ اور تکنیکی برتری ہے جس کے بغیر اس ہولناک معرکے میں پاؤں جمانا بھی ناممکن ہوگا۔ جب یہ جنگ اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہوگی، تب باقی ماندہ مسلمان دجال کی تیاری کر لیں گے۔ ابھی سے مسلمانوں کو فریب دینے اور خوف بیچنے والے سوشل میڈیا کا مکمل بائیکاٹ کیا جانا چاہیے۔ ہمیں شکست خوردہ اور کم ہمت دانشوروں کے سحر سے نکل کر اپنے عالمی غلبے، ٹیکنالوجی کے عروج اور قوتِ عمل پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ اب وقت صرف اور صرف غلبہِ حق کے لیے عملی تیاری کا ہے۔

Check Also

Dunya: Manzil Nahi, Imtehan Hai

By Noorul Ain Muhammad