Thursday, 03 April 2025
  1.  Home
  2. Blog
  3. Qaiser Ahmed Sahi
  4. Muhabbat Aur Iqtidar Ki Jang, Kon Hara, Kon Jeeta?

Muhabbat Aur Iqtidar Ki Jang, Kon Hara, Kon Jeeta?

محبت اور اقتدار کی جنگ، کون جیتا، کون ہارا؟

وہ دنیا کے سب سے طاقتور لوگ تھے، تخت ان کے اشاروں پر جھک جاتے تھے، سلطنتیں ان کے حکم پر چلتی تھیں، مگر جب محبت کی جنگ آئی تو سب ہار گئے۔ بادشاہوں اور شہزادوں کو ہمیشہ سے طاقت، اقتدار اور رعب و دبدبے کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ محبت کے سامنے تخت و تاج بےبس ہو جاتے ہیں۔

یہ کہانی صرف بادشاہوں کی نہیں، بلکہ ہر اس شخص کی ہے جو روایت اور جذبات کے درمیان پھنس جاتا ہے۔ ایک طرف معاشرتی دباؤ، خاندانی روایات اور سماجی اقدار ہوتی ہیں اور دوسری طرف وہ محبت جو انسان کے اندر طوفان بپا کر دیتی ہے۔ کچھ لوگ محبت کو قربان کر دیتے ہیں اور کچھ تخت چھوڑ دیتے ہیں۔

دسمبر 1936 کی بات ہے، جب برطانیہ کے بادشاہ ایڈورڈ ہشتم نے ایک تاریخی فیصلہ کیا۔ وہ محض 11 ماہ تک تخت پر رہے اور پھر اچانک اعلان کیا: "میں بغیر اس عورت کے حکومت نہیں کر سکتا جس سے میں محبت کرتا ہوں! "

یہ عورت کون تھی؟ یہ تھیں والس سمپسن، ایک امریکی خاتون جو پہلے دو بار شادی کر چکی تھیں۔ برطانوی شاہی خاندان اور چرچ اسے قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔ ایڈورڈ کے پاس دو راستے تھے: یا تو محبت کو چھوڑ دیں اور تاج سنبھالیں، یا پھر تاج چھوڑ دیں اور محبت کو اپنا مقدر بنا لیں۔ انہوں نے دوسرا راستہ چُنا اور ہمیشہ کے لیے جلاوطن ہو گئے۔

ایڈورڈ ہشتم پہلے بادشاہ نہیں تھے جنہیں محبت کے لیے تخت چھوڑنا پڑا۔ ہالینڈ کے شہزادے فریسو نے 2004 میں اپنی محبت میبل وس سمٹ سے شادی کی، مگر ان کی حکومت نے اس رشتے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ نتیجہ؟ وہ شاہی حیثیت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

تھائی لینڈ کی شہزادی اُبول راتانا کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ 1972 میں، جب انہوں نے ایک امریکی سے شادی کی، تو انہیں اپنی شہزادی کی حیثیت کھونا پڑی۔ ایک ہی دستخط نے انہیں عام انسانوں کی صف میں لا کھڑا کیا۔

اور پھر ہمارے دور کے سب سے مشہور شاہی باغی شہزادہ ہیری۔ 2020 میں، انہوں نے اور ان کی بیوی میگھن مارکل نے شاہی زندگی سے علیحدگی اختیار کر لی۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے آزادی کا انتخاب کیا، مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ شاہی روایات کے خلاف بغاوت کرنا چاہتے تھے جو ان کی بیوی کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھیں۔

ہندوستان کے عظیم مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کو تاریخ میں صرف ایک بادشاہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک عظیم عاشق کے طور پر بھی یاد رکھا جاتا ہے۔ اکبر نے راجپوت شہزادی جودھا بائی سے شادی کی، جو ایک ہندو خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس وقت کے روایتی مسلم درباریوں نے اس شادی پر شدید اعتراض کیا، مگر اکبر نے اپنی محبت کو ہر روایت سے بالاتر رکھا۔ یہی وہ شادی تھی جس نے ہندو مسلم تعلقات کو ایک نیا موڑ دیا۔

بھارت کے سابق وزیرِاعظم راجیو گاندھی کا تعلق ایک برہمن ہندو خاندان سے تھا۔ انہوں نے سونیا گاندھی سے شادی کی، جو ایک اطالوی عیسائی تھیں۔ اس شادی پر بھارتی سیاسی حلقوں اور ہندو انتہا پسندوں نے اعتراضات اٹھائے، مگر راجیو نے اپنی محبت کے خلاف کوئی سودے بازی نہیں کی۔ آج بھی سونیا گاندھی کو بھارت میں "غیر ملکی" سمجھا جاتا ہے، حالانکہ وہ کئی دہائیوں سے بھارتی سیاست کا حصہ ہیں۔

پاکستان کے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی پہلی شادی جمائما گولڈ اسمتھ سے ہوئی، جو ایک برطانوی یہودی خاندان سے تھیں۔ پاکستانی معاشرے میں اس شادی کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا اور ان پر مغربی اثرات قبول کرنے کے الزامات لگائے گئے۔

یہ صرف بادشاہوں کی کہانی نہیں، بلکہ ہر اس انسان کی کہانی ہے جو "اپنی ذات سے باہر شادی" کرنا چاہے تو اسے روایات کی زنجیریں جکڑ لیتی ہیں۔ برصغیر میں بین المذاہب اور بین الطبقات شادی آج بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہم نے ہزاروں سال پرانی ذات پات کی تقسیم کو اتنا مضبوط کر دیا ہے کہ محبت اس کے آگے بےبس ہو جاتی ہے۔

کیا محبت ذات دیکھ کر ہوتی ہے؟ کیا ایک اعلیٰ ذات کا فرد کسی کم ذات سے محبت نہیں کر سکتا؟ اگر محبت دلوں کا رشتہ ہے تو پھر یہ فرق کیوں؟

ہمارے معاشرے میں آج بھی ایسی شادیاں آسانی سے قبول نہیں کی جاتیں۔ خاندان کا دباؤ، سماجی بندھن اور عزت کے نام پر قتل (honor killings) جیسی گھٹیا روایات زندہ ہیں۔ ہم کسی کو صرف اس لیے مسترد کر دیتے ہیں کہ اس کی ذات یا برادری ہماری جیسی نہیں ہے۔

تاریخ میں کچھ لوگ محبت کے لیے تخت چھوڑ گئے اور کچھ نے محبت چھوڑ کر تخت چُنا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کامیاب کون ہوا؟

ایڈورڈ ہشتم محبت کے لیے تخت چھوڑ گئے، مگر کیا وہ خوش رہے؟ تاریخ بتاتی ہے کہ انہوں نے اپنی باقی زندگی جلاوطنی میں گزاری اور جب ان کا انتقال ہوا تو انہیں شاہی قبرستان میں دفن کرنا بھی مشکل ہوگیا۔

شہزادہ ہیری شاہی زندگی سے الگ ہو کر کیلیفورنیا جا بسے، مگر آج بھی ان کا ذکر برطانوی میڈیا میں اس طرح ہوتا ہے جیسے وہ کوئی بڑا جرم کر بیٹھے ہوں۔

لیکن دوسری طرف وہ بادشاہ دیکھیں جنہوں نے محبت کو قربان کر دیا۔ کیا وہ واقعی خوش رہے؟ تاریخ میں ایسے بےشمار بادشاہ ملتے ہیں جو سیاسی مجبوریوں کے تحت شادیاں کرتے رہے، مگر اندر سے ٹوٹ چکے تھے۔

اصل میں، یہ معاشرتی نظام ہی ایسا ہے جہاں آپ جو بھی فیصلہ کریں، آپ کو قربانی دینی پڑتی ہے۔ اگر آپ محبت کے لیے تخت چھوڑیں گے تو زندگی آسان نہیں ہوگی اور اگر آپ تخت کے لیے محبت چھوڑیں گے تو اندر کی خوشی ختم ہو جائے گی۔

حل کیا ہے؟

ہم نے صدیوں سے ذات پات، روایات اور خاندانی برتری جیسے نظریات کو اتنا مقدس بنا دیا ہے کہ محبت کو ایک جرم سمجھا جانے لگا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کوئی انسان اپنی خوشی کے بغیر جی سکتا ہے؟ کیا ایک بادشاہ کی سب سے بڑی طاقت اس کا تاج ہوتا ہے، یا اس کا دل؟

ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے لوگوں کو ان کے جذباتی فیصلے کرنے کی آزادی دے سکتے ہیں؟ کیا محبت اور معاشرتی اصولوں میں کوئی درمیانی راستہ نکالا جا سکتا ہے؟

دنیا میں ہمیشہ وہی کامیاب ہوتا ہے جو اپنے فیصلے خود کرتا ہے، چاہے وہ محبت کا فیصلہ ہو یا تخت کا اور تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ تخت ہمیشہ نہیں رہتا، مگر محبت کسی نہ کسی صورت میں امر ہو جاتی ہے۔

یہ تاریخ ہمیں ایک سبق دیتی ہے، بادشاہ طاقتور ہو سکتے ہیں، مگر محبت کے سامنے سب بےبس ہوتے ہیں۔ اگر بادشاہ محبت کے آگے ہار سکتے ہیں، تو ہم کیوں نہیں سیکھ سکتے کہ دل کے فیصلے کو عزت دی جائے؟

Check Also

Kill The Door

By Tauseef Rehmat