Samajh Kuch Nahi Aata
سمجھ کچھ نہیں آتا

پارک میں بیٹھا ایک نوجوان سیگریٹ کا دھواں چھوڑ رہا تھا جیسے کوئی یاماہا موٹر سائیکل چھوڑتا ہے۔ جب بندہ ناچیز نے اس سے بات کرنی کی کوشش کی تو کسی خراب سائلنسر کی طرح پھٹ پھٹ کرتے ہوئے کھانسنے لگا۔ جیسے تیسے گفتگو کا آغاز ہوا پارک میں والی بال کا میچ ہو رہا تھا لیکن تماشبین میں ایک وہ نوجوان اور دوسرا بندہ ناچیز تھا۔
باتوں باتوں میں، میں کہہ دوگی۔۔ جیسا کوئی سین نہیں تھا۔ نوجوان کسی بس میں لگے ٹیپ ریکارڈر کی طرح خود ہی شروع ہوگیا یہاں کچھ نہیں رکھا بندہ ناچیز اردگرد دیکھنے لگا اور قریب میں واقع ہی کچھ بھی نہیں تھا تو عرض کی کہ جی جناب آپ سے متفق ہوں۔ کہنا لگا ہاں جد دوں آوے گا۔۔ نعرے وجنے نے۔۔ کپھے کپھے۔۔ اسی دوران ایک شاہین آسمان پر اڑتا نظر آیا تو کہنے لگا شاید استحکام آجائے۔
نوجوان اور بندہ ناچیز کے درمیان جو بھی گفتگو ہو رہی تھی یقیناً اوکاڑہ اور ساہیوال سے دور تھی۔ بندہ ناچیز کو اس بات کا اندازہ تھا کہ ایسے سستے فلاسفر پارک کے ہر کونے میں موجود ہوتے ہیں لیکن ان پر بھی اب قحط سالی کے اثرات مرتب ہوچکے ہیں۔ نوجوان کہتا ہے پہلے تو ہمیں کہیں نہ کہیں ٹرک نظر آجاتا تھا لیکن اب تو نہ ٹرک ہے اور نہ ہی اس کے پیچھے لگی بتی۔ اب میں کس کو فالو کروں۔
ٹک ٹاک پر جاؤں یا فیس بک پر اتنی کنفیوژن ہے کہ سمجھ کچھ نہیں آتا۔ پہلے تو سب کہتے تھے کہ ملتان کا حلوہ بہت مشہور ہے لیکن اب تو مارکیٹ میں خوشاب کے ڈھوڈے سے لے کر حافظ جی کا حلوہ سب ہی شہرت پا رہے ہیں۔ لیکن ہمیں تو ہمیشہ قل خوانی والے چاول ہی ملتے آئے ہیں۔
نوجوان کی باتیں ایسی ہی تھیں جیسے میانوالی میں کسی شادی پر ہوائی فائرنگ، کڑ کڑ کی آواز تو آتی ہے سمجھ کچھ نہیں آتی۔ بندہ ناچیز کو بہت اشتیاق ہوا کہ محترم کا اسم گرامی معلوم کرے۔ جسارت کرکے نام دریافت کیا تو کہنے لگا میرا نام ریاست خان ہے لیکن میں پٹھان نہیں ہوں۔ بندہ ناچیز یہ سنتے ہی نیم بے ہوشی میں چلا گیا ایک تو نوجوان اوپر سے نام ریاست خان اور پٹھان بھی نہیں۔ بہت کوشش کے باوجود بندہ ناچیز بے ہوش نہ ہوسکا۔
نوجوان نے مزید بے ہنگم اور سیاق و سباق سے ہٹ کر اپنی بات شروع رکھی۔ پھر اچانک اٹھا اور کہنے لگا او آ گی ہے سب دی۔۔ آگی ہے۔ بندہ ناچیز کو لگا شاید آج یکم ہو اور تنخواہ آگئی ہو لیکن وہ موبائل دیکھ کر کہہ رہا تھا کہ بجلی آگئی ہے۔ پچھلے دنوں آندھی کی وجہ سے درخت گر گئے تو بجلی غیب تھی۔ اب بجلی تو آ گئی تھی لیکن سمجھ پھر بھی نہیں آرہی تھی۔
بندہ ناچیز بھی اب یہ سن سن کر تھک گیا تھا اور نوجوان کے پاس جو سیگریٹ کی ڈبیہ بھی کئی دانشوروں کے سر کی طرح خالی ہو چکی تھی۔ لیکن جو کچھ بھی ہو جائے سمجھ کچھ نہیں آتا۔

