Thursday, 03 April 2025
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mumtaz Hussain
  4. Kharmang Ke Aasar e Qadeema (2)

Kharmang Ke Aasar e Qadeema (2)

کھرمنگ کے آثار قدیمہ (2)

وزیر پی کھر غندوس

صدیوں سال پہلے وزیر احمد علی کا بنایا ہوا محل جو وزیر پی کھر یعنی وزیر محل غندوس کے نام سے مشہور ہے اپنوں کی بے رخی اور محکمہ آثار قدیمہ و سیاحت کی بے توجہی پہ نوحہ کناں آج بھی ایستادہ اپنے مالکین کی شان و شوکت بیان کر رہا، غریب گھرانے میں آنکھ کھولنے والا احمد علی نے اپنی ذہانت و قابلیت کے بل بوتے پر والئی کرتخشہ کے دربار میں خاص مقام حاصل کیا اور وزیر خاص کے عہدے پر فائز رہے۔

دوران وزارت انہوں نے اپنی رہایش کے لیے یہ محل تعمیر کیا، اگرچہ محل کے کسی دروازے یا دیوار پہ تعمیر کا سال درج نہیں لیکن قیاس یہی کیا جاتا ہے کہ سقوط بلتستان (1840) کے بعد کا بنا ہوا، کیونکہ قابض ڈوگروں نے بلتستان کے راجاؤں کو دفاعی نقطہ نظر سے اہمیت رکھنے والے قلعوں جو اونچے ٹیلوں پہ بنا ہوا تھا سے نکال کے عام محلوں میں گھر یا محل بنانے کا حکم دیا تھا جس کی وجہ سے راجہ علی شیر خان نے محلہ سادات بیامہ میں لب دریا اپنے لیے محل بنا لیا تھا جس کے لیے کاریگر کشمیر سے لایا تھا انہی کاریگروں نے اس محل کو بھی تعمیر کیا۔

وزیر احمد علی جو بعد میں وزیر اخمالی کے نام سے مشہور ہوا یتیم پیدا ہوا اور بدقسمتی سے اس کی ماں بھی اسے جنم دے کر مر گئی، ایک شخص نے کمرے میں عجیب منظر دیکھا کہ نوزائیدہ بچہ اپنی ماں کی چھاتیوں سے لپٹا ہوا اس سے دودھ پی رہا جب کہ اس کی ماں اسے جنم دے کے دنیا سے روٹھ چکی ہے، بہر حال بچے کو گاؤں کے ایک متمول گھرانے نے پالنا شروع کیا، یہ بچہ ذرا بڑا ہوا اور ایک دن اس کی مالکن نے دیکھا کہ لڑکا سویا ہوا اور اس کے ماتھے سے عجیب سی روشنی پھوٹ رہی، مالکن نے فوراً گھر کے سربراہ کو بلا کے یہ منظر دکھایا، مالک نے اسے اپنے لئے برا شگون سمجھا اور کہا یہ بچہ میرے لیے مستقبل میں خطرہ ثابت ہوگا لہٰذا اسے گاؤں بدر کردو، کچھ دن وہ بچہ گاؤں سے باہر کسی کے ہاں رہا پھر کسی نے یہ ساری باتیں راجہ کرتخشہ تک پہنچا دی اور والئی کرتخشہ نے اس کی پرورش کی ذمہ داری اٹھائی، یوں یہ بچہ راجہ کے محل میں پرورش پانے لگا۔

جی ہاں اسی بچے نے وزیر بننے کے بعد یہ محل بنوائی، آپ غور کریں تو بلتستان بھر میں وزیروں کے محل دو منزلہ ہوتے تھے جب کہ وزیر اخمالی کا محل تین منزلہ ہے جس کے پہلی منزل میں اصطبل سمیت آٹھ کمرے، دوسری میں دو جھروکوں کے علاؤہ چھے کمرے اور تیسری منزل میں چھہ کمرے تھے، تیسری منزل کے کچھ کمرے افتاد زمانہ کے ہاتھوں مٹ چکے باقی کمرے اچھی حالت میں موجود ہیں۔ وزیر اخمالی کافی زیرک انسان تھا اور جنگوں میں وہ ہراول دستے کا سربراہ اور امن کے دنوں میں دون می (ایڈوانس پارٹی) کا جھنڈا ہمیشہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تھا، غیر معمولی صلاحیت کی بنا پر ان کو اولڈینگ ہرغوسل، سنکرمو اور کندریک میں جائیدادیں الاٹ کی گئیں۔

وزیر اخمالی کے بعد اس کا بیٹا وزیر حیدر اس محل میں مقیم رہا، پھر ان کے بیٹے وزیر فدا حسین اور وزیر عنایت حسین نے بھی اس محل میں سکونت اختیار کی، محل میں ایک خاص کمرہ "رفسل" یعنی مہمان خانہ کے نام سے مشہور تھا جس میں زمانہ قریب تک سرکاری عہدے داروں اور محلے بھر کے خاص مہمانوں کو ٹہرایا جاتا تھا، محل میں ایک جھروکے کی چھت پہ بنے بیل بوٹے اور پرندے آج تک اصلی حالت میں ہے، نہ معلوم کون سا کلر استعمال کیا ہے کہ صدیوں کی مسافت بھی اس کے راہ میں حائل نہیں ہوسکا، اسی کمرے کی دو دیواریں لکڑی کی خوبصورت جالیوں سے مزین ہے جسے موسم کے مطابق بند کیا اور کھولا جا سکتا ہے، لکڑی کی جالیوں پہ کشیدہ کاری دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے، لکڑی کے ٹکڑوں کو بڑی نفاست سے جوڑ کر پنجرہ بنایا ہوا جسے عنکبوت کہا جاتا ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ تاریخی ورثہ مٹ جاے ارباب اختیار کو چاہئیے کہ اس محل کو کسی ادارے کے ذریعے مرمت کروا کے اسے سیاحت کے لیے کھول دے تو زر کثیر کما سکتے ہیں۔

مایوردو غار

مایوردو کھرمنگ میں "اینگوت باہو" کے نام سے ایک غار ہے مگر یہ صرف ایک غار نہیں بلکہ آثار قدیمہ سے دلچسپی رکھنے اور تاریخ پہ تحقیق کرنے والوں کے لیے دلچسپی کا کئی عنوان لئے ہوئے ایک عجوبہ ہے، لوگوں کو اس غار سے قدیم زمانے کے برتن، زیورات، صندوقچے وغیرہ ملے ہیں اور ان چیزوں کی تلاش میں بڑے بڑے پتھروں کو سرکا کے کئی جگہوں سے راستے مسدود کردئیے ہیں۔

آثارِ قدیمہ کے محقق حضرات کے لئے اب بھی یہاں دیکھنے کو بہت کچھ ہیں، غار ایک عجوبہ سے کم نہیں، یہ ایک غار نہیں بلکہ غاروں کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ ہے، غار کے اندر آپ سفر شروع کریں تو کبھی آپ تنگ گھاٹی سے گزریں گے تو کبھی سو ضرب سو فٹ کے ہال میں پہنچیں گے، کبھی جولائی کی گرمی اور حبس آپ محسوس کریں گے تو کبھی جنوری کی سردی، کبھی آپ انسانی ہڈیوں کے اوپر سے ایسے چلیں گے گویا آپ کے پیروں تلے خزاں رسیدہ خشک پتے چر مر کر رہے ہوں تو کبھی آپ کے پیر نرم و گداز بھر بھری مٹی پہ چلیں گے، ایک زلزلے نے غار کا دروازہ ظاہر کیا تھا اور خدشہ ہے کہ کسی ایسے ہی قدرتی آفت کے نتیجے میں غار ہمیشہ کے لئے دب جائے گا۔

چڑیل نما پتھر (راٹھس) ترکتی

بلتستان میں شمع اسلام روشن ہونے سے پہلے بدھ ازم کے پیروکار رہایش پذیر تھے اس دور کے آثار بلتستان بھر میں موجود ہیں جن میں سکردو منٹھل میں موجود بدھاسٹ راک بہت مشہور ہیں تاہم ضلع کھرمنگ کے سرحدی گاؤں ترکتی میں موجود ریچھ نما اس پتھر کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ قدیم کسی مذہب میں اسے بھگوان کا درجہ تھا اور اس ریچھ کی پوجا کرتے تھے۔ اس کے گلے میں باقاعدہ زیورات اور ہاتھوں میں کنگن بھی زمانہ قریب تک دکھائی دیتے تھے۔

دوسری روایت کے مطابق دیومالائی داستان ہلہ فو کیسر سے منسوب اس پتھر کو "رٹھس" یعنی چڑیل کہا جاتا ہے روایت کے مطابق گاوں کے لوگوں نے کیسر کی اطاعت کی تو کیسر کی دشمن چڑیل کو بہت غصہ آیا اور گاؤں والوں کو وارننگ دی کہ اس بادشاہ کی اطاعت ترک کردو یا مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ اس طرح وہ گاوں پر حملہ آور ہوئی دوسری جانب کیسر کی پھوپھی جس کا نام الکرمان بتایا جاتا ہے وہ گاوں کو بچانے آگئی، اسی جگہ دونوں طاقتوں کا مقابلہ ہوا اور بلآخر الکرمان نے جادوئی طاقت سے اس چڑیل کو پتھر کا بنایا جو آج بھی حملے کے انداز میں گاوں کی جانب جھکی ہوئی ہے۔۔

شیس پون پڑی

بلتی میں ایک ضرب المثل ہے "شیس پون لا ہلتاسے زگل چینگ " یعنی شیس پون کے راستوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے لیے سامان کا بندوبست کرو "، احمد آباد (گدخ دو) فوجی چھاونی کے اس پار یہ کٹھن راستہ شیسپون پڑی ہے جو زمانہ قدیم میں کھرمنگ کو کارگل سے ملانے والا واحد راستہ تھا۔

اس کے بارے میں بزرگوں سے مختلف کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔

ایک بدھسٹ جو لداخ سے کھرمنگ بلتستان آنا تھا اسے اپنے مذہبی پیشوا نے سفر سے منع کیا اور کہا اگر تم سکردو کا سفر کروگے تو شیسپون میں تمھاری موت واقع ہوگی۔ اس نے بخیریت پڑی کراس کرنے کے بعد فخریہ انداز میں ایک پتھر پہاڑ کی طرف پھینکا تو وہی پتھر پہاڑ سے ٹکرا کر واپس اس کے سر میں لگا اور وہیں پر اس کی موت واقع ہوگئی۔

پرانے زمانے کے لوگوں میں اتنی ہمت ہوتی تھی کہ ایک شخص نے چار سالہ گائے کو پیٹھ پر اٹھا کر اس پڑی کو کراس کیا ہے۔

وادی کھرمنگ میں دریا کے دونوں اطراف کارگل کو بلتستان سے ملانے والے اس واحد راستے کے آثار اب بھی باقی ہیں۔

مہر زہری ہلچنگرا

لداخ کے بدھسٹ راجہ لاما چوپا کالون نے کھرمنگ کھر پہ حملہ کیا اور کھرمنگ کے راجہ سعادت خان کو قتل کیا اور قلعے پہ قابض ہوئے، سعادت خان نے مرنے سے قبل اپنے دو کمسن بچوں کو باغیچہ کھرمنگ میں اپنے دوست کے ہاں چھپایا جس کا نام علی داد جو تھا۔

علی داد جو نے راجہ کھرمنگ کے ساتھ اپنی دوستی کی لاج رکھی اور وفا کی انتہا کردی، اس نے مقتول راجہ کھرمنگ سعادت خان کے بیٹوں کو فاتح بدھسٹ لاما چوپا کالون سے چھپا لیا، بڑے بیٹے اعظم خان کو گداگر کے روپ میں کرگل روانہ کیا جبکہ چھوٹے بیٹے شاہ نواز کو اپنے گھر میں چھپا کر اپنے حقیقی بیٹے کو شاہ نواز بنا کے فاتح بادشاہ کالون کے سامنے کر دیا جس نے بڑی بیدردی سے اسے قتل کر دیا، یوں علی داد جو نے اپنے بیٹے کی قربانی دے کر والئی کرتخشہ کے ننھے فرزند کو بچا لیا۔۔

جی ہاں جب انٹھوک کھر پہ بدھسٹ راجہ کالون لامہ چو نے قبضہ کیا اور سعادت خان اور اس کے بیٹوں کو قتل کرکے قتل عام شروع کی تو محل میں کہرام مچ گیا، اس خاندان میں ایک پردہ نشین اور تہجد گذار نوجوان لڑکی بھی تھی جس کا نام مہر زہرا بتایا جاتا ہے، مہر زہرا نے جب محل کو بدھسٹ فوجوں کے ہاتھوں یرغمال ہوتے دیکھا تو محل کی چھت پہ چڑھ کے دو رکعت نماز ادا کی اور اپنی عزت و آبرو بچانے کے لیے جان دینے کا فیصلہ کیا، اس نے نماز کے بعد ایک چیخ ماری اور ہزاروں فٹ اونچے ٹیلے سے دریاے سندھ میں چھلانگ لگا دی۔

لوگوں نے اسے ہوا میں اچھلتے تو دیکھا مگر زمین پہ گرتے کسی نے نہیں دیکھا نہ ہی اس کی لاش ملی، کچھ سال بعد جب مقتول راجہ کے بیٹے اعظم خان نے طبیب بن کے اسی محل میں گھس کر اپنے باپ کے قاتلوں کو قتل کرکے محل پر دوبارہ قبضہ کیا اور اپنی حکومت قائم کی تو پرانے دستور کے مطابق دلتت نامی پہاڑی پہ اپنے مصاحبین کیساتھ گئیے تاکہ شدید گرمی کے موسم میں کچھ دن اس پر فضا مقام پر رقص و سرود کی محفل سجا کے گذار لیں، جیسے ہی وہ لوگ اس مخصوص جگے پہ پہنچے جہاں پچھلے دور میں موسیقی کی محفل سجتی تھی، وہاں انہوں نے مہر زہرا کے رونے کی آوازیں سنیں مگر تلاش بسیار کے باوجود اس کا سراغ نہ مل سکا، اس کی سسکیوں کی آوازیں آتی رہیں، پس انہوں نے حکم دیا کہ موسیقی کے بجاے اس ہلچنگرا پر ہر سال مجلس کا اہتمام کریں، وہ دن اور آج کا دن جولائی کے آخری ہفتے میں اہالیان محلہ رومبوخہ یہاں جمع ہوتے ہیں اور ایک مجلس کا اہتمام کرتے ہیں۔ جسے یہ لوگ نظاری ہلچنگری ماتم کہتے ہیں جو کہ درست نہیں، بلکہ اس کا نام مہر زہری ہلچنگرا ہے۔

بزرگ ذاکر اخوند حسین کے بقول جب کبھی راجہ فیملی میں کوی فوتگی ہوتی ہے تو فوتگی سے کچھ دن پہلے مہر زہرا دکھائی دیتی ہے، خود آخوند صاحب نے دو تین دفعہ ان کو محل کے آس پاس دیکھا ہے، ایک مرتبہ تو قریب سے بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا، ان کے بقول وہ خاتون سفید چادر میں خود کو لپیٹ کے گلابی رنگ کی قمیص میں ملبوس تھی، اس نے ملیح اور روشن چہرے کیساتھ مسکرا کر انہیں دیکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہوگئی، اس کے کچھ دن بعد راجہ کھرمنگ کا بھائی محمد صالح خان اور ان کی بیگم ایک ہی دن انتقال کر گئیے۔

توژے مسجد غویس

غویس نامی گاؤں میں ایک ویران جگہ پہ قدیم مسجد بنی ہوئی، جسے توژے مجد یا یتیم کی مسجد کہا جاتا ہے۔ مسجد کے اندر ایک تابوت نما پتھر ہے جو کہ بالکل قبلہ کے رخ پر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی زمانے میں اس گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا جس کی والدہ انتقال کر چکی تھی اور اس کے والد نے دوسری شادی کی تھی اور سوتیلی ماں لڑکے پر ظلم کے پہاڑ توڑتی تھی۔ ایک دفعہ وہ لڑکا بکریاں چرانے گیا ہوا تھا کہ ایک بھیڑ گم ہوگیا۔ وہ بھوکا، تھکا ہارا جب گھر پہنچا اور سوتیلی ماں کو بھیڑ کا پتہ چلا تو طیش میں آگئی اور لڑکے کو کھانا بھی نہ دیا اور دو چار تھپڑ مار کے واپس جا کر بھیڑ کو ڈھونڈنے کا حکم دیا۔

بچہ روتے ہوئے واپس گیا اور ڈھونڈنے لگا جب کافی بھاگ دوڑ کے بعد بھی بھیڑ کا کوئی سراغ نہیں ملا تو وہ مایوس ہوگیا اور اسی جگہ پر جہاں اب یہ مسجد بنی ہے، بیٹھ کر زار و قطار رونے لگا روتے روتے اس پر غش طاری ہوگئی ہے اتنے میں اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کا شانہ ہلاتا ہے۔ اس نے دیکھا کہ سامنے عبا قبا میں ملبوس ایک نورانی چہرے والا شخص ہے جو ایک طرف اشارہ کر رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ تمہارا بھیڑ وہ رہا اسے لو اور گھر جاؤ۔ لڑکا اس شخص کا شکریہ ادا کرتا ہے اور بھیڑ کو لئے خوشی خوشی گھر کی جانب چل پڑتا ہے۔

راستے میں گاؤں کا ایک شخص ملا جو لڑکے کے ساتھ بھیڑ کو دیکھ کر حیران ہوا اور کہنے لگا کہ یہ بھیڑ تمہیں کہاں سے ملا میں نے اپنی آنکھوں سے اسے بھیڑیا کا لقمہ بنتے دیکھا تھا، اس بن ماں کے بچے نے پوری کہانی اسے سنا دی۔ وہ شخص کہنے لگا کہ "مجھے وہ جگہ دکھاؤ جہاں وہ شخص تمہیں ملا تھا" بچے کے ساتھ وہ شخص اس جگہ پہنچا تو دیکھا کہ اس جگہ ایک تابوت نما پتھر پڑا ہوا جو اس سے قبل انہوں نے وہاں نہیں دیکھا تھا۔ کچھ عرصہ بعد اس پتھر کے گرد دیوار اور چھت لگا کر اس جگہ مسجد تعمیر ہوئی اور اس مسجد میں دعا کرنے والوں کی دعائیں قبول ہونے لگیں۔ اس کی ایک کرامت یہ بھی ہے کہ دو بار پہاڑی تودا گرنے کے باوجود یہ اپنی جگہ پر قائم ہے۔ یوں مسجد پہ لوگوں کا عقیدہ مزید مستحکم ہوا۔

آستانہ عالیہ شیخ علی برولمو

پاک بھارت لائن آف کنٹرول پہ واقع یہ مزار نہ صرف پاکستانی افواج کے لئے قابل احترام ہے بلکہ دشمن فوجیں بھی اس کا احترام کرتی ہیں، یہ مزار ہے مرکز عالم با عمل، پیر طریقت حجت الاسلام شیخ علی برولمو کا، علاقے کے لوگوں کے لئے یہ مزار انتہائی متبرک اور مستجاب الدعوات جگہ ہے، مایوس لوگ یہاں سے شادمان لوٹ آتے ہیں۔

مرد عارف شیخ علی برولمو صاحب کشف و کرامات، عالم با عمل اور نابغہ روزگار شخص تھے، آپ کا مزار لائن آف کنٹرول پر عین بارڈر پہ واقع ہے اور نہ صرف پاک آرمی بلکہ انڈین آرمی بھی اس مزار کا احترام کرتے ہیں، بلکہ انڈین آرمی سے منسوب یہ قصہ بھی زبان زدعام ہے کہ کشیدہ حالات میں ایک نقاب پوش گھڑ سوار جو سفید گھوڑے پر سوار ہے وہ پاکستان سائڈ پہ سرحدوں پہ گھومتا دکھائی دیتا ہے، اس کے علاؤہ کسی نے پاک فوج کے جوان کے ہاتھوں پھولوں کی چادر بھیجا تھا جسے مزار پہ چڑھائی مگر صبح وہ چادر مزار سے باہر پڑی ملتی ایسا کئی بار ہوا، اسی طرح یہ واقعی بھی مقامی لوگوں کی زبانی سننے کو ملتا ہے کہ مزار کی تعمیر کے دوران ایک کاریگر ریڈیو پہ غزلیں سنتے ہوے کام کر رہا تھا کہ اچانک ایک ہاتھ نمودار ہوا اور اس ریڈیو کو بند کردیا ہمیشہ کے لیے۔

علاقے کے کچھ بزرگوں کی زبانی ان کی زندگی کے کچھ ناقابل یقین واقعات سننے کو ملتا ہے، مثلآ ایک بزرگ نے کہا کہ وہ بچپن میں کچھ عرصہ شیخ علی برولمو کے مدرسے میں زیر تعلیم رہا، زانسکار سے برولمو کی طرف آتے ہوے طلباء بھوک سے بے حال ہوے تو شیخ مرحوم نے دریاے کرگل کے کنارے دو رکعت نماز ادا کی اور اپنے لاٹھی کو دریا پہ مارا تو سیکڑوں کی تعداد میں مچھلیاں سطح آب پہ نمودار ہوئی جنہیں طلباء نے آرام سے پکڑ کے کھانے کا اہتمام کیا، کھانے کے بعد شیخ مرحوم نے حکم دیا کہ کانٹوں کو دریا میں پھینک دیں اور اس واقعے کا کسی سے ذکر نہ کریں، گانچھے سے تعلق رکھنے والے مشہور روحانی پیشوا بوا فقیر مرحوم نے ان سے کسب فیض حاصل کیا۔

شیخ علی برولمو کا انتقال 10 فروری 1974 کو ہوا اور برولمو گاؤں سے ذرا اوپر ایک میدان میں عین سرحدی لائن پہ آپ کو دفن کیا، مزار جو اسی علاقے میں دربار کے نام سے مشہور ہے ایک بڑا سا چوکور کمرہ ہے، کمرے کے عین وسط میں لوہے کی خوبصورت جالیوں کے اندر مزار ہے، چھت پر قبہ لوہے کا بنا ہوا ہے، ان کی رفیقہ حیات کی قبر بھی اسی کمرے میں ہے، دور دراز سے لوگ ان کے مزار پر حاضری دینے جاتے ہیں اور منتیں مانگتے ہیں۔

Check Also

Ghair Sciency Ilaj Aur Sehat Ke Khatrat

By Nusrat Abbas Dassu