Friday, 19 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Saira Kanwal
  4. Hum Insan

Hum Insan

ہم انسان

انسان جلد باز اور نا شکرا تو ہے ہی۔ مگر ہم انسان بڑے اور بے تکے بول بولنے کے بھی عادی ہیں۔ اندازہ کریں ہمیں خود پر اتنا بھروسہ اور مان ہے کہ محسوس کرتے ہیں گویا ہر شے ہمارے ہی اختیار میں ہے، خود کو عقل کل اور نعمتوں کی عطا کو بھی اپنی ہی خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔ بولتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ بات منہ سے نکلتے ہی اسے تحریر کرنے والے کندھوں پر براجمان ہیں۔ آپ خود غور کریں کہ ہم اتراہٹ اور شوخ پن کا شکار ہو کر کیسے کیسے مشرکانہ اور قابلِ گرفت الفاظ اور جملے بول جاتے ہیں۔ جن کی سنگینی کا ہمیں احساس ہی نہیں اور جب احساس ہوتا ہے تو ہم پکڑ میں آ چکے ہوتے ہیں۔ پھر گلہ کیا جاتا ہے کہ ہم نے تو کچھ بھی نہیں کہا نا جانے ہمارے ساتھ ہی کیوں برا ہوتا ہے؟

درج ذیل کچھ ایسے جملے ہیں جن کی گرفت میں ہم آ سکتے ہیں۔ لہذا ان سے اجتناب کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔۔ کچھ ایسے جملے جو دین اور معاشرے دونوں لحاظ سے نا مناسب ہیں، آپ کے لیے تحریر کیے ہیں۔

1۔ ہم رخصتی کے وقت یا فون پر بات ختم کرتے ہوئے کہتے ہیں take care اپنا خیال رکھیئے گا (خیال صرف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ رکھ سکتی ہے ہم کون ہوتے ہیں، خود کا خیال رکھنے والے۔ کہنا چاہئیے اللہ کی امان میں رہیں یا اسی سے ملتا جلتا کوئی اور جملہ)۔

2۔ بڑے پر سکون ہو کر رائے دی جاتی ہے، داڑھی والے پر تو اعتبار ہی نا کریں، یہ بغیر داڑھی والے سے زیادہ فراڈیا ہوتا ہے۔ (جب دھوکا داڑھی والا یا بغیر داڑھی والا بھی دے سکتا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں، سنت رسول ﷺ کو اپنانے والے کسی بھی انسان کو برا کہنے والے۔ ہم انجانے میں سنت رسول ﷺ کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہ نا ہو کہ روز محشر ہم اپنے پیارے نبی ﷺ کے سامنے شرمندہ ہوں۔ نیک اور بد کا فیصلہ رب تعالیٰ پر چھوڑ دیں)۔

3۔ لبرل بننے کے چکر میں کہنا، یہ پردہ دار، عبایا، برقع پہننے والی خواتین زیادہ تر بد کردار ہوتی ہیں، پردے کی آڑ میں گل کھلاتی ہیں۔ (پردہ دین اسلام کا حکم ہے، اگر کوئی خاتون اس حکم کو پورا کر رہی ہے تو کرنے دیں۔ ہم لوگ کون ہوتے ہیں کسی پر تنقید کرنے والے۔ اگر کسی باپردہ خاتون میں کوئی اخلاقی برائی ہے تو ہو سکتا ہے اس نیک عمل کے عوض اللہ تعالیٰ ہدایت فرما دیں۔)

4۔ آج کل کا ٹرینڈنگ جملہ، میں شادی نہیں کرنا چاہتی یا چاہتا۔ کون خرچے اٹھائے۔ خوامخواہ کی ٹینشن لے۔ ہم ایسے ہی بھلے (نکاح وہ عمل ہے جو مسلمان کا آدھا ایمان محفوظ کر دیتا ہے۔ شیطان اس دن چیخ چیخ کر روتا ہے جس دن مسلمان لڑکے یا لڑکی کا نکاح ہوتا ہے۔ کہتا ہے ہائے یہ دونوں حرام سے محفوظ ہو گئے۔ شوہر اور بیوی کے رشتے کی خوبصورتی اور ثواب اگر معلوم ہو جائے تو کبھی کسی مسلمان کے منہ سے یہ بات نا نکلے۔ ہم بظاہر یہ ضرر جملہ ہنسی مذاق میں کہتے ہیں اور انجانے میں گناہ کر جاتے ہیں۔)

5۔ بڑے اطمینان سے یہ کہنا، میں نماز نہیں پڑھتا یا پڑھتی۔۔ آپ دعا کریں اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے (نماز آپ نے اپنے رب سے نعمتوں کے حصول اور شکر ادا کرنے کے لیے پڑھنی ہے اور دعا دوسرے لوگ کریں۔ کیسی عجیب بات ہے؟)

5۔ اولاد کے گلے کہ، ہمارے والدین نے تو کوئی جائیداد ہی نہیں بنائی۔ ہمیں تو سب کچھ خود کرنا پڑنا ہے۔ (یاد رکھیں آپ کا رازق اور نعمتیں عطا کرنے والا اللہ ہے۔ آپ کے والدین نہیں۔ وہ اس دنیا میں آپ کو لانے کا وسیلہ بنے اور اسی عمل کی بدولت اللہ تعالیٰ نے ان کے درجات بلند کر دیئے۔ اللہ تعالیٰ کی ہی دی ہوئی توفیق اور ہمت کے باعث آپ کو پیدا کرنے سے لے کر پالنے تک کا سبب بنے۔ آپ پیرا سائٹ مت بنیں۔ جو کچھ وراثت میں مل جائے اسے انعام سمجھیں)۔

6۔ شدید غصے میں بولا جملہ، تم دیکھنا میں اسے کیسا سبق سکھاتا یا سکھاتی ہوں۔۔ (آپ دوسروں کو سبق سکھائیں گئے قدرت آپ کو ایسا سبق سکھائے گی جو آپ کی نسلیں بھگتیں گی۔)

7۔ کسی سفید پوش کی تضحیک کرتے ہوئے، یہ تو ساری زندگی کچھ بنا ہی نا سکا مجھے دیکھو کتنی جلدی سیٹل ہوگیا (دولت اور نعمتیں اللہ تعالیٰ دے کر اور نا دے کر بھی آزماتا ہے۔ آپ خود کو کسی بھی خوشحالی کا کریڈٹ کیسے دے سکتے ہیں؟)

8۔ پیروکار اور سیاسی کارکنان کے جملے، ہمارا لیڈر، پیر، سب سے سچا نیک اور ایماندار ہے ہم صرف اسی پر اعتبار کریں گے۔ جو وہ کہے گا ہم وہی کریں گے۔ (اللہ تعالیٰ ہمارا مالک اور خالق۔ نبی ﷺ کی سنت پر عمل پیرا ہونے کا حکم۔۔ صادق اور امین بھی نبی ﷺ تو ہم کیسے اپنے کسی پیر یا لیڈر کی ایمانداری، پارسائی اور عظیم ہونے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ وہ بھی ہماری طرح کے انسان ہیں۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ یہ کتنا بڑا شرک ہے، جو انجانے میں کیا جا رہا ہے؟)

9۔ قبولیت دعا پر فخر کرتے ہوئے، میں تو صرف ایک ہی دعا اتنی شدت سے مانگتا یا مانگتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ اسے پورا کر دیتے ہیں۔ (کوئی شک نہیں اللہ تعالیٰ ہی دعاؤں کو پورا کرتے ہیں لیکن کبھی سوچا کہ آپ کو کیسے پتا ہے کہ دعا میں اتنی شدت سے مانگی گئی، شے آپ کے لیے درست بھی ہے۔ دعا ضرور مانگیں مگر فیصلے اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں۔ کیوں کہ بہترین جاننے والا وہ ہےآپ نہیں)۔

10۔ حاسدانہ جملہ، وہ شخص دیکھو کیسے سیٹل ہوگیا اور ہم ابھی تک وہی ہیں۔ فلاں کتنا خوش نصیب ہے، ہم تو بد نصیب ہی رہے۔ (یہ جملہ حسد کے ضمرے میں آتا ہے اور حسد کے بارے میں کیا احکامات ہیں بتانے کی ضرورت نہیں)۔

11۔ دنیاوی اشیاء پر توکل کرتے ہوئے، اس دوا کے استعمال سے، میں بالکل ٹھیک ہوگیا۔ (یہ انتہائی بےضرر جملہ، انتہائی قابلِ گرفت ہے۔)

12۔ کچھ بھی ہو جائے، میں یہ کام کرکے چھوڑوں گا۔۔ (ہم انسان ایک سانس پر بھی اختیار نہیں رکھتے۔ جلسوں میں یہ جملے انتہائی جوش سے بولے جاتے ہیں)۔

12۔ کہا جاتا ہے، جھوٹ تو بس مصلحت کے تحت بولنا پڑتا ہے۔ (جس عمل پر اللہ تعالیٰ نے لعنت ڈال دی وہ کیسے جائز ہوگیا؟ آپ کے سچ بولنے پر کوئی گلا تو نہیں کاٹ دے گا؟ اس صورت میں جب جان کا خطرہ ہو جھوٹ جائز ہے۔ مگر ہم کیا کرتے ہیں سب کو سوچنا چاہیے۔)

13۔ شکوہ کیا جاتا ہے، شادی پر تو رونق ہی نا تھی۔ مزہ ہی نہیں آیا۔ (نکاح میں سادگی کا حکم ہے۔ یہ جملہ کہہ کر ہم رسم نکاح کی برکت کو ختم کرنے کی خواہش کا اظہار انجانے میں کرتے ہیں۔)

14۔ غصے میں کہتے ہیں، اللہ ہی تمہیں پوچھے (یہ جملہ ہنسی مذاق میں بھی بولا جاتا ہے۔ یاد رکھیں جب اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں تو پھر انسان کسی قابلِ نہیں رہتا۔ اس سخت جملے سے اجتناب کرنا چاہیے۔)

بہت سارے جملے ہیں، جو آپ کے ذہن میں بھی موجود ہوں گے۔ میں نے تو صرف چند جملے تحریر کیے ہیں۔ ہمارے بہت سے سیاست دان بھی اپنے ہی جملوں کی گرفت میں آ جاتے ہیں مگر سبق نہیں سیکھتے۔

ہمارے پیارے نبی ﷺ نے فرمایا انسان کے منہ سے نکلے الفاظ، جنھیں ادا کرنے میں وہ کوئی حرج نہیں سمجھتا اسے جہنم کی گہرائیوں میں لے جاتے ہیں۔ مجھ سمیت ہم سب کو دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہماری زبان سے اچھے الفاظ کہلوائے اور ہم اپنے ہی لفظوں کی گرفت میں نا آئیں۔

Check Also

America Iran Samjhote Mein Missile Program Aur Proxies Ka Zikr Kyun Nahi?

By Mubashir Ali Zaidi