Numberon Ki Daur, Hunar Ki Haar
نمبروں کی دوڑ، ہنر کی ہار

ہر دور کی اپنی ایک خاموش چیخ ہوتی ہے۔ آج کے دور کی یہ چیخ تعلیمی اداروں کی دیواروں سے ٹکرا رہی ہے۔ کلاس رومز بھرے ہوئے ہیں، رجسٹر مکمل ہیں، امتحانات وقت پر ہو رہے ہیں، لیکن اس سب کے باوجود ایک خلا ہے، ہنر کا خلا۔ یہ خلا بتا رہا ہے کہ ہم کچھ بنیادی طور پر غلط کر رہے ہیں۔
ہم نے ایک ایسی فیکٹری بنا لی ہے جہاں انسان نہیں، ڈگریاں تیار ہوتی ہیں۔ بچے اسکول میں داخل ہوتے ہیں تو انہیں بتایا جاتا ہے کہ تمہاری کامیابی کا معیار تمہارے نمبر ہیں۔ وہ نمبر لینے کے لیے رٹہ لگاتے ہیں، راتیں جاگتے ہیں، کوچنگ سینٹرز کے چکر لگاتے ہیں اور پھر ایک دن ڈگری لے کر گھر آ جاتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد؟ زندگی کے میدان میں وہ کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں پتہ چلتا ہے کہ انہیں کچھ آتا ہی نہیں۔
یہ المیہ صرف ایک فرد کا نہیں، ایک قوم کا ہے۔
ہمارے اسکول اور کالجز بچوں کو سوچنا نہیں سکھاتے، سوال کرنا نہیں سکھاتے، ہنر نہیں دیتے۔ ہم نے تعلیم کو ایک دوڑ بنا دیا ہے، نمبر زیادہ، کامیابی زیادہ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں نمبر نہیں، مہارت کام آتی ہے۔ آپ ایک بہترین ڈگری کے ساتھ بھی ناکام ہو سکتے ہیں، لیکن ایک چھوٹی سی مہارت آپ کو دنیا میں کھڑا کر سکتی ہے۔
آپ ذرا مغرب کی طرف دیکھیں۔ امریکہ میں High Tech High ایک ایسا تعلیمی ادارہ ہے جہاں بچوں کو صرف کتابی علم نہیں دیا جاتا بلکہ حقیقی مسائل حل کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہاں طلبہ کو پراجیکٹس دیے جاتے ہیں، وہ چھوٹے چھوٹے سائنسی تجربات کرتے ہیں، سوشل ایشوز پر تحقیق کرتے ہیں، حتیٰ کہ اپنی کمیونٹی کے لیے عملی حل بھی پیش کرتے ہیں۔ وہاں ایک طالب علم نے اسکول کے دوران ہی ایک موبائل ایپ تیار کی جو مقامی لوگوں کے لیے پارکنگ کا مسئلہ حل کرتی تھی۔
اسی طرح امریکہ کی Olin College of Engineering میں انجینئرنگ کے طلبہ کو پہلے دن سے ہی مشینیں کھولنے، بنانے اور ناکام ہونے کی اجازت دی جاتی ہے۔ وہاں امتحان صرف پیپر نہیں ہوتا بلکہ آپ کیا بنا سکتے ہیں، یہ اصل امتحان ہوتا ہے۔ طلبہ اپنی تعلیم کے دوران ہی اسٹارٹ اپس شروع کر دیتے ہیں، پروڈکٹس ڈیزائن کرتے ہیں اور مارکیٹ میں اترتے ہیں۔
یورپ میں فن لینڈ کا تعلیمی نظام دنیا میں مثال سمجھا جاتا ہے۔ Finnish Education System میں بچوں کو رٹہ نہیں لگوایا جاتا بلکہ انہیں سکھایا جاتا ہے کہ مسئلے کو کیسے سمجھنا ہے۔ وہاں ہوم ورک کم، عملی کام زیادہ ہوتا ہے۔ بچے لکڑی کا کام بھی سیکھتے ہیں، کھانا پکانا بھی اور ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے جدید ہنر بھی۔ وہاں استاد کا کام صرف پڑھانا نہیں بلکہ بچے کی شخصیت بنانا ہوتا ہے۔
جرمنی میں Dual Education System Germany ایک ایسا ماڈل ہے جہاں تعلیم اور کام ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ایک طالب علم ہفتے کے کچھ دن اسکول جاتا ہے اور باقی دن کسی کمپنی میں عملی تربیت لیتا ہے۔ وہ صرف کتاب نہیں پڑھتا بلکہ مشینوں کے ساتھ کام کرتا ہے، حقیقی مسائل دیکھتا ہے اور ان کا حل تلاش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جرمنی میں بے روزگاری کی شرح کم ہے کیونکہ نوجوان تعلیم مکمل کرتے ہی ہنر مند ہوتے ہیں۔
اب ذرا دنیا کے اُن لوگوں کی طرف دیکھیں جنہوں نے روایتی تعلیم کے بغیر صرف مہارت کے بل بوتے پر تاریخ بدل دی۔
سٹیو جابز نے کالج ادھورا چھوڑ دیا، لیکن اپنی تخلیقی سوچ اور ڈیزائن کی سمجھ سے Apple کو دنیا کی سب سے قیمتی کمپنیوں میں بدل دیا۔
مارک زکر برگ نے بھی یونیورسٹی مکمل نہیں کی، مگر کوڈنگ کی مہارت نے اسے Meta جیسی عالمی طاقت بنانے میں مدد دی۔
بل گیٹس کا نام کون نہیں جانتا، انہوں نے بھی تعلیم ادھوری چھوڑی لیکن پروگرامنگ کی مہارت سے Microsoft کی بنیاد رکھی۔
اسی طرح ایک مشہور مثال ایلون مسک کی کمپنی Tesla کی ہے جہاں کئی ایسے انجینئرز کام کر رہے ہیں جن کے پاس روایتی ڈگریاں نہیں بلکہ عملی مہارت ہے۔ ایک بار انٹرویو میں ایلون مسک سے پوچھا گیا کہ کیا آپ صرف ڈگری ہولڈرز کو ملازمت دیتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: "نہیں، ہمیں مسئلہ حل کرنے والے لوگ چاہئیں، ڈگریاں نہیں"۔
یہ صرف امیر یا مشہور لوگوں کی کہانیاں نہیں ہیں۔ دنیا میں ہزاروں ایسے لوگ ہیں جنہیں بڑی کمپنیوں نے صرف اس لیے ملازمت دی کیونکہ ان کے پاس ہنر تھا، ڈگری نہیں۔ آج Google، Tesla اور IBM جیسی کمپنیاں کئی عہدوں کے لیے ڈگری کو لازمی شرط نہیں رکھتیں۔ وہ کہتے ہیں "ہمیں یہ دکھائیں کہ آپ کیا کر سکتے ہیں، یہ نہیں کہ آپ نے کیا پڑھا ہے"۔
اب ذرا واپس اپنے نظام کی طرف آئیں۔
ہمارے ہاں ایک بچہ اگر 95 فیصد نمبر لے آئے تو اسے ذہین سمجھا جاتا ہے اور اگر 70 فیصد لے تو اسے اوسط قرار دے دیا جاتا ہے۔ ہم نے ذہانت کو نمبروں میں قید کر دیا ہے۔ لیکن کیا کبھی کسی نے یہ پوچھا کہ وہ بچہ کیا کر سکتا ہے؟ کیا وہ کوئی چیز بنا سکتا ہے؟ کیا وہ کوئی مسئلہ حل کر سکتا ہے؟ کیا وہ اپنے خیالات کو عملی شکل دے سکتا ہے؟
جواب اکثر "نہیں" ہوتا ہے۔
ہماری یونیورسٹیاں تھیسس لکھوانے میں مصروف ہیں، لیکن طلبہ کو یہ نہیں سکھایا جاتا کہ مارکیٹ میں کیسے قدم رکھنا ہے۔ ہمارے کالجز میں لیبز ہیں، لیکن اکثر بند رہتی ہیں یا صرف رسمی کام کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ ہمارے اسکولوں میں کمپیوٹر پڑھایا جاتا ہے، لیکن بچے صرف "MS Word" تک محدود رہ جاتے ہیں۔
یہ وہ نظام ہے جو ہمیں کل کے لیے تیار نہیں کر رہا۔
دنیا بدل رہی ہے۔ آج کی دنیا میں وہی کامیاب ہے جو کچھ کر سکتا ہے، جو سکل رکھتا ہے، جو مسئلہ حل کر سکتا ہے، جو تخلیقی ہے۔ لیکن ہم اپنے بچوں کو ایک ایسے راستے پر ڈال رہے ہیں جہاں منزل صرف ایک کاغذ ہے۔
ہمیں اپنے نظامِ تعلیم کو بدلنا ہوگا۔
ہمیں بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ ناکامی بھی سیکھنے کا حصہ ہے۔ ہمیں انہیں یہ موقع دینا ہوگا کہ وہ چیزیں بنائیں، غلطیاں کریں، دوبارہ کوشش کریں۔ ہمیں نصاب میں ہنر شامل کرنے ہوں گے، کوڈنگ، ڈیزائن، کمیونیکیشن، کاروباری سوچ۔ ہمیں امتحانات کا معیار بدلنا ہوگا صرف لکھنے سے نہیں، کرنے سے کامیابی کو ناپنا ہوگا۔
اور سب سے اہم بات، ہمیں والدین اور اساتذہ کی سوچ بدلنی ہوگی۔
جب تک ہم خود یہ نہیں مانیں گے کہ نمبر سب کچھ نہیں، تب تک کچھ نہیں بدلے گا۔ ہمیں بچوں سے یہ پوچھنا ہوگا کہ "تم کیا بننا چاہتے ہو" نہیں بلکہ "تم کیا کرنا چاہتے ہو"۔
آخر میں، میں آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں۔ اگر آپ کے ہاتھ میں دو لوگ ہوں، ایک جس کے پاس ڈگری ہے لیکن کوئی ہنر نہیں اور دوسرا جس کے پاس ہنر ہے لیکن ڈگری نہیں تو آپ کس کو منتخب کریں گے؟
دنیا نے اس سوال کا جواب دے دیا ہے۔ اب ہماری باری ہے۔

