Dunya: Manzil Nahi, Imtehan Hai
دنیا: منزل نہیں، امتحان ہے
انسان کی زندگی ایک عجیب سفر ہے۔ اس سفر میں انسان کو بے شمار نعمتیں، آسائشیں اور خواہشات ملتی ہیں جو بظاہر اسے یہی احساس دلاتی ہیں کہ شاید یہی دنیا اس کی اصل منزل ہے۔ لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ معروف اسلامی مفکر ڈاکٹر اسرار احمد نے بڑی خوبصورت بات کہی تھی کہ "دنیا تمہاری اصل منزل نہیں، بلکہ امتحان کا میدان ہے۔ اللہ نے تمہاری ضروریات کے لیے اس میں چیزیں رکھی ہیں، مگر اسے اپنا سب کچھ نہ بناؤ۔ دنیا کشتی کی طرح ہے، جب صحیح چلتی ہے تو سکون ملتا ہے، لیکن پانی آ جائے تو تباہی ہے"۔
قرآن مجید بار بار انسان کو یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے۔ یہ ایک امتحان ہے جس میں انسان کے کردار، صبر، شکر اور نیت کو پرکھا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں انسان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بے شمار وسائل پیدا کیے ہیں۔ زمین کی زرخیزی، پانی کی فراوانی، رزق کے مختلف ذرائع اور زندگی کی سہولتیں دراصل اللہ کی نعمتیں ہیں تاکہ انسان سکون سے زندگی گزار سکے۔ مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان ان نعمتوں کو مقصدِ حیات بنا لیتا ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد دنیا کو کشتی سے تشبیہ دیتے ہیں۔ کشتی اس وقت تک فائدہ دیتی ہے جب تک وہ پانی کے اوپر رہتی ہے اور انسان کو منزل تک پہنچانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ لیکن اگر وہی پانی کشتی کے اندر آ جائے تو کشتی ڈوب جاتی ہے۔ یہی حال دنیا کا ہے۔ اگر دنیا انسان کے ہاتھ میں رہے تو وہ زندگی کو آسان بناتی ہے، لیکن اگر دنیا انسان کے دل میں گھر کر لے تو وہی دنیا انسان کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے۔
آج کا انسان اسی غلطی کا شکار نظر آتا ہے۔ دولت، شہرت، طاقت اور آسائش کی دوڑ میں انسان اس قدر آگے نکل چکا ہے کہ وہ زندگی کے اصل مقصد کو بھول بیٹھا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مال کمانا اور دنیاوی کامیابیاں حاصل کرنا ہی کامیابی ہے، حالانکہ اسلام انسان کو ایک متوازن زندگی کی تعلیم دیتا ہے۔ دنیا کو چھوڑنے کا نہیں بلکہ اسے صحیح جگہ دینے کا درس دیتا ہے۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کو نہ بھولے۔ وہ رزق کمائے مگر حلال طریقے سے، وہ ترقی کرے مگر انصاف اور دیانت کے ساتھ اور وہ نعمتوں سے فائدہ اٹھائے مگر اللہ کی شکرگزاری کو ہمیشہ یاد رکھے۔ جب انسان اس توازن کو برقرار رکھتا ہے تو دنیا اس کے لیے رحمت بن جاتی ہے، لیکن جب وہ دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ لیتا ہے تو یہی دنیا اس کے لیے آزمائش اور گمراہی کا سبب بن جاتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لیں۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم دنیا کے مسافر ہیں یا اس کے اسیر؟ اگر ہم مسافر بن کر جئیں تو دنیا کا ہر لمحہ ہمیں آخرت کی طرف لے جائے گا۔ لیکن اگر ہم اس کے اسیر بن گئے تو یہ چمکتی ہوئی دنیا ہمیں ہمارے اصل مقصد سے دور کر دے گی۔
حقیقت یہی ہے کہ دنیا ایک راستہ ہے، منزل نہیں۔ عقل مند وہی ہے جو اس راستے سے گزرتے ہوئے اپنی اصل منزل یعنی آخرت کی کامیابی کو نہ بھولے۔

