Pakistan Ki Maeeshat Ka Asal Imtihan
پاکستان کی معیشت کا اصل امتحان
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے کی سیاست کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان بھی ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں ہر فیصلہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ سفارتی اور دفاعی میدان میں پاکستان نے حالیہ برسوں میں اپنی موجودگی کو مؤثر انداز میں منوایا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی پوزیشن پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہے اور اس کی دفاعی صلاحیتوں کا اعتراف دوست اور دشمن دونوں کرتے نظر آتے ہیں۔
پاکستان کے مخالفین، جن میں بھارت اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ بعض علاقائی پراکسی عناصر بھی شامل ہیں، پاکستان کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اثر و رسوخ سے خائف دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم پاکستان نے عالمی بساط پر اپنے مہرے بڑی احتیاط اور دانشمندی سے چلنے کی کوشش کی ہے۔ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران مؤثر دفاعی ردعمل نے بھی پاکستان کی عسکری صلاحیتوں کو نمایاں کیا اور دنیا بھر میں اس کی دفاعی طاقت کی دھاک بٹھا دی۔
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون ہو یا چین اور امریکہ کے ساتھ متوازن تعلقات، پاکستان نے سفارت کاری میں ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم اور ذمہ دار کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو بھی پاکستان نے برقرار رکھا ہے، جو کہ ایک محتاط اور کامیاب سفارتی حکمت عملی کی مثال ہے۔
لیکن ان تمام سفارتی اور دفاعی کامیابیوں کے باوجود ایک تلخ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے اور وہ ہے پاکستان کی کمزور معاشی صورتحال۔ عالمی دورے، معاہدے اور سفارتی کامیابیاں عوام کے روزمرہ مسائل کو فوری طور پر حل نہیں کر رہیں۔ ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط معیشت کو محدود کر رہی ہیں۔ صنعتوں کی بندش، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور بے روزگاری میں اضافہ عام شہری کی مشکلات میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔
ملازمت پیشہ طبقہ ٹیکسوں کے بھاری بوجھ تلے دب چکا ہے جبکہ تعمیراتی شعبہ، جو بیس سے زائد دیگر شعبوں کا انجن سمجھا جاتا ہے، بھاری ٹیکسوں کے باعث سست روی کا شکار ہے۔ نتیجتاً سرمایہ کاروں کا اعتماد کمزور ہوا ہے اور صنعت کار اپنے کاروبار دوسرے ملکوں میں منتقل کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اپنا مستقبل بیرون ملک تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ معیشت نے معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کر رکھا ہے۔
ایسی صورتحال میں وزیر اعظم شہباز شریف کے سامنے ایک بڑا امتحان کھڑا ہے۔ وہ کاروباری اور انتظامی تجربہ رکھتے ہیں اور صنعتی پس منظر بھی رکھتے ہیں۔ اپنے والد میاں محمد شریف سے حاصل کی گئی تربیت اور طویل کاروباری تجربہ انہیں معاشی معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ معیشت کو سنبھالنے کے لیے کوئی بڑا اور مؤثر قدم اٹھائیں گے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ تاریخ میں اکثر حکومتوں کے عروج و زوال کا فیصلہ معیشت ہی کرتی ہے۔ اگر معیشت مضبوط ہو تو سیاسی استحکام بھی قائم رہتا ہے، لیکن اگر معاشی بحران گہرا ہو جائے تو حکومتوں کی بنیادیں بھی ہلنے لگتی ہیں۔
پاکستان کے لیے مضبوط دفاع کے ساتھ ساتھ مضبوط معیشت بھی ناگزیر ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ سوویت یونین جیسی بڑی عسکری طاقت بھی معاشی کمزوری کے باعث بکھر گئی تھی۔ اس لیے دفاعی طاقت کو برقرار رکھنے اور فوج کو جدید تقاضوں کے مطابق مضبوط بنانے کے لیے ایک مستحکم معیشت بنیادی شرط ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کو دوبارہ اقتدار ملنے کی ایک بڑی وجہ بھی یہی تھی کہ اس جماعت کو معاشی استحکام کے حوالے سے تجربہ کار سمجھا جاتا ہے۔ توقع تھی کہ نواز شریف، شہباز شریف اور اسحاق ڈار کی قیادت میں معیشت کو ایک بار پھر مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے گا۔ اگرچہ کچھ حد تک استحکام ضرور آیا ہے اور ڈالر کی قیمت کو بھی قابو میں رکھا گیا ہے، لیکن ابھی تک وہ بڑی معاشی تبدیلی سامنے نہیں آ سکی جس کی عوام کو توقع تھی۔
شہباز حکومت کو اقتدار میں آئے دو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اگر اس سے پہلے کے سیاسی دور کو بھی شامل کیا جائے تو یہ مدت تقریباً تین سال تک پہنچ جاتی ہے۔ ایسے میں یہ سوال فطری طور پر اٹھتا ہے کہ کیا اب وہ فیصلہ کن لمحہ نہیں آ گیا جب معیشت میں واضح اور مثبت تبدیلی نظر آنی چاہیے؟
عوام طویل عرصے سے مہنگائی اور معاشی مشکلات کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اگر انہیں حقیقی ریلیف ملا اور معیشت میں واضح بہتری آئی تو حکومت کو کامیاب قرار دیا جائے گا۔ لیکن اگر حالات جوں کے توں رہے تو یہ امیدیں مایوسی میں بھی بدل سکتی ہیں۔
آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا وزیر اعظم شہباز شریف اس فیصلہ کن لمحے کو پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے ایک نئے موقع میں بدل پاتے ہیں یا نہیں۔ کیونکہ مضبوط دفاع کے ساتھ ایک مضبوط معیشت ہی کسی بھی قوم کی اصل طاقت ہوتی ہے۔

