Eid Ul Fitr Ka Azeem Din Zaya Mat Kijye Ga
عید الفطر کا عظیم دن ضائع مت کیجے گا

اس سے ملنا تو اسے عید مبارک کہنا
یہ بھی کہنا کہ مری عید مبارک کر دے
عید الفطر کا دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم انعام ہے، جو رمضان المبارک کے اختتام پر مسلمانوں کو عطا کیا جاتا ہے۔ اس دن کی اہمیت ہمیں قرآن و حدیث سے معلوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ دن شکر گزاری اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے کا ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب عید الفطر کی رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر تجلی فرماتے ہیں اور اہل زمین کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے ہیں: اے میرے بندو! میں نے تمہیں روزے رکھنے اور قیام کرنے کا حکم دیا، تم نے میری اطاعت کی، اب مانگو، جو مانگو گے عطا کیا جائے گا۔
ہمارے اسلاف عید الفطر کے دن کو پورے اہتمام سے مناتے تھے۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد وہ غسل کرتے، بہترین لباس پہنتے، صدقہ فطر ادا کرتے، تکبیرات بلند کرتے اور خوشی و شکرکے جذبات کے ساتھ عیدگاہ روانہ ہوتے۔ عید کی نماز میں جانے سے قبل کچھ میٹھا کھانا، راستے میں تکبیرات پڑھنا، دوسروں کے ساتھ محبت و اخوت کا اظہار کرنا، یہ سب ان کے معمولات میں شامل تھا۔
صحابہ کرامؓ عید الفطر کو نہایت خوشی اور شکر گزاری کے ساتھ مناتے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ فرماتے تھے کہ عید کا دن دراصل اس کے لیے ہے جس کے روزے اور قیام قبول ہو گئے ہوں، نہ کہ صرف نئے کپڑے پہننے کے لیے۔ امام ابن قیمؒ نے فرمایا کہ عید کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ بندہ اللہ کے قریب ہو اور وہی عبادات اور اعمال جو رمضان میں ادا کیے، انہیں عید کے بعد بھی جاری رکھے۔
امام ابن تیمیہؒ نے فرمایا کہ جو شخص عید کے دن اللہ کی حمد و ثناء، تکبیرات اور شکر ادا کرتا ہے، وہی حقیقی خوش نصیب ہے، کیونکہ یہ دن بندگی اور اطاعت کا دن ہے، نہ کہ غفلت اور نافرمانی کا۔
بدقسمتی سے، آج کے دور میں بہت سے لوگ اس مبارک دن کی قدر نہیں کرتے۔ وہ رات دیر تک جاگ کر عید کے دن سوئے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے نمازِ عید بھی قضا ہو جاتی ہے۔ جبکہ یہ دن اللہ کی رحمتوں کے نزول کا دن ہے، جسے غفلت میں گزار دینا انتہائی نقصان دہ ہے۔
یہ دن اللہ کی طرف سے خوشیوں کا پیغام اور رمضان میں کی گئی عبادات کا صلہ ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ عید الفطر کے دن اتنے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے جتنے پورے رمضان میں کیے جاتے ہیں۔
لہٰذا، ہمیں اس دن کو خاص عبادت، شکر اور خوشی کے ساتھ گزارنا چاہیے۔ نمازِ عید کو پورے اہتمام سے ادا کریں، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کریں، اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں اور آئندہ بھی نیکیوں پر قائم رہنے کی دعا کریں۔
عید صرف خوشی کا نام نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے دکھ درد کو بانٹنے اور رشتے داروں کے ساتھ محبت و الفت کا اظہار کرنے کا موقع بھی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہمیں معاف کرے تو ہمیں بھی دوسروں کو معاف کرنا ہوگا۔ حدیث میں ہے کہ رحم کرنے والوں پر رحمان (اللہ) رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔
لہٰذا، ہمیں چاہیے کہ اپنے دلوں کو بغض، حسد اور کینہ سے پاک کریں، اپنے رشتے داروں اور دوستوں سے ملیں، پرانی رنجشیں بھلا کر عید کی خوشیوں میں سب کو شامل کریں اور ساتھ ہی فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کو اپنی دعاؤں میں شامل رکھیں۔
عید کا دن محض کھانے پینے اور سیر و تفریح کے لیے نہیں، بلکہ یہ دن اللہ کے انعامات کو یاد کرنے، شکر ادا کرنے، عبادات کو جاری رکھنے اور اپنے اعمال کا جائزہ لینے کے لیے ہے۔ جو لوگ اس دن کو ضائع کر دیتے ہیں، وہ حقیقت میں ایک عظیم نعمت سے محروم رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ عید ہم سب کے لیے بہترین ثابت ہو، ہمیں اپنی عبادات کو جاری رکھنے کی توفیق دے اور ہمیں اپنی مغفرت اور رحمت سے نوازے۔