Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Saira Kanwal
  4. Sab Se Pehle Sirf Pakistan

Sab Se Pehle Sirf Pakistan

سب سے پہلے صرف پاکستان

پچھلے کچھ ہفتوں سے پاکستان کا سب سے اہم موضوع امریکہ ایران جنگ ہے۔ ایک ملک پاکستان کا ہمسایہ اور دوسرے سے اچھے تعلقات۔۔ تو پھر پاکستان پر نا چاہتے ہوئے بھی، اس کے اثرات نظر آ رہے ہیں۔ (خیال رہے برے اثرات عام عوام پر اور اچھے اشرافیہ پر۔۔ ہمیشہ سے نظر آتے ہیں۔)

پاکستان کی خواہش تھی کہ ثالثی کا کردار ادا کیا جائے۔ دونوں ممالک کی رضامندی سے اسلام آباد میں اس ایونٹ کا انعقاد کیا گیا۔ نتائج کو بھی نکلے، پاکستان کے لیے ایسی تقریبات منعقد کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔۔ کیوں کہ سارا انتظام سیکورٹی فورسز کے اداروں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔۔ تو پھر چاہے سرحدوں پر جتنے بھی مشکل حالات ہوں۔ پاک فوج حکومتی خواہشات کو پورا کر ہی دیتی ہے۔ ظاہر ہے پاکستان سے محبت کرنے کا خراج دینا، پاک فوج پر ہی لازم ہے اور پاک فوج یہ خراج ہنسی خوشی اپنی جان دے کر بھی ادا کر رہی ہے۔

سیاسی، دفاعی اور معاشی طور پر مضبوط پاکستان ہر ایک کی خواہش ہے۔ مگر راستے اور سوچ سب کی الگ الگ ہے۔ منزل مانا ایک ہے۔ مگر سفر کی گلیاں مختلف ہیں۔

سیاسی سوچ۔۔ ملک کے ساتھ ساتھ سیاست بچانا ہے۔ عسکری سوچ۔۔ جیسے بھی ہو دشمنوں کو نیست ونابود کرکے ریاست بچانا ہے اور رہی عام عوام تو یہ سب سے زیادہ مشکل راستوں پر چل رہے ہیں۔

عام عوام کے راستے بل کھاتے ہیں۔ اس میں گڑھے اور پانی کے ریلے آ جاتے ہیں۔ عام عوام ہانپتے ہوئے چلے جا رہے ہیں۔ کیوں ان کی جنگ بقا کی جنگ ہے اور زاد راہ کم ہے۔۔

اشرافیہ ہمیں کبھی کسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگاتے ہیں۔ کبھی سہانے خواب دکھاتے ہیں۔ عام عوام کو یہ دونوں کام پسند ہیں۔ کیوں کہ اس کے علاؤہ کوئی چارہ نہیں۔۔

مانا تیسری عالمی جنگ اس دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی۔ مگر پاکستان کے لیے نہیں۔۔

پاکستان کے عوام تو ہر وقت حالت جنگ میں ہیں۔ پانی، بجلی، گیس، رہائش جیسی بنیادی سہولیات ہم خود کو۔۔ خود ہی مہیا کرتے ہیں۔ اشیائے خوردونوش پر پیسہ خرچ کرتے ہیں۔۔ بجلی اور گیس کے ہوشربا بل بھی ادا کرتے ہیں۔ پٹرول جو کہ صرف پانچ روپے سستا کرنے پر حکومت کے شکر گزار بھی ہم عام عوام ہی رہتے ہیں۔

اور پھر بیوقوفوں کی طرح مجھ سمیت سب شخصیات کے زندہ آباد کا نعرہ لگاتے ہیں۔۔ ہم جیسی عام عوام بولنے کی آزادی۔۔ کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ کیوں کہ ہم تنقید کرتے ہیں۔ اگرچے اشرافیہ پر اس تنقید کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ مگر پھر بھی ڈھول پیٹتے رہتے ہیں۔

موجودہ حکومت ایسا لگ رہا ہے کہ عام عوام سے کوئی پرانا بدلہ لے رہی ہے۔ جو اپنا پاؤں عام عوام کے گلے پر رکھ کر جان نکلنے کا انتظار کر رہی ہے۔

گزارش ہے کہ عام عوام کا خون اتنا نا چوسیں کہ ڈائنوں کا پیٹ ہی خراب ہو جائے۔ زبردستی کی عزت حاصل کرنے کے لیے دیوانے نا ہو جائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عزت اور ذلت اپنے ہاتھ میں رکھی ہے۔

اپنی تعریف سننے کے خبط میں مبتلا ہو کر عام عوام کو قدموں تلے مت روندھیں۔۔

آخر ہم عام عوام کا قصور کیا ہے؟ پاکستان سے محبت۔۔ یاد رکھیں یہ ملک دنیا میں ہماری پہچان ہے۔ ہم نے اپنی نسلوں کے ساتھ یہاں ہی جینا اور مرنا ہے۔

تو ہمیں سکون سے جینے اور مرنے دیں۔۔

Check Also

Dimagh Ke 24 Darwaze

By Umar Farooq