Pyasa Karachi, Karbala Ka Manzar
پیاسا کراچی، کربلا کا منظر

خالقِ کائنات نے پانی کو کسی خاص طبقے، رنگ یا نسل کے لئے نہیں بلکہ اسے ہر ذی روح کے لیے عظیم نعمت اور ناگزیر قرار دیا ہے کسی ریاست کی بنیادی ترین کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو پینے کا صاف پانی کس حد تک فراہم کر پا رہی ہے۔ لیکن جب ہم پاکستان کے سب سے بڑے شہر، ملکی معیشت کے دھڑکتے ہوئے دل اور روشنیوں کے شہر کراچی کی طرف دیکھتے ہیں، تو ایک پیاسے شہر کا نوحہ ہمیں خون کے آنسو رُلاتا ہے۔ کراچی، جو پورے ملک کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہے، جو قومی خزانے کو ستر فیصد سے زائد ریونیو کما کر دیتا ہے، آج خود بوند بوند کو ترس رہا ہے۔ یہ ایک المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ جو شہر پورے ملک کی پیاس بجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کے اپنے باسیوں کے حلق خشک ہیں کراچی میں پانی کا بحران ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ یہ انسانی حقوق کی ایک ایسی سنگین پامالی بن چکا ہے جس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔
شہرِ قائد میں پانی کی فراہمی کا موجودہ نظام کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے۔۔ ایک طرف شہر کے چند مراعات یافتہ علاقے ایسے ہیں جہاں پانی کی فراوانی اس حد تک ہے کہ سڑکوں پر بہتا ہوا پانی ضائع ہوتا دکھائی دیتا ہے، تو دوسری طرف اسی شہر کا ایک بہت بڑا حصہ ایسا ہے جہاں ہفتوں اور مہینوں نلکوں میں پانی نہیں آتا۔ مسئلہ پانی کی کمی کا نہیں، بلکہ منصفانہ تقسیم کا ہے۔ کراچی کا شہری پہلے ہی مسائل کے ایسے چنگل میں پھنسا ہوا ہے جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ تباہ حال سڑکیں، گیس کی نایابی، بجلی کی اعصاب شکن لوڈشیڈنگ اور صحت و تعلیم کی ناگفتہ بہ صورتحال نے پہلے ہی جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ ان سب پر مستزاد، پانی کی یہ قلت شہریوں کے زخموں پر نمک پاشی کا کام کرتی ہے۔ خاص طور پر جب تپتی ہوئی گرمی کا موسم آتا ہے، تو یہ بحران ایک بدترین انسانی المیے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
اس بحران کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ حب ڈیم، جو کراچی اور بلوچستان کے ایک بڑے حصے کو پانی فراہم کرنے کا بڑا ذریعہ ہے، جب بارشوں کے بعد اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ بھر بھی جاتا ہے، تب بھی عام شہریوں کی تقدیر نہیں بدلتی۔ اس سے شہریوں کو کوئی فائدہ نہیں ملتا منگھوپیر، پختون آباد، سلطان آباد، ایم پی آر کالونی، قصبہ کالونی، محمد پور، فرنٹیئر کالونی، مومن آباد، نارتھ کراچی، نیو کراچی اور سرجانی جیسے بے شمار علاقے حب ڈیم کی مرکزی سپلائی لائنوں کے بالکل ساتھ واقع ہیں، لیکن ان کے نصیب میں صرف پیاس ہے۔ یہ محرومی چند روز یا چند سال پرانی نہیں، بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ایک ایسا عذاب ہے جو نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔
جب ریاست اپنی بنیادی ترین ذمہ داری سے منہ موڑ لیتی ہے، تو وہاں 'مافیا' جنم لیتا ہے۔ کراچی میں بھی یہی ہوا ہے۔ سرکاری لائنوں میں پانی آئے نہ آئے، لیکن ہائیڈرینٹس پر پانی کا چشمہ کبھی خشک نہیں ہوتا۔ غریب اور متوسط طبقے کے لوگ، جن کی ماہانہ آمدنی کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی مہنگائی کی نذر ہو جاتا ہے، مجبوراً واٹر ٹینکرز خریدنے پر ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں۔ یہ ٹینکرز ان کی مالی بساط پر ایک ایسا بوجھ ہیں جو ان کی کمر توڑ دیتا ہے۔ جو پانی شہریوں کو ان کے گھروں کے نلکوں میں مفت ملنا چاہیے وہ اب ایک مہنگی اوشکل ترین چیزبن گئی ہے۔
دوسری جانب، کے فور منصوبہ جو کئی سالوں سے کراچی کے پانی کے مسئلے کا واحد پائیدار اور طویل مدتی حل قرار دیا جا رہا ہے، اس اہم ترین منصوبے میں ہونے والی مجرمانہ تاخیر نے کروڑوں شہریوں کو مایوسی کے اندھیرے میں دھکیل دیا ہے۔ کراچی جیسے عظیم اور زندہ دل شہر کے باسیوں کے ساتھ یہ سلوک کسی بھی طور منصفانہ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ کراچی صرف ایک شہر نہیں، یہ پاکستان کا معاشی پاور ہاؤس ہے۔ اگر اس شہر کے باشندے زندگی کی بنیادی ترین سہولیات سے محروم رہیں گے، اگر یہاں کا مزدور، تاجر اور عام شہری پانی کی ایک بالٹی کے لیے سڑکوں پر خوار ہوگا، تو اس کا براہِ راست اثر ملکی معیشت اور ترقی پر پڑے گا۔ کراچی بیمار ہوگا تو پورا ملک کمزور ہوگا۔
حکومت اور مقتدر حلقوں کو اب خوابِ غفلت سے جاگنا ہوگا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے پانی کے بحران کو قومی ایمرجنسی قرار دے کر حل کیا جائے۔ ہائیڈرینٹ مافیا کی سرکوبی کی جائے اور پانی کی تقسیم کا ایسا نظام بنایا جائے جس میں غریب اور امیر کا فرق ختم ہو۔ ان علاقوں کو ترجیح بنیادوں پر پانی فراہم کیا جائے جہاں سے مرکزی لائنیں گزرتی ہیں، کیونکہ جغرافیائی اور اخلاقی طور پر پہلا حق ان کا ہے۔ کے فور منصوبے کو تمام تر سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر جنگی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔
پانی کی فراہمی کوئی خیرات نہیں، یہ وہ بنیادی انسانی حق ہے جس کا وعدہ ریاست اپنے شہریوں سے کرتی ہے۔ جب تک کراچی کے یہ بنیادی اور دیرینہ مسائل حل نہیں ہوں گے، اس شہر کی حقیقی رونقیں لوٹیں گی اور نہ ہی ملک کی پائیدار خوشحالی کا خواب کبھی سچا ہو سکے گا۔ حکومت کو عارضی دلاسوں کے بجائے اب عملی اقدامات کا ثبوت دینا ہوگا۔

