Walid: Muhabbat, Qurbani Aur Azmat Ki Alamat
والد: محبت، قربانی اور عظمت کی علامت

جون کا تیسرا اتوار والد سے محبت کے اظہار کے طور پر منایا جاتا ہے اس دن دنیا بھر میں خصوصی تقریبات منعقد ہوتی ہیں جس میں بچے اپنے والد سے محبت کے اظہار کا نہ صرف برملا اعادہ کرتے ہیں بلکہ انہیں تحفے بھی پیش کئے جاتے ہیں۔ یہ دن دراصل اس عظیم ہستی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے جس کی محبت، قربانی، محنت اور شفقت کی بدولت نسلیں پروان چڑھتی ہیں اور معاشرے ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں۔ بیسویں صدی کے اوائل میں امریکہ میں "مدرز ڈے" کی کامیابی کے بعد والد کی عظمت اور خدمات کو تسلیم کرنے کے لیے فادر ڈے منانے کی روایت کا آغاز ہوا۔ بعدازاں 1964ء میں امریکی صدر لنڈن جانسن نے جون کے تیسرے اتوار کو فادر ڈے کے طور پر منانے کا باقاعدہ سرکاری طورپر اعلان کیا، جس کے بعد یہ دن دنیا کے 60 سےزائد ممالک میں باقاعدگی سے منایا جانے لگا۔
اگرچہ مغربی دنیا میں والد کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ایک مخصوص دن مختص کیا گیا، لیکن اسلام نے چودہ سو سال قبل ہی والدین، خصوصاً والد کے مقام و مرتبے کو واضح انداز میں بیان کر دیا تھا۔ اسلامی تعلیمات میں والدین کی اطاعت، احترام اور خدمت کو عبادت کا درجہ حاصل ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبوی ﷺ میں والدین کے حقوق اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی بے شمار تاکیدات موجود ہیں، جو اس حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ والد کی عظمت کسی ایک دن کی محتاج نہیں بلکہ زندگی بھر اس کے احسانات کا اعتراف بھی کم ہے۔
والد دراصل خاندان کی وہ مضبوط دیوار ہے جس کے سہارے گھر کی چھت قائم رہتی ہے۔ وہ ایک تناور درخت کی مانند ہوتا ہے جو خود دھوپ، آندھی، طوفان اور موسم کی سختیاں برداشت کرتا ہے لیکن اپنی اولاد کو سایہ فراہم کرتا ہے۔ بچے جب سکون سے سوتے ہیں، تعلیم حاصل کرتے ہیں، کھیلتے کودتے ہیں اور اپنے مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں تو ان خوابوں کی تعبیر کے پیچھے اکثر ایک باپ کی بے شمار قربانیاں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ ایک باپ صبح سویرے گھر سے نکلتا ہے اور شام ڈھلے واپس لوٹتا ہے۔ تپتی دھوپ، سخت گرمی، کاروباری مشکلات، معاشی دباؤ اور زندگی کی بے شمار آزمائشیں اس کے راستے میں حائل ہوتی ہیں، لیکن وہ اپنے بچوں کی خوشیوں کے لیے ہر تکلیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اس کی اولاد بہتر تعلیم حاصل کرے، اچھے اخلاق کی حامل بنے اور معاشرے میں عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارے۔
والد کی محبت اکثر خاموش ہوتی ہے۔ وہ ماں کی طرح جذبات کا کھل کر اظہار نہیں کرتا، مگر اس کی ہر فکر، ہر جدوجہد اور ہر قربانی اولاد کے لیے ہوتی ہے۔ وہ اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ دیتا ہے تاکہ بچوں کی ضروریات پوری ہو سکیں۔ اپنی آسائشیں قربان کر دیتا ہے تاکہ اولاد کو بہتر مستقبل میسر آ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی کے کئی مراحل میں انسان کو احساس ہوتا ہے کہ والد کی محبت الفاظ سے کہیں زیادہ گہری اور عملی ہوتی ہے۔
آج بھی جب ماضی کے دریچے کھلتے ہیں تو اپنے والد محترم کی بے مثال قربانیاں یاد آتی ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ سعودی عرب میں محنت و مشقت کرتے ہوئے گزارا۔ اس وقت ہم بچپن کی معصوم دنیا میں کھیل کود اور تعلیم میں مصروف تھے، لیکن ہمیں اس بات کا ادراک نہ تھا کہ ہمارے سکون اور خوشیوں کے پیچھے ایک باپ کی کتنی جدوجہد پوشیدہ ہے۔ وہ وطن سے دور رہے، اپنوں کی محبت سے محروم رہے، مگر ہماری ضروریات اور خوشیوں کو کبھی نظرانداز نہیں کیا۔ ان کی محنت، شفقت اور بہترین تربیت ہی کا نتیجہ ہے کہ آج ہم جس مقام پر کھڑے ہیں، اس میں ان کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
والد صرف رزق کمانے والا فرد نہیں ہوتا بلکہ وہ اولاد کا بہترین معلم، مخلص راہنما اور زندگی کے نشیب و فراز میں مضبوط سہارا بھی ہوتا ہے۔ اس کی نصیحتیں وقت گزرنے کے ساتھ انسان کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہیں۔ اس کی دعائیں اولاد کے لیے کامیابی کے دروازے کھولتی ہیں اور اس کی تربیت شخصیت کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
فادر ڈے کا اصل پیغام صرف تحائف اور رسمی مبارک باد پیش کرنا نہیں بلکہ والد کی خدمات کا اعتراف کرنا، ان کے احترام کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا اور ان کی خدمت کو سعادت سمجھنا ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے والدین حیات ہیں اور وہ ان کی خدمت کا شرف حاصل کر رہے ہیں اور وہ لوگ جن کے والد اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، ان کے لیے بہترین تحفہ دعا، ایصالِ ثواب اور ان کے مشن و تعلیمات کو آگے بڑھانا ہے۔
آج جب دنیا بھر میں فادر ڈے منایا جا رہا ہے تو ہمارے دل بھی اپنے مرحوم والد کی یادوں سے بھر جاتے ہیں۔ ان کی محبت، شفقت، قربانیوں اور جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے ہم بارگاہِ الٰہی میں دستِ دعا بلند کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان پر اپنی بے پایاں رحمتیں نازل فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ہمیں ان کے لیے بہترین صدقۂ جاریہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔

