Saturday, 20 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Rizwan Gormani
  4. Bughz Ke Maaro America Ki Jeet Mubarak Ho

Bughz Ke Maaro America Ki Jeet Mubarak Ho

بغض کے مارو امریکہ کی جیت مبارک ہو

امریکہ ایران معاہدے کا اعلان ہونے کے بعد بغضیوں کی حالت قبض شدگان جیسی ہو چکی ہے یہ پورا زور لگا رہے ہیں کہ کسی طرح ایران کو ہروا دیں ان سے ہضم نہیں ہو رہا کہ ایران نے اپنی شرائط پہ کیسے جنگ بندی کرائی یا پھر انہیں پاکستان کی مرکزی ثالث کی حیثیت اور ملنے والی عزت برداشت نہیں ہو رہی۔ اب کل سے اک تحریر وائرل ہے کہ جی معاہدے پہ دستخط یورپ میں کیوں ہو رہے ہیں ان کو کون سمجھائے کہ اک طرف امریکہ سارا وزن اور پاور شفٹنگ ایشیا میں نہیں دکھانا چاہتا تھا، دوسرا ایران بھی چاہتا تھا کہ یورپ جس طرح اس جنگ میں ایران کے لئے مفید ثابت ہوا ہے کل کلاں کوئی اونچ نیچ ہو تو اس معاہدے کی وجہ سے یہ اک براہ راست فریق بن کر سامنے آئے یہ معاہدہ اس شہر کے نام سے جانا جائے گا جس میں سائن ہوں گے۔

بغضیے کل سے یا تو یہ تاثر دیے جا رہے ہیں کہ ایران ہار گیا یا پھر یہ کہتے ہیں کہ نہ ایران ہارا نہ جیتا دلیل کے لئے کہتے ہیں مصری نہر کو قومیانے کی بات کرتے ہیں کہ ایران نے کوئی آبنائے ہرمز کو نیشنلائز کیا ہے یہ بھول جاتے ہیں کہ ایران پہ جنگ مسلط کرنے سے پہلے نہ تو آبنائے ہرمز بند تھی نہ ہی ایران نے یہاں سے ٹیکس وصولنے کا کوئی عندیہ دیا تھا۔

دوسرا جنگ کی ہار جیت کا فیصلہ حملہ آور کے عزائم کی تکمیل سے لگایا جاتا ہے کہ کیا جن مقاصد کے لئے جنگ شروع ہوئی تھی وہ پورے ہوئے؟

امریکہ نے کہا تھا رجیم چینج کروں گا رضا پہلوی کو لاؤں گا بیلسٹک پروگرام ختم کروں گا پراکسیز خصوصا حزب اللہ کی ایسی تیسی کر دوں گا کیا ان میں سے ٹرمپ کوئی اک مقصد بھی حاصل کر سکا یہ بوزنے لے دے کر جوہری پروگرام پہ آکر تان توڑتے ہیں ان عقل کے اندھوں کو علم بھی نہیں کہ ایٹم بم کے خلاف آیت اللہ خامنائی کا فتوی موجود تھا پھر اوبامہ کے ساتھ جوہری معاہدہ موجود تھا جسے ٹرمپ نے یک طرفہ طور پہ ختم کر دیا تھا۔ ایران کا موقف تو پہلے بھی یہی تھا جو آج ہے ٹرمپ کی بے وقوفی ہے کہ اوبامہ کا کیا معاہدہ ختم کرکے جنگ مسلط کرکے اسرائیل کی جئی تئی پھروا کر پھر وہی معاہدہ کرنے جا رہا ہے۔

اسرائیل سے یاد آیا گزشتہ دو دہائیوں سے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتین یاہو کی پوری سیاسی شناخت ایران کے خلاف سخت موقف، ایرانی جوہری پروگرام کی مخالفت اور واشنگٹن پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کے گرد گھومتی رہی ہے۔

اسرائیلی ہوا بنا ہوا تھا کہ جی اک اسرائیلی کو بھی مارو تو موساد دنیا کے کسی کونے میں بھی جا کر بدلہ لیتی ہے اب وہی اسرائیل گالوں پہ پڑے تھپڑ سہلاتے ہوئے منہ بسور رہا ہے کیونکہ امریکا ایران ڈیل نے پہلی بار یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ خطے کے سب سے اہم سفارتی معاہدے میں اسرائیل مرکزی کردار کے بجائے ایک ناراض تماشائی بن کر رہ گیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا، اپوزیشن جماعتوں اور بعض سابق سکیورٹی حکام کے مطابق یہ معاہدہ صرف امریکا اور ایران ہی نہیں بلکہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں بھی اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔

کل تک اسرائیل کی ہر بات ماننے والا ٹرمپ اس بندریا جیسا ثابت ہو رہا ہے جب اس کے پاؤں جلنے لگے تو اس نے اپنے بچے نیچے دے دیے تھے۔

امریکا اور اسرائیل نے فروری میں ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ اسرائیل کی توقع تھی کہ اس جنگ کا اختتام ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل صلاحیت اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں خصوصاً حزب اللہ کے خاتمے یا اس کے خلاف سخت شرائط پر ہوگا۔ لیکن اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق معاہدے میں ان نکات کا واضح ذکر موجود نہیں۔ نیویارک ٹائمز کے تجزیے کے مطابق معاہدہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود نہیں کرتا، نہ ہی حزب اللہ اور حوثیوں جیسے ایرانی اتحادیوں کی مالی یا عسکری معاونت کو روکنے کے لیے کوئی واضح شق شامل ہے۔

اب کوئی اسے امریکہ کی جیت اور ایران کی ہار کہے تو کہے ہم سے نہ ہو پائے گا۔

یہ اچھی جیت ہے جسے اسرائیل میں منفی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے اسے "اسرائیل اور آزاد دنیا کے لیے برا معاہدہ" قرار دیا، جبکہ قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے صاف کہا کہ "ٹرمپ کا معاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا"۔

اسرائیل کا سب سے بڑا اعتراض لبنان کے مسئلے پر ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی تمام محاذوں پر لاگو ہوگی، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اسرائیل کے لیے حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کی گنجائش محدود ہوسکتی ہے۔ اسرائیل کے دفاعی اور انٹیلی جنس حلقوں میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ اس سے حزب اللہ کو دوبارہ منظم ہونے اور لبنان میں اپنی سیاسی و عسکری حیثیت مضبوط کرنے کا موقع مل جائے گا۔ موساد کے سابق عہدیدار سیما شائن کے مطابق امریکا نے لبنان کے معاملے میں ایران کو غیر معمولی چھوٹ دی ہے جس پر اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ خوش نہیں ہے۔

دوسری طرف ایران نے ہمسائیوں سمیت سب کو باور کرایا ہے کہ وہ اک وقت میں متعدد محاذوں پہ لڑنے کی صلاحیت طاقت اور جرات رکھتا ہے۔

اس کے منجمد اثاثے واپس ملیں گے بلینز آف ڈالرز کے پیکج ملیں گے وہ آرام سے تجارت کریں گے اور پہلے سے زیادہ طاقتور اور باعزت فریق بن کر دنیا میں اپنا سکہ جمائیں گے اس سب میں سکول کی بچیوں کی شہادت عام انسانوں کی شہادت سب سے اہم اک چھیاسی سالہ بزرگ کی شہادت کا خراج وصولیں گے۔

Check Also

Aik Thi Rani

By Rashid Ahraz