Wednesday, 15 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Waqas
  4. Taleem, Khel, Tamasha Aur Ustad

Taleem, Khel, Tamasha Aur Ustad

تعلیم، کھیل، تماشہ اور استاد

پاکستان ایک عجیب ملک ہے۔ یہاں ناممکن کو ممکن بنانے کے دعوے تو روز ہوتے ہیں، مگر ممکن کاموں کو بھی ناممکن بنا دینا ہماری قومی مہارت بنتی جا رہی ہے۔ چاند پر انسان بستی بسا لے، مریخ پر کالونی بنانے کی منصوبہ بندی ہو جائے، مصنوعی ذہانت دنیا بدل دے، لیکن پاکستان میں ایک بچہ سکون سے بارہ سال تعلیم مکمل کر لے، یہ اب بھی کسی سائنسی معجزے سے کم نہیں۔

ہم تعلیم کی بات ایسے کرتے ہیں جیسے یہ ہماری پہلی ترجیح ہو، لیکن ہمارے فیصلے چیخ چیخ کر بتاتے ہیں کہ شاید تعلیم ہماری ترجیحی فہرست میں کہیں فٹ پاتھ کے کنارے کھڑی ہے۔

کبھی غربت بچے کا بستہ اٹھا کر اسے ورکشاپ پہنچا دیتی ہے، کبھی سیلاب سکول کو دریا میں تبدیل کر دیتا ہے، کبھی گرمی کلاس روم کو بھٹی بنا دیتی ہے، کبھی سردی بچوں کی انگلیاں جما دیتی ہے اور اگر یہ سب نہ ہو تو کوئی نیا حکم نامہ آ جاتا ہے جو پورے نظام کو دوبارہ "جدید" بنانے نکل کھڑا ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں تعلیم کا سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، ترجیحات کی خرابی ہے۔

ہر نئی حکومت ایک نئی تعلیمی انقلابی کہانی لکھنا چاہتی ہے۔ نئی پالیسی، نیا نصاب، نیا لوگو، نئی اصطلاح، نئی کمیٹی، نئی تقریب اور نئی تصویریں۔ بس ایک چیز کبھی نئی نہیں ہوتی۔۔ نتائج۔

ایسا لگتا ہے کہ ہر وزیرِ تعلیم اپنے آپ کو معمار نہیں بلکہ ڈیمولیشن انجینئر سمجھتا ہے۔ پہلے پچھلے منصوبے کو ختم کرو، پھر اپنا منصوبہ شروع کرو، تاکہ اگلی حکومت آ کر اسے بھی ختم کر دے۔ اس ملک میں شاید سب سے کم عمر چیز تعلیمی پالیسی ہوتی ہے۔

مزید دلچسپ منظر اس وقت بنتا ہے جب اربوں روپے کی ٹیکنالوجی خرید لی جاتی ہے، لیکن استاد کو یہ بتانے کی زحمت بھی نہیں کی جاتی کہ اسے استعمال کیسے کرنا ہے۔ شاید یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ تقرری کے ساتھ ہی استاد کے دماغ میں ایک خفیہ سافٹ ویئر بھی انسٹال ہو جاتا ہے۔

ہمارے تعلیمی دفاتر میں اکثر فائلوں کی رفتار بچوں کی سیکھنے کی رفتار سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔ اجلاس پر اجلاس ہوتے ہیں، تصاویر بنتی ہیں، پریس ریلیز جاری ہوتی ہیں، کامیابیوں کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ کلاس روم میں جا کر دیکھیں تو بلیک بورڈ پر آج بھی وہی گرد جمی ہوتی ہے جو برسوں پہلے تھی۔

معاشرہ بھی اس کھیل میں برابر کا شریک ہے۔ والدین پوچھتے ہیں، "میرے بچے کے کتنے نمبر آئے؟" بہت کم پوچھتے ہیں، "میرے بچے نے کیا سیکھا؟" سکول اشتہار میں ایئر کنڈیشنڈ کلاسیں دکھاتے ہیں، مگر اچھی تدریس کو اشتہار کا حصہ نہیں بناتے۔ ہم نے تعلیم کو سیکھنے کے عمل سے زیادہ ایک تجارتی پیکج بنا دیا ہے۔

اور استاد؟

وہ اس پورے نظام کا سب سے آسان ہدف ہے۔

نتائج خراب ہوں تو استاد قصوروار۔

بچہ غیر حاضر ہو تو استاد قصوروار۔

نصاب کمزور ہو تو استاد قصوروار۔

پالیسی ناکام ہو تو بھی استاد قصوروار۔

گویا پورا نظام دودھ کا دھلا ہے اور صرف استاد ہی ہر خرابی کا ذمہ دار ہے۔

سچ یہ ہے کہ ہم عمارتوں کو رنگ کرکے تعلیمی انقلاب کا اعلان کر دیتے ہیں، جبکہ بنیادیں برسوں سے دیمک کھا رہی ہوتی ہیں۔ ہم افتتاحی تختیاں لگانے میں اتنے مصروف ہیں کہ کلاس روم کی ٹوٹی ہوئی کرسی ہمیں نظر ہی نہیں آتی۔

دنیا کی کامیاب قوموں نے تعلیم کو سیاست سے اوپر رکھا۔ ہم نے سیاست کو تعلیم کے اوپر بٹھا دیا۔ وہاں پالیسیاں نسلیں بناتی ہیں، یہاں پالیسیاں حکومتوں کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی تبدیل ہو جاتی ہیں۔

اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ہماری جامعات عالمی درجہ بندی میں کیوں پیچھے ہیں، ہمارے بچے بنیادی خواندگی میں کیوں لڑکھڑا رہے ہیں اور ہمارے نوجوان روزگار کی دوڑ میں کیوں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

شاید اس لیے کہ ہم نے تعلیم کو قوم بنانے کا منصوبہ نہیں، اقتدار کی تشہیر کا منصوبہ بنا دیا ہے۔

جس دن اس ملک میں کسی وزیر کو نئے منصوبے کا افتتاح کرنے سے زیادہ پرانے سکول کی چھت مرمت کرانے پر فخر ہونے لگے، جس دن استاد کی تربیت کو نئی تقریب سے زیادہ اہمیت ملنے لگے اور جس دن بچے کو اعداد و شمار نہیں بلکہ انسان سمجھا جانے لگے، اس دن شاید ہمیں چاند پر بستی بسانے کی مثالیں دینے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

فی الحال تو حقیقت یہی ہے کہ دنیا خلا فتح کر رہی ہے اور ہم آج بھی یہ طے نہیں کر سکے کہ ہمارے بچوں کی کلاس میں کل چھت سلامت ہوگی، پنکھا چلے گا، استاد تربیت یافتہ ہوگا یا پھر ایک اور "تعلیمی انقلاب" کا اشتہار آ جائے گا۔

Check Also

Jharpein Aur Arab Maeeshat

By Hameed Ullah Bhatti