Monday, 13 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Degree, Tajurba Aur Dhoka: Kursi Aur Taqat Ka Khel

Degree, Tajurba Aur Dhoka: Kursi Aur Taqat Ka Khel

ڈگری، تجربہ اور دھوکہ: کرسی اور طاقت کا کھیل

"پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب"، یہ محاورہ ہم نے برسوں سے سنا، مگر آج کے حالات میں اس کا مفہوم بدلتا دکھائی دیتا ہے۔ اب یہ جملہ محض تعلیم کی اہمیت نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس معاشرے میں اصل طاقت کس کے پاس ہے۔

حال ہی میں ایک کہانی زیرِ گردش رہی جس میں ہانگ کانگ کے ایک بینک میں ہونے والی ڈکیتی کو بیان کیا گیا۔ بظاہر یہ ایک عام واردات تھی، مگر اس کے اندر چھپی حقیقت ہمارے سماجی، معاشی اور اخلاقی نظام پر ایک گہرا سوالیہ نشان چھوڑ جاتی ہے۔

ڈاکوؤں نے بینک میں داخل ہو کر لوگوں کو صرف ایک جملہ کہا: "یہ پیسہ حکومت کا ہے، تمہاری زندگی تمہاری ہے"۔

یہ الفاظ سن کر سب نے مزاحمت چھوڑ دی۔ یہ منظر اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جہاں عوام کو یہ یقین دلا دیا جاتا ہے کہ طاقتور نظام کے سامنے مزاحمت بے معنی ہے۔

ڈکیتی کے دوران ایک اور پہلو سامنے آیا جب ایک خاتون کے غیر متوقع ردعمل پر ڈاکو نے اسے "مہذب" رہنے کی تلقین کی۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آج کے دور میں جرم بھی ایک "پیشہ" بن چکا ہے، جس کے اپنے اصول اور حدود مقرر ہیں۔

تاہم اس کہانی کا سب سے اہم حصہ وہ ہے جو ڈکیتی کے بعد شروع ہوتا ہے۔

جب ڈاکو چلے جاتے ہیں، تو بینک کے اندر موجود اعلیٰ افسران موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بڑی مالی بدعنوانی کو چھپانے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ وہ ایک چھوٹی واردات کو بڑے نقصان میں تبدیل کرکے اپنے سابقہ غبن کو چھپا لیتے ہیں۔ یوں اصل نقصان ڈاکوؤں سے زیادہ انہی "معزز" افراد کے ہاتھوں ہوتا ہے۔

اگلے دن میڈیا رپورٹ کرتا ہے کہ 100 ملین ڈالر لوٹے گئے، جبکہ حقیقت میں ڈاکو صرف 20 ملین لے جا سکے تھے۔ باقی رقم نظام کے اندر ہی "غائب" ہو چکی تھی۔

یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: اصل ڈاکو کون ہے؟ وہ جو ہتھیار لے کر آیا، یا وہ جو اختیار اور عہدے کی طاقت سے کروڑوں کا کھیل کھیل گیا؟

یہ کہانی کسی ایک ملک تک محدود نہیں۔ اگر ہم اپنے معاشرے، خاص طور پر پاکستان، پر نظر ڈالیں تو ایک ملتی جلتی تصویر سامنے آتی ہے۔ چھوٹے جرائم پر فوری ردعمل آتا ہے، میڈیا میں شور مچتا ہے، مگر بڑے پیمانے پر ہونے والی مالی بدعنوانیوں پر اکثر خاموشی چھا جاتی ہے۔

ہمارا نظام بظاہر قانون اور انصاف پر قائم ہے، مگر عملی طور پر طاقت اور اثر و رسوخ فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام آدمی کے لیے انصاف کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ بااثر افراد بآسانی احتساب سے بچ نکلتے ہیں۔

اس صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان اعتماد کا ہوتا ہے۔ جب عوام کو یہ محسوس ہو کہ قانون سب کے لیے برابر نہیں، تو معاشرتی بنیادیں کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مسئلہ صرف جرائم کا نہیں، بلکہ اس نظام کا ہے جو بعض جرائم کو چھپاتا اور بعض کو نمایاں کرتا ہے۔ جب تک احتساب کا عمل شفاف اور بلاامتیاز نہیں ہوگا، تب تک ایسی کہانیاں حقیقت کا روپ دھارتی رہیں گی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم صرف ظاہری جرائم پر نہیں بلکہ نظام کے اندر چھپے "خاموش جرائم" پر بھی توجہ دیں۔ کیونکہ اصل ڈکیتی اکثر وہاں ہوتی ہے، جہاں شور نہیں ہوتا۔

Check Also

Russian Zuban Seekhna

By Ashfaq Inayat Kahlon