Junoon, Aziat Aur Takhleeq Ki Aag
جنون، اذیت اور تخلیق کی آگ

جنون، اذیت اور تخلیق۔ یہ تینوں الفاظ ایک دوسرے سے اتنے جڑے ہوئے ہیں کہ انہیں الگ کرنا ناممکن لگتا ہے۔ جنون وہ آگ ہے جو انسان کے اندر سلگتی ہے، اذیت وہ راکھ ہے جو اس آگ کے بعد بچتی ہے اور تخلیق وہ شعلہ ہے جو اس راکھ سے دوبارہ جنم لیتا ہے۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جو ہر عظیم فنکار، شاعر، لکھاری اور موجد کی زندگی کا حصہ رہا ہے۔ لیکن کیا یہ جنون اور اذیت کے بغیر ممکن ہے؟ کیا تخلیق کی آگ کو بغیر جلتے ہوئے سلگایا جا سکتا ہے؟
ایک عام ذہن کے نزدیک، تخلیق کچھ نیا پیدا کرنے کا عمل ہے۔ مگر حقیقت میں، تخلیق خود کو جلانے کا، خود کو بھسم کرنے کا دوسرا نام ہے۔ یہ صرف ایک خیالی دنیا تخلیق کرنے کی بات نہیں، بلکہ اس دنیا کے اندر خود کو فنا کرنے کا سفر ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو بھی عظیم تخلیق کار گزرا، وہ کسی نہ کسی سطح پر اپنی ذات کے زخموں کا اسیر رہا۔ خوشحال اور مطمئن انسان کبھی تخلیق کار نہیں بن سکتا۔ ایک آرٹسٹ، شاعر، فلسفی، یا موسیقار وہی ہوتا ہے جو مسلسل جل رہا ہو، اپنی اذیت میں لپٹا ہو اور اپنی آگ میں راکھ ہو چکا ہو۔
دنیا کے بڑے تخلیق کاروں کی زندگیوں کو کھنگالا جائے تو ان میں ایک قدر مشترک دکھائی دیتی ہے - ذہنی اذیت، اعصابی پیچیدگیاں، یا شدید جذباتی بحران۔ یہ اذیت صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی بھی ہوتی ہے۔ یہ وہ درد ہے جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ وہ کرب ہے جو انسان کو راتوں کو جگاتا ہے، دنوں کو بے چین رکھتا ہے۔ یہ لوگ عام انسانوں کی طرح دنیا کو نہیں دیکھتے۔ ان کے اندر کچھ ایسا ٹوٹ چکا ہوتا ہے جو باقی لوگوں سے ان کو مختلف بناتا ہے۔ مگر یہی ٹوٹ پھوٹ، یہی ذہنی انتشار، انہیں اس سطح تک لے جاتا ہے جہاں تخلیق کا ایک نیا چشمہ پھوٹتا ہے۔
تاریخ میں ایسے بے شمار لوگ گزرے ہیں جنہوں نے جنون اور اذیت کی آگ میں جل کر تخلیق کے شاہکار بنائے۔ یونانی فلسفیوں سے لے کر جدید دور کے سائنس دانوں، شاعروں اور مصوروں تک، ہر عظیم تخلیق کار کسی نہ کسی اعصابی یا نفسیاتی عارضے کا شکار رہا ہے۔ آئیے چند مثالوں سے اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انیسویں صدی کے دو دیوقامت ادبی اور فلسفیانہ شخصیات۔۔ موپساں اور نطشے ایک ہی قسم کے متعدی اور موذی بیماری Syphilis (آتشک) کا شکار تھے، جو تادم مرگ ان کے ساتھ لگا رہا اور بالآخر دونوں کی مکمل اعصابی اور ذہنی تباہی کا سبب بنا۔ موپساں کی اس مرض کی وجہ سے داہنی آنکھ کی بینائی ختم ہوگئی تھی۔ جسم مفلوج ہونے کی حد تک بے جان ہوگیا تھا۔ ہر آن سائے کی طرح تعاقب میں لگی موت کے خوف اور دہشت سے چھٹکارا پانے کے لیے موپساں نے ایک عمر برّی اور بحری سفر میں گزاری۔ پیرس کے ادبی سرکلز میں یہ بات پھیل گئی تھی کہ موپساں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا ہے۔
مگر موپساں نے اس دوران محض دس سال کے عرصے میں جان لیوا مرض کا شکار ہوتے ہوئے بھی چھ ناولز، تین سو افسانے، تین ڈرامے، کئی سفرنامے لکھنے کے ساتھ ساتھ شاعری بھی کی۔ نیم نابینا، نیم مفلوج، موت سے لڑتے اس عظیم تخلیقی دماغ نے چار دنوں میں چودہ ہزار الفاظ پر مشتمل ایک ایسی کہانی بھی لکھی کہ ذہن سے الفاظ رواں تھے، قلم چلتا جاتا تھا اور جب کہانی ایک ہی بار روانی میں مکمل کی تو ایک لفظ کی تصحیح کی بھی گنجائش نہ تھی۔
اسی طرح نطشے جنہوں نے فلسفے کی دنیا میں انقلاب برپا کیا، اپنی زندگی کے آخری سالوں میں مکمل طور پر ذہنی طور پر مفلوج ہو چکا تھا۔ اس کے آخری دن ایک سائے کی مانند تھے، مگر اس کی تحریریں آج بھی دنیا کے سب سے بڑے اذہان کو چیلنج کرتی ہیں۔
یہی اذیت دوستوفسکی کی تحریروں میں نظر آتی ہے۔ وہ صرع (epilepsy) کے مریض تھے اور شدید ترین مایوسی اور ذہنی دباؤ کا شکار رہے۔ مگر یہی اذیت ان کے ناولوں کو وہ گہرائی دیتی ہے جو کسی عام انسان کے قلم سے نہیں نکل سکتی۔ ان کے ناولوں میں وہ اندھیرا، وہ اضطراب اور وہ بےچینی نظر آتی ہے جو ایک عام آدمی کی زندگی میں شاید کبھی نہ ہو۔
بائی پولر ڈس آرڈر کے شکار، 37 سال کی عمر میں خود کشی کرنے والے مشہور آرٹسٹ ونسنٹ وان گاگ مصوری کی دنیا کا سب سے بڑا نام سمجھا جاتا ہے۔ یہ اپنی زندگی میں شدید ذہنی بیماریوں سے گزرتا رہا، خود کو کاٹتا، اپنے جسم پر زخم لگاتا اور بالآخر اپنے ہی ہاتھوں موت کو گلے لگا لیا۔ ان کی تمام شاہکار پینٹنگز بشمول Starry Night کے اس مرض کے دورانیے میں تخلیق کی ہوئی ہیں۔
مذکورہ پینٹنگ تو وان گاگ نے پناہ گاہ میں مکمل نروس بریک ڈاؤن کے دوران محض حافظے سے بنائی تھی اور یہ مصوّری میں ایک ایسا شاہکار فن پارہ بن گیا کہ اِسے انسانی دماغ میں موجزن نامعلوم قوتوں اور فطرت کے قوانین کے درمیان مفاہمت کے احساسات جگانے والی پینٹنگ کہا جاتا ہے۔ وان گاگ ایک اذیت میں مبتلا روح تھا اور اسی اذیت نے اس کے برش سے ایسے شاہکار تخلیق کروائے جو آج بھی دنیا کو حیران کرتے ہیں۔
آخر میں شیکسپیئر کو ہی دیکھ لیں جو دنیائے ادب کا ایک چمکتا ستارہ ہے۔ یہ ادیب اپنے تخلیقی عروج کے وقت شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار تھا۔ ان کے سب سے مشہور ڈرامے ہیملٹ، میکبتھ اور او تھیلو سب کے سب گہرے نفسیاتی بحران اور انسانی المیے کی کہانیاں ہیں۔
آج کی نفسیات بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ بہت سے تخلیقی اذہان ذہنی بیماریوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، بائی پولر ڈس آرڈر، کلینیکل ڈپریشن اور اینگزائٹی کی بیماریاں تخلیقی افراد میں عام پائی جاتی ہیں۔ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ ذہنی دباؤ انسان کے سوچنے کے انداز کو مختلف بنا دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ عام لوگوں سے ہٹ کر چیزوں کو دیکھنے لگتا ہے۔
یہ کوئی حادثہ نہیں کہ جن لوگوں کو دنیا "پاگل" کہتی رہی، وہی لوگ بعد میں سب سے زیادہ پڑھے اور سنے گئے۔ ایڈگر ایلن پو، جو خوف اور گہرے نفسیاتی موضوعات پر لکھنے کے لیے مشہور تھا، اپنی زندگی کے آخری سالوں میں شدید ڈپریشن اور شراب نوشی کا شکار تھا۔ مگر اسی اذیت سے وہ کہانیاں پیدا ہوئیں جو آج بھی خوف اور انسانی نفسیات کو سمجھنے کے لیے ایک نمونہ سمجھی جاتی ہیں۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ایک شخص کو تخلیقی بننے کے لیے اذیت سے گزرنا ضروری ہے؟ کیا ہر بڑا مصور، شاعر، یا فلسفی اسی تاریکی سے گزر کر آتا ہے؟
اس کا جواب مکمل "ہاں" یا "ناں" میں دینا مشکل ہے۔ مگر تاریخ اور تجربہ یہی بتاتا ہے کہ ایک عام، خوشحال اور نارمل زندگی گزارنے والا شخص شاید ایک اچھا تخلیق کار بن سکے، مگر وہ "عظیم" تخلیق کار نہیں بن سکتا۔ وہ جنہوں نے دنیا کو ہلا دینے والے خیالات دیے، وہی تھے جو اندر سے ٹوٹے ہوئے تھے۔ ان کے ذہن میں ایک ایسی کشمکش چلتی رہی جو انہیں عام انسانوں سے مختلف بنا دیتی تھی۔
تخلیق محض خوبصورت الفاظ یا رنگوں کے امتزاج کا نام نہیں۔ یہ ایک اندرونی آگ ہے، ایک ایسی بےقراری جو انسان کو تباہ بھی کر سکتی ہے اور امر بھی کر سکتی ہے۔ تاریخ کے سب سے بڑے ذہنوں نے یہ آگ جھیلی، اس میں جھلسے، مگر اسی میں سے وہ روشنی پیدا کی جو آج بھی دنیا کو منور کر رہی ہے۔
ہوسکتا ہے کہ ہر تخلیق کار کو ذہنی اذیت اور المیے سے گزرنا نہ پڑے، مگر جو سب سے منفرد، سب سے مختلف اور سب سے "ناقابلِ تکرار" تخلیق کار بنے، وہی تھے جو اندر سے ٹوٹ چکے تھے۔ ہو سکتا ہے، یہی زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہو۔ یا شاید، یہی زندگی کی سب سے بڑی سچائی۔