Tik Tok, Arzi Shohrat Ka Junoon Ya Musharti Zawal?
ٹک ٹاک، عارضی شہرت کا جنون یا معاشرتی زوال؟
ڈیجیٹل دور نے جہاں انسان کو بے شمار آسانیاں فراہم کی ہیں، وہیں اس نے کئی نئے چیلنجز کو بھی جنم دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً ٹک ٹاک، اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ چند سال قبل جب یہ ایپ پاکستان میں متعارف ہوئی تو اسے محض تفریح کا ایک ذریعہ سمجھا گیا، مگر وقت کے ساتھ یہ ہماری سماجی اقدار، ترجیحات اور طرزِ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے لگی۔
آج صورتحال یہ ہے کہ ٹک ٹاک صرف ایک ایپ نہیں رہی بلکہ ایک ذہنی کیفیت بن چکی ہے، جہاں ہر دوسرا فرد خود کو منوانے، دیکھے جانے اور سراہا جانے کی خواہش میں مبتلا ہے۔ یہ خواہش فطری ضرور ہے، مگر جب یہ حد سے تجاوز کر جائے تو انسان کو حقیقت سے دور لے جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہی ہو رہا ہے۔
نوجوان نسل، جو کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتی ہے، اس رجحان سے سب سے زیادہ متاثر نظر آتی ہے۔ تعلیم، ہنر اور کردار سازی جیسی بنیادی چیزیں پس منظر میں جا چکی ہیں، جبکہ چند سیکنڈ کی ویڈیوز، لائکس اور فالوورز کامیابی کا معیار بنتے جا رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا فریب ہے جو وقتی خوشی تو دیتا ہے مگر دیرپا نقصان چھوڑ جاتا ہے۔
ٹک ٹاک پر دکھائی جانے والی زندگی اکثر حقیقت کا عکس نہیں ہوتی۔ پرتعیش طرزِ زندگی، مہنگی گاڑیاں اور مصنوعی خوشحالی، یہ سب ایک ایسی دنیا کی تصویر پیش کرتے ہیں جو ہر کسی کے لیے ممکن نہیں۔ مگر دیکھنے والے، خصوصاً نوجوان، اسے حقیقت سمجھ بیٹھتے ہیں اور اپنی زندگی کو اسی پیمانے پر پرکھنے لگتے ہیں۔ اس کا نتیجہ احساسِ کمتری، مایوسی اور بے چینی کی صورت میں نکلتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک اور تشویشناک پہلو نجی زندگی کی بے دریغ نمائش ہے۔ ایسے معاملات جو کبھی گھر کی چار دیواری تک محدود ہوتے تھے، اب محض توجہ حاصل کرنے کے لیے سوشل میڈیا کی زینت بن جاتے ہیں۔ تعلقات، جذبات اور ذاتی لمحات سب کچھ عوامی تماشہ بن چکا ہے۔ جب یہ تعلقات بگڑتے ہیں تو ان کے اثرات بھی صرف افراد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خاندان متاثر ہوتے ہیں۔
ہم آئے دن ایسے واقعات سنتے ہیں جہاں سوشل میڈیا پر بننے والے تعلقات حقیقی زندگی میں سنگین مسائل کا باعث بنتے ہیں۔ کہیں جھگڑے، کہیں علیحدگیاں اور کہیں ایسے سانحات جن کا تصور بھی مشکل ہوتا ہے۔ اگرچہ ہر واقعے کی ذمہ داری صرف ایک ایپ پر ڈالنا درست نہیں، مگر یہ حقیقت ہے کہ غیر محتاط اور بے لگام استعمال خطرات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
مزید یہ کہ اس پلیٹ فارم نے محنت اور کامیابی کے تصور کو بھی متاثر کیا ہے۔ بہت سے نوجوان یہ سمجھنے لگے ہیں کہ بغیر کسی محنت اور مہارت کے صرف ویڈیوز بنا کر شہرت اور دولت حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ سوچ نہ صرف فرد کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ معاشرے کی مجموعی ترقی کے لیے بھی ایک رکاوٹ ہے۔
تاہم، تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ یہی ٹک ٹاک اگر مثبت انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ تعلیم، ہنر اور شعور کو فروغ دینے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ دنیا کے کئی حصوں میں لوگ اس پلیٹ فارم کے ذریعے معلوماتی مواد، کاروباری آئیڈیاز اور تعلیمی رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھی اس کا رخ مثبت سمت میں موڑیں۔
اس مسئلے کا حل محض تنقید میں نہیں بلکہ شعور اور توازن میں پوشیدہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ سوشل میڈیا کے لیے واضح اور مؤثر پالیسیاں مرتب کرے، جبکہ والدین کو اپنے بچوں کی تربیت اور رہنمائی پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ تعلیمی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ نوجوانوں میں ڈیجیٹل شعور پیدا کریں تاکہ وہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ کر سکیں۔
آخرکار، یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ سوشل میڈیا ایک ذریعہ ہے، منزل نہیں۔ اگر ہم نے اسے اپنی زندگی کا محور بنا لیا تو ہم اپنی اصل ترجیحات کھو بیٹھیں گے۔ ایک مہذب اور مضبوط معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں افراد وقتی چمک دمک کے بجائے مستقل اقدار، محنت اور کردار کو ترجیح دیتے ہیں۔
آج بھی وقت ہے کہ ہم خود احتسابی کریں اور اپنی سمت درست کریں۔ ورنہ عارضی شہرت کا یہ جنون ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا بوجھ بن جائے گا جسے اٹھانا شاید ممکن نہ ہو۔

