Imam e Muhammad Taqi Al Jawad
امامِ محمد تقی الجواد علیہ السلام
جو سوال کرنے پر عطا کرے اسے سخی کہتے ہیں اور جو سوال سے پہلے عطا کر دے اسے "جواد" کہتے ہیں۔ آئمہ اہل بیت علیھم السلام میں، امیرالمومنین مولا علیؑ بھی ہیں، کریمِ اہلبیت امام حسن مجتبیٰؑ بھی کہ جن کا دستر خوان عرب میں اک ضرب المثل کی سی شہرت رکھتا ہے، امام علی ابن الحسین امام زین العابدینؑ بھی ہیں کہ جن کے گھر پر ہمیشہ اک مشعل روشن رہتی تھی اور یہ عرب میں اس بات کی علامت تھی کہ صاحبِ مشعل کا گھر تمام مسافروں اور بے کسوں، غریب الوطنوں کو کھانا اور زادِ راہ فی سبیل اللہ عطا کر ے گا، باقرالعلوم امام محمد باقرؑ بھی، صادقِ آلِ محمد امام جعفر صادقؑ بھی، ان میں باب الحوائج امام موسیٰ کاظمؑ بھی ہیں اور ان میں امام علی ابنِ موسیٰ الرضا جیسے معین الضعفا و الفقرا بھی ہیں، ان میں امام علی نقیؑ جیسے صاحبِ علم بھی ہیں اور امام حسن عسکریؑ جیسے صاحبِ کرامت و ہیبت بھی ہیں اور صاحب العصرِ والزمانؑ جیسے جامع صفات امام بھی۔۔ لیکن ان تمام ہستیوں میں جو ہستی "جواد الآئمہ" کا لقب پائے اسے امام محمد تقی الجوادؑ کہتے ہیں۔
وہ ہستی جس کی آمد کی بشارت آپ کے والدِ محترم امام علی ابنِ موسیٰ الرضاؑ نے یوں دی تھی کہ عنقریب اللہ پاک ہمیں وہ فرزند عطا فرمائے گا جو آئمہ اہلبیت علیھم السلام کے درمیان انتہائی بابرکت قرار پائے گا۔ آج اس مبارک و مقدس ہستی یعنی جواد الآئمہؑ کی ولادت کی بابرکت تاریخ ہے جسے بابِ المراد کہا جاتا ہے۔ جو آئمہِ اہل بیت علیھم السلام کے درمیان بابرکت قرار پائی۔ وہ ہستی جس کا لقب "الجواد" محبانِ اہلبیت علیھم السلام اپنے گھروں کے دروازوں پر لکھوا کر یہ اقرار کرتے ہیں کہ یہ اس "الجواد" کی عطا ہے جو سوال کرنے سے پہلے عطا کر دیتا ہے۔
سلسلہِ رشد و ہدایت، امامت و عصمت کے نویں تاجدار امام محمد بن علی جنہیں الجواد بھی کہا جاتا ہے اور التقی بھی۔ امام تقی الجواد کی عمر فقط نو برس (بعض روایات میں سات برس) تھی جب آپ کے والد امام علی الرضاؑ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ آپ کو تقی اس تقویٰ کی وجہ سے کہا جاتا ہے جو اہل بیتؑ کا خاصہ ہے۔ آپ کو الجواد اسی لیے کہا جاتا ہے کیوں کہ آپ غریبوں کے مدد گار تھے اور مسکینوں کی داد رسی فرماتے تھے، مہمان نواز تھے۔ آپ کریموں کے گھرانے کے وارث ہیں۔ آپ نے 9 برس کی عمر میں اپنے علم و حلم سے علماو فقہا سمیت حاکمِ وقت مامون الرشید کو بھی حیران کر دیا تھا۔ کسی شاعر نے کیا خوب فرمایا ہے:
بیاباں اور ہوتا ہے نشیمن اور ہوتا ہے
تقی سا پھول ہو جس میں وہ گلشن اور ہوتا ہے
امامِ وقت ہوتے ہیں یہاں نو سال کے بچے
ابوطالبؑ کی اولادوں کا بچپن اور ہوتا ہے!
امام علی رضاؑ کی شہادت کے بعد اب محمد تقی الجواد ہی اس زمین پر اللہ کی حجت اور امت کے نویں امام تھے۔ لوگ ان کے گھر جاتے اور ان سے اپنے مسائل کا حل دریافت کیا کرتے۔ امام ان کے ہر سوال کا جواب دیا کرتے تھے۔
اسی سال مسلمان علماء اور دانشوروں کا ایک قافلہ حج کے لیے مکہ جارہا تھا۔ اس قافلے میں اسی (80) افراد شامل تھے۔ جب وہ طویل راستہ طے کرکے مدینہ پہنچے تو انہوں نے سوچا کہ پہلے روضہِ رسولﷺ کی زیارت کریں۔ چنانچہ بارگاہِ رسول ﷺ میں حاضری دینے کے بعد، وہ سب امام محمد تقیؑ کے گھر گئے۔ اس وقت آپؑ کی عمر مبارک صرف نو سال تھی۔ آپ کی کمسنی کے باوجود جیسے ہی ان علاء و دانشوروں کی نظر آپ پر پڑی تو وہ سب بے اختیار آپ کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ جب امام اپنی جگہ پر تشریف فرما ہوئے، تو وہ سب بھی بیٹھ گئے۔ پھر ان میں سے جس کسی نے امام سے سوال پوچھنا تھا اس نے پوچھا اور اسے جواب مل گیا۔
ان میں سے ایک دانشور کا نام اسحاق تھا۔ وہ کاغذ کے ایک پرزے پر دس سوال لکھ کر لایا تھا اور چاہتا تھا کہ موقع مناسب جان کر امام محمد تقیؑ کو وہ کاغذ دے دیں اور اپنے سوالوں کے جوابات طلب کریں۔ اسحاق نے دل ہی دل میں کہا: اگر اس نوجوان نے میرے سب سوالوں کے درست جوابات دیے تو میں ان سے درخواست کروں گا کہ میرے لیے دعا کریں کہ خدا مجھے ایک بیٹا عنایت فرمائے۔ اسحاق کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھے لیکن وہاں ہجوم اس قدر زیادہ تھا کہ اسے موقع ہی نہیں مل رہا تھا۔ یہ دیکھ کر اسحاق ناامید ہوگیا اور امام کے گھر سے واپس جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ جیسے ہی وہ کھڑا ہوا امام محمد تقی نے ان کے ہاتھ سے وہ کاغذ لے لیا اور فرمایا: اے اسحاق! کہاں جارہے ہو؟ آؤ اپنے سوالوں کے جوابات سنو!
اسحاق حیرت زدہ رہ گیا اور امام کے نزدیک جا کر بیٹھ گیا۔ امامؑ نے اس سے فرمایا: اے اسحاق! خدا نے تمہاری خواہش کو پورا کیا۔ جان لو کہ جب تم اپنے وطن واپس لوٹو گے، تو خدا تمہیں ایک بیٹا عطا کرے گا۔ اپنے بیٹے کا نام احمد رکھنا!
یہ سن کر اسحاق کی حیرت میں مزید اضافہ ہوگیا کیونکہ امام نے نہ صرف اس کے سوالات کا جواب دے دیا تھا بلکہ اس کی خواہش بھی اسے بیان کر دی تھی۔ وہ دل ہی دل میں کہنے لگا: ابھی تو میں نے اپنے سوالات بھی نہیں پوچھے تھے! پھر امام کو کس طرح میرے سوالوں کا اور میری دیرینہ آرزو کے بارے میں پتہ چل گیا!
اسحاق کچھ دیر یہی سوچتا رہا پھر خود ہی اسے اپنے سوالوں کا جواب مل گیا۔ اپنے آپ سے کہنے لگا: یہ ان کی امامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اسحاق جو کچھ دیر پہلے امام کی کم عمری کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا تھا، اب وہ مطمئن تھا کہ امام محمد تقی ہی شیعوں کے امامِ وقت اور رہبر ہیں۔
امامِ عصر، یوسفِ زہرا، بقیۃ اللہِ الاعظم، امیدِ جہاں، سلطانِ ممکنات، حجۃ اللہ، آیت اللہ، صاحب العصرِ والزمان، اپنے وقت کے امام مہدیؑ کی بارگاہِ اقدس میں امامِ تقی الجوادؑ کی آمد پر ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں۔ تمام محبان ائمہ اہل بیت علیهم السلام کو جواد الائمہ امام تقی الجوادؑ کی آمد بہت بہت مبارک ہو اور یہ دعا ہے کہ پروردگار آج کے اس مقدس دن، امامِ تقی الجوادؑ کی ولادت کے صدقے میرے مرشد قبلہ باوا سید صفدر حسین شاہ ہمدانی کو صحتِ کاملہ عطا فرما اور ان کا سا یہِ رحمت تادیر ہمارے سروں پر قائم رکھ اور سب بے اولاد عزیزوں خصوصاً میری چھوٹی ہمشیرہ اور میرے دوست ملک مزمل بھٹہ صاحب کو اولادِ نرینہ عطا فرما!
کسی کتاب میں پڑھا تھا ایک عمل آپ سب قارئین کی نظر کرتا ہوں، میں نے خود اس عمل کو آزمایا اور حاجت کی برآوری اور مصیبت و پریشانی سے نجات پانے کے لیے انتہائی مجرب عمل ہے۔ عمل یہ ہے کہ امام تقی الجوادؑ کی بارگاہ میں روزانہ نمازِ فجر کے بعد سورہ الملک (تبارک الّلذی: پارہ 29) پڑھ کر ہدیہ کریں اور انہیں اپنا وسیلہ بنا کر بارگاہِ خداوندی میں دعا کریں، چالیس دن تک باقاعدگی سے یہ سورہ پڑھتے رہیں۔ پروردگارِ کریم امام تقی الجوادؑ کے صدقے کرم فرمائیں گے۔

