Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. 10 May: Aalmi Ufaq Par Pakistan Ki Fatah Ka Din

10 May: Aalmi Ufaq Par Pakistan Ki Fatah Ka Din

دس مئی: عالمی افق پر پاکستان کی فتح کا دن

دس مئی پاکستان کے لیے ایک عظیم، یادگار اور خوش قسمت دن کی حیثیت رکھتا ہے یہ وہ دن ہے جب پاکستان نے اپنے روایتی حریف بھارت کو نہ صرف بھرپور جواب دیا بلکہ اسے ایسا سبق سکھایا جو تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہوگیا۔ پہلگام میں پچیس سیاحوں کی ہلاکت کو جواز بنا کر بھارت نے جب پاکستان پر ایک ظالمانہ اور بزدلانہ حملہ کیاوہ بھی مساجد، مدارس اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنا کرتو اس جارحیت نے پوری قوم کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا۔

اس حملے میں عبادت گاہوں کی شہادت اور معصوم جانوں کا ضیاع ایک ایسا سانحہ تھا جسے نظرانداز کرنا ممکن نہ تھا پوری قوم کی شدید خواہش تھی کہ اس جارحیت کا موثر جواب دیا جائے اور اپنے دفاع کو یقینی بنایا جائے فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے قوم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس بزدلانہ کارروائی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیتے ہوئے دس مئی کی صبح سویرے ایک تاریخی کارروائی انجام دی، جس نے نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا کو حیران کر دیا۔

"معرکۂ حق بنیان مرصوص" کے تحت کیے جانے والے ان فضائی حملوں نے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ پاکستان کی مسلح افواج نے غیر معمولی مہارت، حکمتِ عملی اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اور دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

اس آپریشن کے دوران بھارتی فوجی ڈھانچے کو انتہائی منظم انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان نے ابتدائی مرحلے میں میزائل حملوں کے ذریعے دشمن کے دفاعی نظام کو مفلوج کیا، جس کے بعد فضائی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ بھارت کے جن اہم فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، ان میں آدم پور، ادھم پور، پٹھان کوٹ، سورت گڑھ، ماموں، اکھنور، جموں، سرسہ اور برنالہ کی ایئر بیسز اور ایئر فیلڈز شامل تھیں، جنہیں شدید نقصان پہنچایا گیا۔ ان تنصیبات میں ایئر فیلڈ سپلائی ڈپو اور پاور ایئر فیلڈ بھی شامل تھے، جو مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔

اسی طرح بیاس کے علاقے میں واقع براہموس میزائل اسٹوریج سائٹ کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، جس سے دشمن کی میزائل صلاحیت کو بڑا دھچکا پہنچا۔ آدم پور میں جدید ایس-400 ایئر ڈیفنس سسٹم کو بھی غیر مؤثر بنا دیا گیا، جس کی مالیت اربوں ڈالر بتائی جاتی ہے۔ یہ اقدام دشمن کے دفاعی حصار کو توڑنے میں فیصلہ کن ثابت ہوا۔ مقبوضہ کشمیر کے نوشہرہ کے علاقے میں بھارتی ملٹری انٹیلی جنس کے تربیتی مرکز کو تباہ کیا گیا، جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر تتانوائی پوسٹ، دھنہ پوسٹ، خواجہ بھیک کمپلیکس، رنگ کنٹرول سنٹر، ماقبلہ سنکھ، گورچ نوری، شاہ میر 3 اور غنڈر ٹاپ جیسے اہم عسکری مقامات کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں دشمن کی دفاعی پوزیشن کمزور ہوگئی اور اس کی جارحانہ صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی۔

پاکستانی فضائیہ کے جے ایف-17 تھنڈر طیاروں نے اس معرکے میں مرکزی کردار ادا کیا اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا بھرپور مظاہرہ کیا، جبکہ جدید میزائل نظام نے ہدف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا۔ ان تمام اقدامات نے مل کر دشمن کو مکمل دفاعی دباؤ میں لا کھڑا کیا۔ اس صورتحال سے گھبرا کر بھارت نے بالآخر پسپائی اختیار کی اورٹرمپ سرکارکےزریعے جنگ بندی کی درخواست کی۔ پاکستان نے اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے واضح پیغام دیا کہ اگر آئندہ کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا جواب پہلے سے بھی زیادہ سخت ہوگا۔

اس کامیابی نے عالمی سطح پرنہ صرف پاکستان کا وقار بلند کیا بلکہ دنیا بھر میں اس کی عسکری صلاحیتوں کو ایک نئے زاویے سے دیکھا جانے لگا۔ خاص طور پر جے ایف-17 تھنڈر کی کارکردگی نے بین الاقوامی توجہ حاصل کی، جس کے نتیجے میں کئی ممالک جن میں انڈونیشیا، ازبکستان، عراق، لیبیا، بنگلہ دیش، ترکی، سعودی عرب اور آذربائیجان شامل ہیں نے اس طیارے میں دلچسپی ظاہر کی۔ یہ پیش رفت نہ صرف دفاعی میدان میں پاکستان کی کامیابی کا مظہر ہے بلکہ معیشت کے لیے بھی ایک مثبت اشارہ ہے۔ توقع کی جا سکتی ہے کہ اس کامیابی کے اثرات مستقبل قریب میں ملکی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے اور عوام اس کے ثمرات سے مستفید ہوں گے۔

دس مئی کی اس تاریخی کامیابی کا سہرا پاکستان کی مسلح افواج، خصوصاً پاک فضائیہ اور ان کی دلیر و محب وطن قیادت کو جاتا ہے۔ ان کی جرات مندانہ حکمت عملی اور غیر متزلزل عزم نے دشمن کو ایک واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس یادگار دن کو قومی سطح پر بھرپور انداز میں منایا جائے۔ اسے نہ صرف سرکاری تعطیل قرار دیا جائے بلکہ ملک بھر میں سرکاری و نجی سطح پر تقریبات کا انعقاد بھی کیا جائے، تاکہ نئی نسل کو اس تاریخی کامیابی سے آگاہ کیا جا سکے۔

یہ دن صرف عسکری فتح نہیں بلکہ قومی وحدت، خوداعتمادی اور عزم کی علامت ہے۔ اس کی یاد کو زندہ رکھنا اور ہر سال اس کا اعادہ کرنا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ پاکستان کی عالمی عزت و وقار ہمیشہ قائم و دائم رہے۔ اگرچہ پنجاب حکومت نے اس حوالے سے تین روزہ تقریبات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے، تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاقی سطح پر اسے باقاعدہ قومی دن کا درجہ دیا جائے، تاکہ اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا جا سکے۔ دس مئی ایک پیغام ہےعزم، اتحاد اور دفاعِ وطن کے غیر متزلزل عہد کا اس دن کو خوشی کےدن کے طور پر منایا جائے۔

Check Also

Dehshat Gardon Ki Muzammat Ghair Mashroot Karen

By Amir Khakwani