Tuesday, 24 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Hosla Afzai Ya Hosla Shikni?

Hosla Afzai Ya Hosla Shikni?

حوصلہ افزائی یا حوصلہ شکنی؟

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ایک جملہ کسی بچے کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے؟"تم سے نہیں ہوگا" اور "تم کر سکتے ہو"، یہ دونوں صرف الفاظ نہیں بلکہ دو مختلف راستے ہیں۔ ایک راستہ اعتماد کو جنم دیتا ہے، جبکہ دوسرا خوابوں کا گلا گھونٹ دیتا ہے۔

آج کے دور میں اکثر یہ بات طنزیہ انداز میں کہی جاتی ہے کہ "آج کل کے ماں باپ اپنے بچوں کے عاشق بن گئے ہیں، ہر بات پر تعریف، ہر چھوٹی کوشش پر واہ واہ!" مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ رویہ غلط ہے، یا ہم ایک اہم حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ بچوں کی تعریف کرنا ان کی شخصیت سازی کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ جب ایک بچہ اپنی چھوٹی سی کامیابی پر بھی سراہا جاتا ہے تو اس کے اندر خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی کوشش کی قدر کی جا رہی ہے اور یہی احساس اسے مزید بہتر کرنے کی طرف مائل کرتا ہے۔ تعریف محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا جذبہ ہے جو بچے کے اندر آگے بڑھنے کی خواہش کو زندہ رکھتا ہے۔

یہی بات ہمیں ایک مشہور کہانی سے بھی سمجھ آتی ہے۔ ایک مینڈک گہرے گڑھے میں گر گیا اور باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگا۔ اوپر کھڑے دوسرے مینڈک چیخ چیخ کر کچھ کہہ رہے تھے۔ وہ بار بار کوشش کرتا رہا اور آخرکار ایک لمبی چھلانگ لگا کر باہر نکل آیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ مینڈک بہرا تھا۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ سب اس کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں وہ اسے مایوس کر رہے تھے کہ "تم سے نہیں ہوگا، یہ گڑھا بہت گہرا ہے"۔

یہ کہانی دراصل ہماری زندگی کا عکس ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ صرف اس لیے کامیاب ہو جاتے ہیں کیونکہ ہمیں کسی نہ کسی کا یقین حاصل ہوتا ہے۔ اکثر یہ یقین ہمیں اپنے والدین کی آنکھوں میں نظر آتا ہے، ان کے الفاظ میں محسوس ہوتا ہے اور ان کی دعاؤں میں سنائی دیتا ہے۔

والدین اور بہن بھائی اکثر وہ واحد لوگ ہوتے ہیں جو بغیر کسی شرط کے ہمارا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے کچھ مراحل پر، خاص طور پر شادی کے بعد، بعض افراد کو ایسے لوگ ملتے ہیں جو ساتھ دینے کے بجائے مقابلہ کرنے لگتے ہیں۔ وہ نہ کامیابی پر خوش ہوتے ہیں اور نہ ہی آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ ایسے لوگ دراصل اسی بھیڑ کا حصہ ہوتے ہیں جو گڑھے کے باہر کھڑی ہو کر کہتی ہے: "تم سے نہیں ہوگا، یہ بہت مشکل ہے"۔

وقت کے ساتھ ساتھ یہ منفی آوازیں انسان کے اندر امید کو دبا دیتی ہیں۔ کوشش کرنے کا جذبہ کمزور پڑ جاتا ہے اور خواب دیکھنے کی ہمت ختم ہونے لگتی ہے۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں ایک حوصلہ افزا جملہ کسی کی زندگی بدل سکتا ہے اور ایک مایوس کن بات اسے ہمیشہ کے لیے روک سکتی ہے۔

اسی لیے اگر آپ والدین ہیں تو یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ کے الفاظ آپ کے بچے کی شخصیت کی بنیاد رکھتے ہیں۔ آپ کی ایک تعریف اس کے اندر خود اعتمادی پیدا کر سکتی ہے اور آپ کی ایک حوصلہ افزا بات اسے ناممکن کو ممکن بنانے کا حوصلہ دے سکتی ہے۔

لوگوں کے طنز کو نظر انداز کریں۔ اپنے بچوں کی ناپختہ کوششوں کو سراہیں، ان کی چھوٹی کامیابیوں پر خوشی کا اظہار کریں اور انہیں یہ یقین دلائیں کہ وہ کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ہو سکتا ہے آپ ہی وہ واحد شخص ہوں جو ان کے دل میں امید اور لگن کا چراغ روشن کر رہا ہے۔

یاد رکھیں، بچے الفاظ سے ہی اپنی دنیا بناتے ہیں۔ اگر آپ انہیں حوصلہ دیں گے تو وہ بلندیاں چھوئیں گے اور اگر آپ انہیں شک میں ڈالیں گے تو وہ قدم بڑھانے سے بھی ڈریں گے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ مضبوط بنیاد ہی ایک مضبوط عمارت کی ضمانت ہوتی ہے اور یہ بنیاد تعریف، حوصلہ افزائی اور یقین سے ہی بنتی ہے۔

Check Also

Shohrat Ka Nasha Aur Haqiqat Ki Talash

By Nouman Ali Bhatti