Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Rizwan Gormani
  4. Nozaida Tajzia Kar Aur Haqaiq

Nozaida Tajzia Kar Aur Haqaiq

نوزائیدہ تجزیہ کار اور حقائق

نوآموز جنگی ماہرین نے ایران کی شکست کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کی تان یہاں آ کر ٹوٹتی ہے کہ ایران کے تیل کے کنوئیں بند ہو جائیں گے، معاشی بحران آئے گا، دنیا کی رائے تبدیل ہو جائے گی، ایران مظلوم نہیں رہے گا۔ اس سب کی وجہ وہ اس امریکی ناکہ بندی کو قرار دیتے ہیں جو آج نہیں ڈے ون سے موجود تھی یعنی انہوں نے چشم زدن میں ایران کو فاتح سے مفتوح میں بدل دیا۔ کل تک دو ایٹمی ریاستوں سے نبرد آزما پاسدران کے اعتماد کو چند گھنٹوں میں اوور کانفیڈنس قرار دے کر ایران کی بدحالی کا وہ نقشہ کھینچا ہے کہ الامان۔

کیا ایرانی بندرگاہوں کا بلاکیڈ اس جنگی تنازعہ میں سیز فائر کا بعد کوئی نیا محاذ ہے؟ جسے یار لوگ سرد جنگ کی سٹریٹجی قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایران کو باندھ کے امریکہ اس نئے محاذ تک کھینچ لایا ہے جبکہ حقیقت میں امریکہ نے پہلے دن سے ہی ایرانی بندرگاہوں تک رسائی کو بلاک کر رکھا تھا اور یو ایس ایس ابراہم لنکلن اور جیرالڈ آر فورڈ پہلے ہی ناک اور منہ پر کچھ چوٹیں کھا کر مرہم پٹی کے لیے جنگی زون سے باہر موجود ہیں جبکہ یو ایس ایس جارج ڈبلیو بش تیزی سے ایران کی طرف گامزن ہے۔

دیگر امریکی ملٹری مشینز پہلے دن سے ایران کو گھیرے ہوے ہیں اور امریکہ نے اپنے سٹریٹجک فائر پائل کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ایرانی جنگ میں خرچ کیا ہے جسے بعض امریکی ماہرین کسی دوسری جنگ یا موجودہ جنگ کے دوبارہ ایکٹو فیز میں داخل ہو جانے سے ایک بڑے خطرے سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ مذاکرات کے کھیل میں جنگ میں آئے تعطل سے امریکہ کو کوئی پہلے سے موجود سٹریٹجک اور ٹیکٹکل ایڈوانٹیج سے بڑھ کر نیا ایڈوانٹیج ملنے کے کوئی آثار نہی سوائے اس بات کے کہ امریکہ فائر پاور exhaust کیے بغیر ٹرمپ کے دنیا بھر میں اپنے شیدائیوں کو شائد بلاکیڈ کے نام پر مطمئن کر سکے۔ امریکہ نے مذاکرات سے وہ کچھ نکالنے کی کوشش کی ہے جو وہ فائر پاور کے استعمال سے حاصل نہی کر سکا۔ وہ واقعی مذکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز پہ بدلنے کی کوشش میں تھا جسے ایرانیوں نے بھانپ کر کم از کم لمحہ موجود تک امریکی رسائی سے باہر کر رکھا ہوا ہے۔

دوستوں کی یہ قیاس آرائیاں کہ مزاکرات کی میز نے ایران کو بلاکیڈ میں پھنسا دیا ہے یا مذاکرات سے انکار سے ایران پر پہلے سے موجود بوجھ سے بڑھ کر کوئی نیا بوجھ آ پڑے گا محض ذہنی اختراع ہیں۔ ایرانی اس معاملے میں مجھ اور آپ جیسے نوآموزوں سے کہیں زیادہ سیانے ہیں ایرانی بھی جانتے ہیں کہ امریکہ جنگ کے پہلے مرحلے میں ہی اپنی طاقت کو کسی سلیقے کسی اصول کے بغیر بہیمانہ استعمال کرکے دیکھ چکا ہے۔ انھی ہتھیاروں کا دوبارہ استعمال وہی تباہی لا سکتا ہے مگر مطلوبہ نتائج نہیں۔

سوال یہ ہے کہ تو کیا یہ جنگ stalemate کا شکار ہو چکی ہے؟ جواب ہے نہیں۔ امریکی اس جنگ کو پھر شروع کریں گے۔ کیونکہ اس جنگ کے پیچھے معاشی وسائل تک رسائی اور سٹریٹجک مفادات سے بڑھ کر نظریاتی فیول موجود ہے اور نظریات غلط ہوں یا صحیح کم از کم نفع نقصان کو تولنے جیسے عقلی کام سے باز رکھتے ہی ہیں

ویسے بھی ٹرمپ اس وقت شدید ترین دباؤ کا شکار ہے ٹرمپ کی موجودہ حالت کو سمجھنے کے لئے آپ صرف چار چیزوں پہ غور کریں اک جب ٹرمپ کو امریکی فوجی کمانڈ نے وار روم سے نکال دیا کہ امریکی پائلٹ کی وجہ سے تلما کر ہذیان بک رہا تھا دوسری جب ٹرمپ نے تہذیب ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا اور دنیا بھر سے جو ری ایکشن آیا اسے دیکھتے ہوئے کمانڈ نے ٹرمپ کو نیوکلئیر کوڈ دینے سے انکار کیا کہ نہ امریکہ کے وجود کو خطرہ ہے نہ دنیا میں کہیں ایٹمی جنگ ہونے لگی ہے لہذا یہ کوڈ آپ کو نہیں ملیں گے (ان دونوں خبروں کی تردید نہیں کی گئی)۔

تیسری دنیا بھر میں ٹرمپ کے خلاف ہونے والے نو کنگز مظاہرے اور ٹرمپ کا اسرائیلی کٹھ پتلی اور احمق انسان کے مشہور ہونا اور چوتھی بی بی سی کی وہ خبر کہ جنگ کے دوران ٹرمپ کے لمحہ بہ لمحہ بدلتے بیانات سٹانس اور ٹوئیٹس اپنے پیچھے اک پیٹرن رکھتے تھے اور ان بیانات اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے درمیان اک پیٹرن مشاہدے میں آیا ہے یعنی امریکی صدر اپنی پوزیشن اور ایرانی جنگ کو کاروباری مقاصد کے لئے استعمال کرتا پایا گیا ہے۔

اس سب کے باوجود آپ کو لگتا ہے کہ ٹرمپ بس دنوں میں ایرانی معشیت کو تباہ کر دے گا کہ اس نے بلاکیڈ کر رکھا ہے تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ یہاں پہلے کون ٹوٹتا ہے سے ہی اگر جنگ کا فیصلہ ہونا ہے تو چین اور روس ایران کو بحالی کے نام پہ مالی امداد شروع کر دیں گے تب آپ کا ٹرمپ کیا کرے گا۔

Check Also

Operation Bunyan Ul Marsoos (4)

By Javed Chaudhry