Tuesday, 24 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Ramzan: Rehmaton Ka Mahina Ya Mehangai Ki Azmaish?

Ramzan: Rehmaton Ka Mahina Ya Mehangai Ki Azmaish?

رمضان: رحمتوں کا مہینہ یا مہنگائی کی آزمائش؟

رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ اسی مقدس مہینے کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "روزہ میرے لیے ہے اور اس کا اجر میں خود دوں گا"۔ یہ ایسا عظیم وعدہ ہے جو ہر مومن کے دل کو سکون اور امید سے بھر دیتا ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں یہی مہینہ بہت سے لوگوں کے لیے روحانی سکون کے بجائے معاشی پریشانی کا سبب بن جاتا ہے۔

رمضان کی آمد کے ساتھ ہی جہاں عبادت گاہیں آباد ہوتی ہیں، وہیں بازاروں میں قیمتوں کو پر لگ جاتے ہیں۔ ایک غریب آدمی جو پورا سال دو وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد کرتا ہے، اس کے لیے سب سے بڑی فکر سحر و افطار کا انتظام بن جاتی ہے۔ وہ مہینہ جو صبر، ایثار اور ہمدردی کا درس دیتا ہے، اسی میں خودغرضی اور منافع خوری اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔

کھجور، جو سنتِ نبوی ﷺ ہے اور افطار کا لازمی حصہ سمجھی جاتی ہے، اچانک عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہے۔ پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں چاند نظر آتے ہی دوگنی ہو جاتی ہیں۔ آٹا، چینی اور دیگر اشیائے ضروریہ بھی مہنگی کر دی جاتی ہیں۔ اکثر اوقات مصنوعی قلت پیدا کرکے قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ منافع سمیٹا جا سکے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی وہ معاشرہ ہے جو خود کو اسلامی کہتا ہے؟

ہر سال حکومت کی جانب سے پرائس کنٹرول اور گراں فروشوں کے خلاف کارروائی کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ مجسٹریٹس کے چھاپے بھی لگتے ہیں، چند دکانداروں کو جرمانے بھی ہوتے ہیں، مگر مجموعی صورتحال تبدیل نہیں ہوتی۔ بڑے ذخیرہ اندوز اور ہول سیلرز اکثر قانون کی گرفت سے باہر رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام شہری بدستور مہنگائی کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے۔

اسلامی تعلیمات ہمیں دیانت، انصاف اور آسانی پیدا کرنے کا حکم دیتی ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے ذخیرہ اندوزی کی سخت مذمت فرمائی ہے۔ رمضان میں کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا نہ صرف اخلاقی گراوٹ ہے بلکہ روحِ اسلام کے بھی منافی ہے۔ ایک طرف روزہ دار بھوک اور پیاس برداشت کرکے اللہ کی رضا چاہتا ہے اور دوسری طرف کچھ لوگ اسی کی ضرورت کو کمائی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں، یہ کیسا تضاد ہے؟

افسوس کی بات یہ ہے کہ کئی غیر مسلم معاشروں میں مذہبی تہواروں کے موقع پر اشیاء سستی کر دی جاتی ہیں تاکہ عوام کو سہولت ملے، جبکہ ہمارے ہاں رمضان کو کمائی کا خاص موقع سمجھ لیا جاتا ہے۔ ہم برکتوں کی دعا تو کرتے ہیں مگر اپنے اعمال میں برکت پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت نمائشی اقدامات کے بجائے مؤثر اور مستقل پالیسی اپنائے۔ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور قیمتوں کی نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ ساتھ ہی تاجروں کو بھی چاہیے کہ وہ اس مہینے کی حرمت کا خیال رکھتے ہوئے مناسب منافع پر اکتفا کریں۔ عوام کو بھی سادگی اور اعتدال کو اپنانا ہوگا۔

رمضان صرف عبادت کا نہیں بلکہ کردار سازی کا مہینہ ہے۔ اگر ہم نے اس مہینے میں بھی انصاف، ہمدردی اور خوفِ خدا کو جگہ نہ دی تو پھر ہماری عبادات کا مقصد کیا رہ جائے گا؟

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی حقیقی روح سمجھنے اور ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Check Also

Zameer Ka Sipahi

By Asif Masood