Thursday, 21 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Qasim Asif Jami
  4. Zati Waqar Ya Mahakamana Discipline

Zati Waqar Ya Mahakamana Discipline

ذاتی وقار یا محکمانہ ڈسپلن

جامع مسجد داتا دربار محض ایک مسجد نہیں، روحانیت، عقیدت اور عوامی محبت کا مرکز ہے۔ اس عظیم مقام پر خطابت کرنا صرف ایک ملازمت نہیں بلکہ ایک فکری، روحانی، قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ یہ وہ منصب ہے جہاں الفاظ صرف کانوں تک نہیں پہنچتے بلکہ دلوں پر اثر چھوڑتے ہیں اور جب کوئی شخص سترہ سال تک مسلسل اس منصب پر فائز رہ کر لوگوں کے دلوں میں احترام پیدا کرے، تو وہ محض "سرکاری افسر" نہیں رہتا بلکہ ایک ادارہ بن جاتا ہے، وہ یوں کہ فجر کی جماعت ادا کروانے کے بعد درسِ قرآن، مغرب کے بعد کشف المحجوب کی تبلیغ، ہر جمعرات درسِ فقہ، ماہانہ پروگرام اور سب سے بڑھ کر جامع اور موثر انداز میں جمعہ کا خطبہ، جسے نہ صرف حاضرین اور زائرین بلکہ ARY Qtv کے ذریعے 14 سالوں سے دنیا بھر میں محبین لائیو دیکھتے "تھے" کیونکہ پیمرا کے اصول و ضوابط کا لحاظ، قومی اداروں کی حساسیت و تحفظ سمیت، عقیدے اور نظریے کو صوفیانہ طرز میں لے کر چلنا بھی ایک ہمہ جہتی اور بادی النظر وسیع ظرف کا متقاضی ہے۔

رمضان المبارک میں پرسوز تراویح کی بات ہو یا محفلِ شبینہ کے لئے میرٹ پہ حفاظ کا انتخاب، تعمیراتی کاموں میں عوامی اعتماد کا حصول ہو یا مزار پہ لگنے والی کیلیگرافی میں اعراب و بنا کی ٹیکنیک کے ساتھ جمالیاتی ذوق کا اظہار، یہ سب ذمہ داری کے ساتھ ساتھ عطائے خداوندی ہی ہوسکتی ہے۔

بالخصوص غسل کی تقریبات اور عرس کے ایام میں جو امتحان درپیش ہوتا ہے انکی ایک طویل فہرست ہے جسے قریب رہنے والے احباب ہی جان سکتے ہیں کہ کس طرح ملک بھر سے آئے زائرین کی علمی و روحانی تربیت کے لئے علماء و مشائخ اور مدارس کے منتظمین سے رابطے کرنا اور حسبِ مراتب و مقام عزت افزائی کرنا نیز تمام تقریبات کو بروقت ایک روایتی حسنِ ترتیب سے دینے میں جو شخصیت بطور "نمونہ" سامنے ہوتی ہے وہ بھی خطیب داتا دربار ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محفلِ سماع اور دودھ کی سبیل میں خطیب کے شامل ہونے سے ہی متعلقہ احباب سکون محسوس کرتے ہیں کیونکہ آواز و لباس کے ساتھ خوشنما presentation بھی ایک جزو لاینفک ہے۔

خیر زندگی کا المیہ یہ ہے کہ بعض اوقات بہترین خدمات کے باوجود اچانک فیصلے انسان کو آزمائش میں ڈال دیتے ہیں۔ تبادلے، تقرریاں اور انتظامی فیصلے سرکاری نظام کا حصہ ہوتے ہیں، مگر کچھ تبادلے محض فائلوں کی تبدیلی نہیں ہوتے بلکہ عوامی جذبات کو بھی متاثر کرتے ہیں کیونکہ وہاں فقط ایک سادہ نوٹیفکیشن نہیں بلکہ وضاحت بھی مطلوب ہوتی ہے کہ آخر پسِ پردہ کیا محکمانہ "کھچڑی" پکی ہے۔

دُنیا کا دستور ہے کہ یہاں تغیر اور تبادلے زندگی کا حسن بھی ہیں اور آزمائش بھی۔ لیکن کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے منصب کو رونق نہیں بخشتیں، بلکہ منصب ان کے نام سے پہچانا جانے لگتا ہے۔ ایسے ہی معروف، دیانت دار اور عوامی مقبولیت کے حامل سرکاری افسر، جو گزشتہ 17 سالوں سے "خطیب جامع مسجد داتا دربار" کے مقدس اور معتبر منصب پر فائز رہے، ان کا اچانک تبادلہ بلا شبہ ایک غیر متوقع موڑ ہے۔

جب اچانک اسی محکمے میں ان کے تبادلے کا پروانہ جاری ہوا، تو انسانی فطرت کے تحت وہاں احتجاج، واویلا یا عوامی جنگ کا پورا جواز موجود تھا، خصوصاً جب عوام کی بھرپور حمایت بھی حاصل ہو۔

یہاں مجھے ایک تاریخی بات یاد آرہی ہے کہ جنرل ضیاء الحق جب بھی دربار حاضر ہوتے تو داخل ہوتے ساتھ ہی مسجد کے خادم 'بابا شوکت' کے بارے ضرور پوچھتے، اگر نسبت کے احترام کی وجہ سے ایک صفائی والے خادم کی عقیدت کسی بڑے کے دل میں یوں ہوسکتی ہے تو منبر و محراب پہ بیٹھے شخص سے لوگوں کی جو جذباتی وابستگی ہوگی اسکا اندازہ محکمانہ سیاست کے بااثر افراد شاید نہیں لگا سکتے۔ وگرنہ ہم نے اپنے زمانہ طالب علمی میں مسجد کے نائب خطیب اور خادموں کو روڈ بلاک کرتے، بینر لگا کر احتجاج کرتے دیکھ کر ثمرات حاصل کرتے دیکھا ہے۔

رابطے استعمال کرنے، میڈیا کے بار بار بلانے پہ نہ جانے، کسی "اخباری کالم" اور سوشل میڈیا پوسٹ سے متاثر ہوئے اور غصہ کرنے کے بجائے (میرے ذرائع کے مطابق) انہوں نے تو بغیر کسی ہچکچاہٹ اور چون وچِرا کیے گاڑی، ڈرائیور، ملازم اور دفتر سمیت سب کچھ تسلیم و رضا کے ساتھ نئے خطیب کے سپرد کردیا۔ مطلب پبلک پریشر کو پراپیگنڈے کے لئے استعمال کرنے یا منفی ردعمل کے بجائے محکمانہ ڈسپلن اور پالیسی کو سر آنکھوں پر رکھا اور صبر و خاموشی سے اپنی نئی ذمہ داری میں مشغول ہوگئے جبکہ مجھ سمیت کئی افراد بار بار انکے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو چیک کرتے رہے کہ شاید اب کوئی ردعمل آئے یا مفتی صاحب اس پہ موقف دیں، لیکن جتنا میں انہیں جانتا ہوں تو انکی یہ خاموشی کمزوری نہیں بلکہ توکل و عافیت کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ وہ داتا گنج بخشؒ کے آستانے پر صرف خطبہ نہیں دیتے تھے، بلکہ انہوں نے داتا کی نگری سے "رضا برضا" رہنے کا حقیقی درس بھی سیکھا ہے۔ دفتری سیاست کا جواب اپنے وقار اور خاموشی سے دے کر محکمے کے دیگر افسران کے لیے ایک ایسی نظیر قائم کر دی ہے جسے مدتوں یاد رکھا جائے گا۔

یہ صبر و ہمت کی وہ مثال ہے جو آج کے دور میں نہایت نایاب ہو چکی ہے۔ تبادلے کی کشمکش میں انہوں نے ثابت کیا کہ سچا افسر عہدے کا غلام نہیں ہوتا، بلکہ وہ نظام کا حصہ ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ تبادلہ ایک معمول ہے، مگر کردار اور دیانت کا سفر مسلسل ہے۔ مفتی صاحب نے اپنے عمل سے یہ پیغام دیا کہ عوامی اصلاح کا جذبہ کسی ایک خاص منصب سے وابستہ نہیں، بلکہ دل میں بستا ہے۔ جہاں بھی جاؤ، وہی خدمت، وہی ایمانداری اور وہی ذمہ داری۔۔!

بقول اقبال

نِگاہ بلند، سخن دلنواز، جاں پُرسوز
یہی ہے رختِ سفر، میرِ کارواں کیلئے

Check Also

Chaye Meri Muhabbat

By MA Tabassum